نیپال !سیلاب تباہ کاریاں اور انسانیت

تحریر:سید عارف نوناری

Sep 12, 2026 | 15:13:PM
نیپال !سیلاب تباہ کاریاں اور انسانیت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

نیپال سیلاب کی تعمیر نو کے لیے 4.78 ارب ڈالر کی ضرورت ہے نیپالی وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اجلاس سے خطاب بھی کریں گے فوری نوعیت کے ریلیف کے لیے 57.67ملئین ڈالر درکار ہیں عمارتوں کی تعمیر کے لیے 15.8 ملئین ڈالر چاہیں ہیں اقوام متحدہ نے 84000متاثرین کی امداد کے لیے 50 ملئین ڈالر کی اپیل کی ہے  اگست 2026ء کی صبح، دریائے تریشولی کے سیلاب نے نیپال کے راسوا اور نواکوٹ اضلاع میں درجنوں بستیوں کو متاثر کیا۔ سیلاب نے چین نیپال سرحد پر گییرونگ بندرگاہ کے علاقے کو بھی متاثر کیا، جو سرحد پار تجارت اور سیاحت کا ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے آباد علاقوں کو کافی نقصان پہنچا   نیپال میں کم از کم 1428سے زائد اور چین میں 3 اموات کی تصدیق کی ہے۔ 5649سے زیادہ افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، مقامی باشندوں اور سیاحوںکی تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔  راسوا، نواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتوان اضلاع میں دریاؤں کے کنارے آباد علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی نیپال میں متاثرین انسانیت کو امداد کے لیے پکار رہی ہے سیلاب نہ صرف ایشیاء کے ممالک میں آتے ہیں بلکہ یورپی 'افریقی '  ترقی یافتہ ممالک میں بھی تباہی و بربادی کا سبب بنتے ہیں جس سے نقل و حمل کے ذرائع بری طرح متاثر ہوتے ہیں اس کے سبب بحالی کے کاموں میں بھی مشکلات آتی ہیں۔

دنیا کے تمام ممالک سیلاب کے سد باب کے لیے اقدامات کرتے ہیں لیکن وہ قدرتی آفات کے سامنے بے بس ہیں حکومتی منصوبے بھی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اموات ہوتی ہیں بے رحمی کی حالت دیکھی نہیں جاتی کہ کس طر بستیوں کی بستیاں دریا برد اور پانی کی نظر ہو جاتی سڑکوں اور تعمیرات کا نقصان معیشت پر بہت ہی برے اثرات ڈالتا ہے ملک کی آبادی میں سیلابوں کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہو جاتاہے نیپال میں سیلاب کے مناظر دیکھ رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کس طرح لوگ اپنی موت کو سامنے دیکھ رہے تھے لیکن بے بسی کا عالم تھا پانی ان کے اوپر سے دیکھتے ہی دیکھتے ان کو موت کے منہ تک لیکر جا رہا ہے نیپال میں مزید سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔نیپال میں ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک چار ہزار  سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

حکام کے مطابق شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں کے باعث متاثرہ علاقوں تک رسائی بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، نیپال میں 18 ہزار سے زیادہ امدادی کارکن ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں اور مزید رضاکار دیگر ممالک سے شامل ہو ئے ہیں   خراب موسم اور دشوار گزار راستے امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔حکام نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد پہنچانے کا عمل تیز کر دیا  اور بعض مقامات پر ریسکیو کے لیے ڈرونز کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔سیلاب میں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں، نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق تین سو سے زائد غیر ملکی شہریوں کو ریسکیو کیا جا چکا  مزید 800 غیر ملکی تاحال لاپتہ ہیں، ریسکیو کیے جانیوالوں میں 167 انڈین، 40 چینی، آٹھ یوکرینی، چار جرمن، چار مالٹیز اور تین امریکی شہری بھی شامل ہیں۔اقوامِ متحدہ کی نیپال میں نمائندہ لیلا پیٹرز یحییٰ نے بتایا ہے کہ امدادی سامان تو پہنچ رہا ہے، مگر متاثرین تک پہنچانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔لیلا پیٹرز یحییٰ کے مطابق بھارت اور چین کی ریسکیو ٹیمیں  پہنچی ہیں، اضافی مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں، لیکن راستوں کی خراب صورتحال امدادی کام میں بڑی رکاوٹ ہے، رسائی بہت مشکل ہے، اسی لیے امداد لوگوں تک پہنچانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ حکومت نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سامان کی ایئرلفٹنگ شروع کر دی ،  ڈرون کے ذریعے امداد پہنچانے کے لیے بھی کارووائیاں جاری ہیں ، خراب موسمی حالات بھی  مسئلہ بن رہے ہیں۔

