نئے صوبے طلبا کے شاندار مستقبل کے لیے بھی ضروری

تحریر :عدیل احمد

Sep 11, 2026 | 19:20:PM
نئے صوبے طلبا کے شاندار مستقبل کے لیے بھی ضروری
سورس: 24News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ضلع ڈیرہ بگٹی ، یہاں اگر کوئی لڑکی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھے  تو اسے اپنے خواب کی تکمیل کے لیے تقریباً ساڑھے 3 سو کلومیٹر دور کوئٹہ کا سفر کرنا پڑتا ہے ، ایسا سفر جو چند گھنٹوں میں نہیں، بلکہ تقریباً 10 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے  لیکن اصل مسئلہ صرف 350 کلومیٹر کا فاصلہ نہیں, اصل مسئلہ وہ فاصلے ہیں جو معاشرہ، حالات اور مجبوریاں پیدا کرتی ہیں۔

ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی کسی بیٹی کے لیے سیکڑوں کلومیٹر دور جا کر رہنا اور تعلیم حاصل کرنا والدین کے لیے ہمیشہ آسان فیصلہ نہیں ہوتا ، والدین کے اپنے خدشات ہوتے ہیں ، سماجی دباؤ ہوتا ہے ، حفاظت کے سوالات ہوتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ سوچ ہوتی ہے کہ ’ہم اپنی بیٹی کو اتنی دور اکیلے کیسے بھیجیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سی بیٹیاں اپنے خوابوں کو دل میں لیے اپنے ہی گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں ، شاید ان میں سے کوئی بہترین ڈاکٹر بن سکتی تھی ، کوئی اپنے علاقے کی پہلی خاتون سرجن بن سکتی تھی ، کوئی سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں بدل سکتی تھی  لیکن خواب اور منزل کے درمیان موجود فاصلہ اس کے راستے کی دیوار بن جاتا ہے۔

اب ذرا ایک مختلف پاکستان کا تصور کیجیے ، ایسا پاکستان جہاں اعلیٰ تعلیم صرف بڑے شہروں تک محدود نہ ہو ، جہاں چھوٹے اور پسماندہ اضلاع کے قریب میڈیکل کالجز، یونیورسٹیاں اور جدید تعلیمی ادارے موجود ہوں  جہاں ڈیرہ بگٹی کی ایک بیٹی کو ڈاکٹر بننے کے لیے اپنا گھر چھوڑ کر سینکڑوں کلومیٹر دور جانے کی ضرورت نہ پڑے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث صرف سیاست نہیں رہتی ، اگر نئے انتظامی یونٹس بہتر منصوبہ بندی، مؤثر حکمرانی، مقامی سطح پر اداروں کے قیام، اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی بہتر تقسیم کا ذریعہ بنیں تو شاید ترقی ان علاقوں تک بھی پہنچ سکے۔ جہاں آج بنیادی سہولیات کے لیے بھی طویل سفر کرنا پڑتا ہے ، نئے صوبے صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا نام نہیں ، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کے خواب ان کے گھروں کے قریب لا سکتے ہیں؟ کیا ہم ایسی بیٹیوں کے لیے راستہ بنا سکتے ہیں جو ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا سائنس دان بننا چاہتی ہیں؟

یاد رکھیے ، ترقی صرف لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کوئٹہ کا حق نہیں ، ترقی کا حق ڈیرہ بگٹی کی اس بیٹی کا بھی ہے جو سفید کوٹ پہننے کا خواب دیکھتی ہے  اور شاید اس خواب کو پورا کرنے کے لیے اسے 350 کلومیٹر نہیں بلکہ صرف 350 قدم کا راستہ چاہیے ، کیونکہ جب تعلیم لوگوں کے دروازے تک پہنچتی ہے،تو خواب صرف دیکھے نہیں جاتے حقیقت بھی بنتے ہیں۔