’’لارا لپاگرل‘‘میناشوری؛فلم بین ان کی اداکاری کونہیں بھولے
اصل نام خورشیدجہاں تھا،سہراب مودی نے ’مینا‘‘کا فلمی نام دیا ،98پاکستانی فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)’’لارالپاگرل‘‘میناشوری کومداحوں سے بچھڑے 39 برس بیت گئےمگر ان کی اداکاری کو فلم بین نہیں بھولے،انہوں نے ہندی،اُردواور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے،وہ 3 ستمبر1987ء کوکینسرکے باعث راہی ملک عدم ہوگئی تھیں۔
1922ء کو رائیونڈ میں پیدا ہونے والی مینا شوری کااصل نام خورشیدجہاں تھا،کچھ عرصے بعد ان کاخاندان کولکتہ چلاگیا جہاں سے ممبئی آیا اور وہاں سکونت اختیارکی،ممبئی میں ہی وہ مشہور فلمساز ،اداکار وہدایتکار سہراب مودی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں جواس وقت فلم ’’سکندر‘‘ بنارہے تھے،کہاجاتاہے کہ اس فلم میں پری چہرہ نسیم بانو پرتھوی راج کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کر رہی تھیں لیکن کسی وجہ سے انہوں نے فلم چھوڑ دی اوریوں مینا شوری کو موقع مل گیا،اس فلم میں انہوں نے مہاراجہ پورس کے بیٹے راج کمار امر کی محبوبہ کا کردار کیا،سہراب مودی نے ہی انہیں’’مینا‘‘ کا فلمی نام دیا اوروہ خورشیدجہاں سے مینا بن گئیں ۔
تقسیم کے بعد وہ بمبئی ہی میں رہیں،ان کی قابل ذکربھارتی فلموں میں چمن،مداری ،زیورات،انمول رتن، کالے بادل،دکھیاری،راج رانی، ایک تھی لڑکی،شری متی 420، آگ کا دریا ،پتھروں کے سوداگر، ڈھولک،ایک دو تین اور فلمستان لمیٹڈ کے تحت بننے والی فلم ’’ایکٹریس‘‘شامل تھیں۔
1949ء میں روپ کے شوری کی فلم ’’ایک تھی لڑکی‘‘میں مینا شوری ہیروئن اورموتی لال ہیرو تھے،اس فلم کا ایک کورس بے حد مشہورہوا’’لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا‘‘جسے لتا منگیشکر اور دیگر ساتھی گلوکارائوں نے گایا تھا،مینا شوری نے کمال مہارت سے یہ کورس عکس بند کروایاجس کے بعد مینا شوری کو ’’لارا لپا گرل‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا۔
مینا شوری نے پرتھوی راج اورموتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا،موتی لال کے ساتھ انہوں نے ایک اور فلم ’’ایک دو تین‘‘ میں بھی کام کیا،وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے خوش لباس ہیروئن تھیں اورجدید موسیقی میں بھی بہت دلچسپی لیتی تھیں۔
مینا شوری نےمبینہ طورپرپانچ شادیاں کی تھیں،پہلی شادی معروف فلم ساز روپ کے شوری ،دوسری ظہور راجہ ،تیسری علی ناصر،چوتھی رضامیر اور پانچویں اسدبخاری سے کی تھی، روپ کے شوری سے شادی کے بعد وہ میناشوری بن گئیں اور مذہب بھی تبدیل کرلیاتھا، 1956ء میں ایور ریڈی پکچرزکے جے سی آنند نے روپ کے شوری سے ایک فلم’’مِس 56‘‘ بنانے کا معاہدہ کیااور اس میں یہ بھی طے پایا کہ ٹائٹل رول ان کی بیوی مینا شوری کریں گی، کراچی میں قیام کے دوران ہی میناشوری نے ہدایتکار انور کمال پاشاکے ساتھ فلم ’’سرفروش‘‘ میں اہم کردار کرنے کا معاہدہ کیاجو سپرہٹ فلم ثابت ہوئی،کراچی میں ہی ایک اداکار انور اے جہانگیر جو ’’غلط فہمی‘‘ اور ’’چن وے ‘‘ کے ہیرو تھے سے دوستی ہوگئی جس پرمیناشوری نے شوہرکے ساتھ بھارت جانے سے انکار کردیا بعدازاں مینا نے جہانگیر کی مدد سے ایک معروف عالم دین کے سامنے اسلام قبول کیا۔
مینا شوری نے پاکستان کی 98فلموں میں کام کیا جن میں 59اردو اور 39پنجابی تھیں،ان کی قابل ذکرفلموں میں سرفروش،مِس 56،جگا ،جمالو،بڑا آدمی ،ستاروں کی دنیا، گل فروش ،بچہ جمہورا ،بہروپیا،آخری نشان، گلشن ،تین اور تین،پھول اور کانٹے،موسیقار ،خاموش رہو، مہمان ،مجاہد، ترانہ، الزام، ناجو، اک سی ماں، امام دین گوہاویہ شامل ہیں۔
وہ اردواور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔انہوں نے ہیروئن،سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار ادا کیے،کچھ فلموں میں ماں کے کردار بھی کئے۔’’موسیقار‘‘ میں صبیحہ خانم نے ہیروئن اورمینا شوری نے ویمپ کا کردار ادا کیاتھا۔انورکمال پاشا کی فلم’’سرفروش‘‘میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی اداکاری کوبھی پسند کیاگیا،ان پر زبیدہ خانم کا گایا ہوا گیت ’’تیری اُلفت میں صنم دل نے بہت درد سہے‘‘بہت مقبول ہوا تھاجس کی فلمبندی کے دوران انہوں نے چہرے کے تاثرات سے بھرپور کام لیا۔1957 ء میں ان کی فلم ’’بیداری‘‘ بھی کامیاب رہی،1964ء میںآنیوالی فلم’’خاموش رہو‘‘ میں انہوں نے’’میڈم‘‘ کا کردار ادا کیاتھا۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت
بھارت کے معروف فنکار موتی لال نے ایک مرتبہ مینا شوری کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہایت باصلاحیت اداکارہ ہیں،ان کے ساتھ کام کرکے انہوں نے بہت طمانیت محسوس کی،انہیں ہندوستان واپس آجانا چاہیے تھا،اگر وہ واپس آجاتیں تو سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنیوالی اداکارہ ہوتیں۔
مینا شوری آخری عمر میں مالی تنگدستی کا شکار رہیں کیونکہ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کردیا تھا، انہیں آخری بار سرکاری ٹی وی کے پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘میں دیکھاگیاتھا۔