سہیل آفریدی ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ کیس میں ملزم نامزد ہوگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریاست کے ریڈیو سٹیشن ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملہ کے کیس میں آخر کار پولیس نے سہیل آفریدی کو بھی ملزم نامزد کر دیا۔ سہیل آفریدی حملے کے وقت پی ٹی آئی اور انساف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے لیڈر تھے، اب وہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہیں۔
پشاور پولیس نے ریڈیو پاکستان میں توڑ پھوڑ اور حملے کے دوران سہیل آفریدی کی وہاں موجودگی کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔
پشاور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت کے دوران پشاور کے تھانہ شرقی کی پولیس نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، جس میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موقع پر موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہونے والے ریڈیو پاکستان کے وکیل نے بتایا کہ فتیشی افسر نے چالان عدالت مین پیش کرنے کےلئے وقت مانگا ہے،عدالت نےتفتیشی افسر کو چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ آج پیش کی گئی پولیس رپورٹ میں سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم ، کامران بنگش اور دیگر کئی لوگ حملہ کے ملزم نامزد ہیں۔
پولیس کی تفتیش کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور پولیس نے نادرا اور لاہور فرانزک لیب سے ویڈیوز اور تصاویر کی تصدیق کرائی ہیں جن سے سہیل آفریدی اور دوسرے لوگوں کی پشاور مین ریدیو پاکستان کی عمارت پر حملے کے دوران وہاں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اب فورنزک لیب کی رپورٹ پولیس کو موصول ہوچکی ہے۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم اور کامران بنگش کی موجودگی کی نادرا اور لاہور فرانزک لیب سے تصدیق ہوگئی، جس کی بنیاد پر پولیس نے پیش رفت رپورٹ میں انہیں نامزد کیا ہے۔
سہیل آٖفریدی اس روز حملے کی قیادت کر رہے تھے؟
ریڈیو پاکستان پشاور پر حملہ نو مئی 2023 کو دن کے وقت شروع ہوا تھا، اس حملے کی بہت سی فوری ( فوری اور لائیو) رپورٹیں سوشل میدیا پر پوسٹ ہوتی رہیں اور تقریباً فوری رپورٹیں نیوز چینلز اور دوسرے صحافتی ذرائع بھی نشر اور شائع کرتے رہے، اس روز عمومی تاثر یہ تھا کہ سہیل آٖفریدی انصاف یوتھ ونگ کے خیبر پختونخوا کے صدر تھے۔ یہ گمان کیا جاتا رہا ہے کہ وہ یوتھ ونگ کے صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر کی حیثیت سے اس حملے میں شامل یوتھ ونگ کے کارکنوں کی قیادت کر رہے تھے۔ جو ویدیو کلپس سامنے آئیں ان میں بھی وہ قیادت کے کردار میں نمایاں نطر آئے۔
موجودہ کیس کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ PFSA نے 16 ویڈیوز میں ان کی شناخت کی، جبکہ بعد میں NADRA رپورٹ اور دیگر تفتیشی مواد بھی شامل ہوا۔ جنوری میں PFSA کی اصل رپورٹ نے چہروں کی شناخت کی تھی۔
ان ویڈو دستاویزات کی اصلی ہونے اور کسی ایڈیٹنگ سے پاک ہونے کی تصدیق کرنے کے لئے عدالت کی ہدایت پر ان ویڈیو کلپس کا فورنزک کروایا گیا جس کی بہت تاخیر سے رپورٹ آج عدالت کے سامنے لائی گئی۔