معاشی اورسماجی ذمہ داری کااحسساس اوربنام سرکار

معاشی مسائل اپنی جگہ لیکن سماجی ذمہ داری کا احساس ہر شہری پر لازم ہے،’’بنام سرکار‘‘میں گفتگو 

May 09, 2026 | 14:55:PM
معاشی اورسماجی ذمہ داری کااحسساس اوربنام سرکار
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پروگرام “بنام سرکار” میں اینکر زوہیب سلیم بٹ نے شہری زندگی کے ایک نہایت اہم مگر مسلسل نظر انداز کیے جانے والے مسئلے کو موضوع بنایا، جس کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی، ٹریفک کے نظام، سماجی رویّوں اور شہری ذمہ داری سے ہے۔

 ترقی یافتہ معاشروں میں صرف جدید سڑکیں، بلند عمارتیں یا بڑے منصوبے ترقی کی علامت نہیں سمجھے جاتے بلکہ وہاں کے شہریوں کا نظم و ضبط، قانون کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کا احساس اصل پہچان ہوتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے جہاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معمول بنتی جا رہی ہے اور شہری شعور مسلسل زوال کا شکار نظر آتا ہے۔
اینکر زوہیب سلیم بٹ نے شہر کی مختلف شاہراہوں، بازاروں اور اہم چوکوں کا جائزہ لیتے ہوئے نشاندہی کی کہ موٹر سائیکل سوار، رکشہ ڈرائیور، کار مالکان اور یہاں تک کہ پیدل چلنے والے افراد بھی ٹریفک قوانین کو اہمیت نہیں دیتے، پیدل چلنے والوں کیلئے بنائے گئے فٹ پاتھ تجاوزات کی نذر ہو چکے ہیں جبکہ شہری مجبوراََ سڑکوں پر چلتے دکھائی دیتے ہیں، دوسری جانب گاڑی چلانے والے لین اور لائن کی پابندی کے بغیر اپنی مرضی سے راستے تبدیل کرتے ہیں جس کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے بلکہ حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

پروگرام کے دوران مختلف مقامات پر یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ اوورٹیک کرتے وقت انڈیکیٹر کا استعمال نہ کرنا، اچانک گاڑی موڑ دینا اور ون وے سڑکوں کو شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کرنا روز کا معمول بن چکا ہے،چند لمحوں کی جلد بازی کئی شہریوں کیلئے گھنٹوں کی پریشانی میں تبدیل ہو جاتی ہے،رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مین شاہراہوں کے درمیان ہی لوڈنگ اور آف لوڈنگ کا عمل جاری رہتا ہے، دکاندار اور ٹرانسپورٹر حضرات بڑی گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کر کے سامان اتارتے رہتے ہیں جس سے ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ 
شہریوں کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے وقتی کارروائیاں تو کرتے ہیں مگر مستقل بنیادوں پر کوئی مؤثر حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی،دوموریہ چوک سمیت شہر کے کئی اہم چوکوں پر صورتحال مزید تشویشناک نظر آئی جہاں ٹریفک سگنلز کی موجودگی کے باوجود شہری اپنی مرضی کے مطابق راستہ بناتے اور قانون کی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیے، موٹر سائیکل سوار فٹ پاتھوں پر چڑھ جاتے ہیں جبکہ رکشہ ڈرائیور سڑک کے درمیان سواریوں کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں، اکثر شہری انہیں کچھ کہنے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کہ وہ غریب آدمی کے روزگار کا احترام کرنا چاہتے ہیں، مگر یہی مجبوری بعض اوقات سینکڑوں افراد کیلئے اذیت کا باعث بن جاتی ہے۔


ماہرینِ سماجیات کے مطابق معاشی مسائل اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن سماجی ذمہ داری کا احساس بھی ہر شہری پر لازم ہے، اگر کوئی شخص رزقِ حلال کمانے کیلئے سڑک پر نکلتا ہے تو اسے دوسروں کیلئے مشکلات پیدا کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے، اسی طرح شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ قانون کی پابندی کو صرف جرمانے سے بچنے کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے اجتماعی بھلائی کا حصہ تصور کریں۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق شہری تعاون کے بغیر نظام کو بہتر بنانا ممکن نہیں، اگر لوگ خود ہی ون وے کی خلاف ورزی، غلط پارکنگ اور اشاروں کو نظر انداز کریں گے تو حادثات اور ٹریفک جام میں اضافہ ناگزیر ہو گا، شہری حلقوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف جرمانوں تک محدود رہنے کے بجائے آگاہی مہمات بھی شروع کرے تاکہ لوگوں میں Civic Sense کو فروغ دیا جا سکے۔

پروگرام “بنام سرکار” کے میزبان زوہیب سلیم بٹ نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ سڑک پر دوسروں کیلئے آسانی پیدا کرے، نہ کہ مشکلات،معاشرہ صرف قوانین بنانے سے نہیں بدلتا بلکہ ان قوانین پر عمل کرنے سے بہتری آتی ہے، جب تک ہم اپنی سہولت سے بڑھ کر دوسروں کے حق، وقت اور تکلیف کا احساس نہیں کریں گے، تب تک ٹریفک کے مسائل، بدنظمی اور حادثات ہمارے شہروں کا مقدر رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف سرکار کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے خود بھی اپنے رویّوں کا جائزہ لیں، کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد باشعور شہری ہی رکھتے ہیں۔