مریخ پر قدموں کے نشانات، حقیقت کیا نکلی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی خلائی ادارے ناسا کے کیوریوسٹی روور نے مریخ پر ایک ایسی دلچسپ دریافت کی ہے جس نے سائنس دانوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
مریخ پر تقریباً 14 سال سے تحقیق میں مصروف کیوریوسٹی روور نے ماؤنٹ شارپ کی جانب سفر کے دوران سطح پر چوڑے اور ہلکے گڑھے نما نشانات کی تصاویر بھیجی ہیں۔
یہ نشانات بظاہر انسانی قدموں کے نشان جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ حقیقی انسانی قدموں کے نشان نہیں ہیں اور ان سے مریخ پر کسی جاندار کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
ماہرین کے مطابق مریخ کی سطح پر اس طرح کے چھوٹے گڑھے اور نشیبی حصے بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
مزید پڑھیں:بغیر پائلٹ مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں میں موجود نسبتاً سخت کنکریاں یا معدنی گٹھلیاں طویل عرصے کے دوران گھِس کر ختم ہوجاتی ہیں۔
ان کے ختم ہونے کے بعد چٹان کی سطح پر خالی جگہ رہ جاتی ہے، جس سے ایسے گڑھے بن سکتے ہیں۔
اگرچہ ان نشانات کی سائنسی وجہ ممکنہ طور پر قدرتی عمل ہے، لیکن ان کی غیر معمولی شکل نے انہیں خاصا دلچسپ بنا دیا ہے۔
ناسا کے مطابق کیوریوسٹی نے اپنے طویل مریخی مشن کے دوران اس نوعیت کے نشانات پہلے نہیں دیکھے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ دریافت روور کے مریخ پر جاری سفر کے دوران سامنے آنے والی دلچسپ تصاویر میں شامل ہوگئی ہے۔