نئے صوبوں کی تشکیل سے پسماندہ اضلاع کے عوام کو بہترین طبی سہولیات بھی میسر ہوں گی
تحریر؛ عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
ذرا تصور کیجیے ،،، لاہور سے تقریبا 380 کلومیٹر دور پنجاب کے ایک پسماندہ ضلعے بھکر میں اگر کوئی شخص گرم پانی گرنے یا اچانک آگ بھڑکنے سے بُری طرح جھلس جائے تو ایسے مریضوں کے لیے بھکر میں وہ طبی سہولیات موجود نہیں جن کی انہیں فوری ضرورت ہوتی ہے ،،، ایسا کیوں ہے؟ کیا بھکر کے عوام کا حق نہیں کہ انہیں ایک اچھا برن سنٹر ان کے اپنے علاقے کی کسی ہسپتال میں ملے؟ کیا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ایسے مسائل کو آسان حل دے سکتے ہیں؟
آگ یا گرم پانی سے شدید جھلسنے والے بھکر کے مریض کو جو سہولت اپنے علاقے میں میسر نہیں اُس سہولت کے لیے اُسے فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے ،،، بھکر سے فیصل آباد کا فاصلہ تقریباً 240 کلومیٹر ہے اور یہ سفر ایمبولینس میں بھی عموماً 4 سے 5 گھنٹے لے سکتا ہے ،،، جس مریض کو فوری طبی امداد، ماہر ڈاکٹروں اور برن یونٹ کی ضرورت ہے، وہ کئی گھنٹوں تک سڑک پر زندگی اور موت کی جنگ لڑتا رہتا ہے ،،، اور بعض اوقات منزل آنے سے پہلے ہی زندگی کا سفر ختم ہو جاتا ہے ،،، یہ صرف ایک مریض کا مسئلہ نہیں ،،، یہ پورے خطے کے ہزاروں لوگوں کا سوال ہے؟
سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنا کر نئے صوبے تشکیل دیے جائیں تو کیا اس کا فائدہ بھکر جیسے پسماندہ اضلاع کو نہیں ہونا چاہیے؟ ایک نیا انتظامی صوبہ یا مضبوط علاقائی نظام بھکر میں جدید ہسپتال، جدید برن یونٹ، تربیت یافتہ طبی عملہ اور ہنگامی طبی سہولیات کی بنیاد رکھ سکتا ہے ،،، تاکہ کسی ماں کا بیٹا، کسی باپ کی بیٹی، کسی بچے کا والد یا والدہ صرف اس لیے زندگی سے محروم نہ ہو کہ اس کے شہر میں بروقت علاج کی سہولت موجود نہیں تھی ،،، ترقی صرف سڑکیں بنانے کا نام نہیں۔
ترقی یہ بھی ہے کہ زندگی بچانے کے لیے ہسپتال مریض کے قریب ہو۔
بھکر کو ایک ایسا ہسپتال ملنا چاہیے ،،، جہاں حادثے کے بعد مریض کو سینکڑوں کلومیٹر دور لے جانے کی بجائے ،،، بروقت علاج اسی خطے میں مل سکے ،،، کیونکہ زندگی اور موت کے درمیان بعض اوقات صرف چند گھنٹوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