نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟
تحریر : سید نفیس جعفری
Stay tuned with 24 News HD Android App
ویسے تو نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں ہے، ملک کے طول و عرض سے مختلف ادوار میں نئے صوبوں کی آوازیں اٹھتی رہی ہیں، کبھی صوبہ ہزارہ کی بات ہوئی توکبھی سرائیکی صوبے کی تحریک شدت پکڑ گئی، کبھی جنوبی پنجاب کی بات ہوئی تو کبھی صوبہ پوٹھوہار کی بات کی گئی، کبھی بہاولپورکو صوبہ بنانے کی بات ہوئی توکبھی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا ذکر ہوا اور تو اور وفاقی حکومت کے زیرانتظام سرحدی علاقوں فاٹا کو بھی صوبہ بنانے کی تجویزسامنے آئی،بات یہیں تک نہیں رکی، پاکستان کے 35 صوبے بنانے کی بات بھی کی گئی۔
اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کے بعد ملک بھر میں نئے صوبوں پر بحث شدومد سے جاری ہے۔ ملک کے ہرحصے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ 18ویں ترمیم میں صوبوں کو بااختیار بنانے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اورعوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔
لیکن 2010 میں18ویں ترمیم منظورہوئے آج 16 سال ہو چکے ہیں لیکن عوام کے مسائل حل ہونے تو کجا ان کے مسائل میں اضافہ ہی ہوا ہے۔صوبوں کو بااختیار بنانے کے باوجود عوام بے اختیار ہیں اگر اختیار ہے صرف اشرافیہ، بیورکریسی اوران کے عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس۔
عوام کے مسائل حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ بڑے انتظامی یونٹس اور بڑے صوبے ہیں، انٹرنیٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اے آئی کے دورمیں جہاں معاملات چند منٹوں میں حل کئے جا سکتے ہیں، وہاں اشرافیہ اور بیوروکریسی عوامی مسائل حل کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لیتی اور صوبے کے دوردراز سے آئے شہریوں کو خوار کرنا یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں، جہاں عوام طویل سفر اور ڈھیر سرمایہ خرچ کر کے بھی اپنے مسائل حل نہ کرا سکیں وہاں انہوں نے بڑے صوبے اور بڑے انتظامی یونٹس کیا کرنے ہیں؟ بیوروکریسی نے عوام کو فائلوں اور کاغذوں کے ایسے چکرمیں پھنسا رکھا ہے کہ آدمی گھن چکر بن کر رہ گیا ہے۔
پنجاب کو دیکھ لیں، 12 کروڑعوام سے زائد کا صوبہ ہے اور یہ دنیا کے کئی ممالک سے بڑا بھی ہے، یہاں کا ایک وزیراعلیٰ، ایک آئی جی اورایک چیف سیکریٹری کیا کیا کرے گا؟ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کے رہنے والے کیا اپنا ہرمسئلہ لے کرلاہور آئیں؟ شمالی پنجاب والے کہاں جائیں؟ اگر پوٹھوہار ریجن کے رہنے والوں کے مسائل وہیں حل ہو جائیں تو انہیں لاہور آنے کی کیا ضرورت؟
پاکستان اب 25 کروڑسے زائد آبادی والا ملک بن چکا ہے لیکن ہماری انتظامی تقسیم آج بھی وہی1947 والی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا 4 بڑے صوبوں سے 24 کروڑ لوگوں کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے؟ جواب ہے، نہیں،اسی لیے ملک میں نئے صوبے اورنئے انتظامی یونٹس جتنے جلدی ہو سکیں بنا دینے چاہییں اورصوبے لسانی یا گروہی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی بنیادوں پر بننے چاہییں،مقصد عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں،جب انتظامی یونٹ چھوٹا ہو گا تو فیصلہ سازی تیز ہو گی، کرپشن کم ہو گی اور عوام کی حکام تک رسائی آسان ہو گی۔
نئے اور چھوٹے صوبے بننے سے ترقی اور روزگار کے نہ صرف نئے مواقع میسر ہوں گے بلکہ تعمیروترقی کی رفتاربھی بڑھے گی۔ انفراسڑکچرکی صورت حال بہتر ہو گی اورتواور چھوٹے شہر بھی ترقی کے مرکز بن جائیں گے۔
جو لوگ کہتے ہیں زیادہ صوبے بننے اور نئے انتظامی یونٹس بننے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہےان کیلئے اتنا ہی عرض ہے، ترکی میں 81 صوبے ہیں، امریکا میں 50 ریاستیں ہیں، انڈونیشیا میں 38 صوبے ہیں اور بھارت میں 28۔
کیا یہ سب ملک ٹوٹ گئے یا وہاں چھوٹے صوبے ہونے سے اندازحکمرانی بہترہوا اورعوام خوشحال۔
یہ بھی پڑھیں ؛ مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کیلئے بھی خطرہ قرار