روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، انتظامی یونٹس نہ بنائے 

از : عامر رضا خان 

Sep 15, 2026 | 16:43:PM
روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، انتظامی یونٹس نہ بنائے 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

دسمبر 1991 کو روس ٹوٹ گیا، دنیا کا سب سے بڑا ملک جو 15 ریاستوں کا ایک مجموعہ تھا، جسے دنیا یو ایس ایس آر کہتی تھی۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ آہستہ آہستہ ان ریاستوں میں خود مختاری کا شعور بیدار ہونا شروع ہوا، تمام ریاستوں میں روس سے الگ ہونے کی تحریک جنم لینا شروع ہوئی، افغان وار نے روس کو بدحالی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور اُن حالات میں بھی ریاستوں کو اختیار دینے کو روسی تیار نہ ہوئے۔ کریملن کے فیصلے ریاستوں پر تھوپے جاتے رہے، عوام کے جذبات کو وسائل اور مسائل کے کُلیے کو نہ سمجھا گیا، عوام میں احساس محرومی بڑھتا گیا اور اُسی کا نتیجہ تھا کہ اتنے سال سے دبا لاوہ ابلنا شروع ہوا اور یہ لاوہ اس تیزی سے ابلا کہ روس ٹوٹ گیا۔

 ریاستوں کو حاکمیت دینا پڑی جو صرف اپنے فیصلے خود کرنے کے مطالبات کر رہے تھے انہیں مکمل آزاد کرنا پڑا۔ اگر اُس وقت انتظامی معاملات میں اختیارات کو تقسیم کیا جاتا تو روس نہ ٹوٹتا۔ یقیناً اس میں اور بھی وجوہات موجود ہوں گی لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ ایک وجہ یہ بھی تھی ۔
آج پاکستان کو آبادی کے پھیلاؤ اور دیہات سے شہروں کی طرف تیزی سے منتقلی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ احساس محرومی اور احساس کمتری بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے، لوگ اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے قصبوں اور شہروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ایک کے بعد ایک مسئلہ آئے روز سر اٹھاتا ہے، کہیں صحت کا، کہیں آلودگی کا، کہیں پٹوار کا اور کہیں پولیس سرکار کا، گرین علاقے ختم اور کنکریٹ کے جنگل اُگ رہے ہیں، آج بھی صوبائی کریملن میں بیٹھے چند چہرے سب اچھا کی آواز لگا رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سکھ چین کی بانسری بجا رہے ہیں اور عوامی بھینس اس بین کے سامنے ناچ رہی ہے۔

عملاً عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں، چار ساڑھے چار کروڑ پر ہم نے ملک الگ مانگ لیا لیکن آج کراچی دو کروڑ سے زائد کی آبادی کا شہر ہے ہم اس کو الگ انتطامی یونٹ بنانے کو تیار نہیں۔ پنجاب ساڑھے 13 کروڑ کا صوبہ ہے اور ہم اس کو جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کے انتطامی یونٹس میں تقسیم کرنےکو  تیار نہیں، جب اختیارات اور سرمایہ ارتکاذ کا شکار ہو جائے تو یہ ٹھہرے ہوئے پانی کی مانند بدبودار اور بعض حالات میں زہریلا ہوجاتا ہے اور یہ زہر اگر قوموں میں سرائیت کر جائے تو پھر اس زہر سے قومی واحدانیت و یکانگت کو گرہن لگ جایا کرتا ہے۔
کیا ہم نے آج بھی روس سے سبق نہیں سیکھا، روس چھوڑ ہم نے تو تاریخ کے کسی موڑ پر قوموں کے عروج و زوال سے ہی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور جو قومیں تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتیں وہ تاریخ ہو جایا کرتی ہیں، آج ہمیں اپنے اندر کے تکبر اور گھمنڈ اقتدار کے لالچ سے بالاتر ہو کر پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا اور ملک کی سالمیت کا سوچنا چاہیے۔ اگر آج بھی ہم ضد پر اڑے رہے، اقتدار سے چمٹے رہے تو یاد رکھیں عوامی جذبات کا ریلا کسی زار ، کسی کائی شک ، کسی برٹش اور فرانسیسی ایمپائر کو نہیں دیکھتا سب کچھ بہا لے جاتا ہے ۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر

Amir Raza Khan

عامر رضا خان سٹی نیوز نیٹ ورک میں 2008 سے بطور سینئر صحافی اپنی خدمات سرانجام دے رہے۔ 26 سالہ صحافتی کیریر مٰیں کھیل ،سیاست، اور سماجی شعبوں پر تجربہ کار صلاحیتوں سے عوامی راے کو اجاگر کررہے ہیں