نیپال کے سرحدی علاقے میں تباہ کن سیلاب اور تبت میں مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے لاشیں نکالنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں لاشیں تودوں کے نیچے دب گئی ہیں ۔نیپالی ضلع راسووا میں سیلابی ریلے سے ہلاکتوں کی تعداد  1428ہو گئی ، سیکڑوں لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ 100 بھارتی اور 25 چینی شہریوں کو تلاش کر لیا گیا ۔نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتہ افراد میں 33 ممالک کے 517 غیرملکی شہری بھی شامل ہیں، لاپتہ غیرملکیوں میں 178 بھارتی، 65 امریکی، 53 یوکرینی، 55 ملائیشین، 35 آسٹریلوی، 33 برطانوی، 25 کینیڈین اور 9 جنوبی کوریائی شہری شامل ہیں۔دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت کے علاقے گیرونگ میں مٹی اور چٹانوں کے تودے گرنے سے 800 غیرملکیوں سمیت ہزاروں لوگ افراد لاپتہ ہیں۔سیلاب اور مٹی کے ریلوں سے سرحدی علاقوں میں گھروں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، صورتحال کے پیش نظر بھارت میں بھی سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔

نیپال نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے ہمسایہ ممالک سے خصوصی مدد طلب کی ہے، جس میں ملبے اور سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے، زندہ افراد کی تلاش کی جدید ٹیکنالوجی، فوری ڈی این اے اور فرانزک تجزیے اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کے انتظامات شامل ہیں۔ بھارت نے سرنگوں میں ریسکیو کے لیے 11 رکنی خصوصی ٹیم روانہ کر دی جبکہ چین سے بھی امدادی ٹیم کی آمد متوقع ہے۔ نیپالی حکام کے مطابق تباہ شدہ علاقوں کی بحالی پر اربوں ڈالر لاگت آنے کا امکان ہے۔ نیپال میں تباہ کن سیلاب اور شدید بارشوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1428 سے تجاوز کر گئی ہےتعداد میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے پانچ ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ نیپال میں پھنسے 169 ہندوستانی شہریوں کو اب تک محفوظ نکالا جا چکا ہے 275 ہندوستانی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی  ہے  بریفنگ کے دوران نیپال میں جاری امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں گئیں  بتایا گیا کہ ترشولی بازار سے مزید تین ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔ ان میں ابھیجیت سریش پوار، دیپیکا ابھیجیت پوار اور ان کا پانچ سالہ بیٹا سمرتھ ابھیجیت پوار شامل ہیں۔ ہندوستان نے نیپال کی ضرورت کے مطابق امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید فارنسک کٹس، بیلی برج اور دیگر ضروری سامان نیپال بھیجنے کا منصوبہ ہے، جن کی درخواست نیپالی حکومت نے کی ہے۔

ہندوستانی طیارے 21 ٹن امدادی سامان لے کر کھٹمنڈو پہنچے تھے۔ اب تک سات طیاروں کے ذریعے تقریباً 95 ٹن امدادی سامان نیپال پہنچایا جا چکا ۔اس کے علاوہ ہندوستان نے امدادی اور بچاؤ کارروائیوں میں نیپالی حکام کی مدد کے لیے 54 ماہرین بھی بھیجے ہیں۔ ان میں 30 سرنگوں میں بچاؤ کے ماہرین، 19 فارنسک ماہرین اور پانچ ارکان پر مشتمل ایک طبی ٹیم شامل ہے۔ یہ ٹیمیں نیپال میں موقع پر تعینات ہیں اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں 1907 ہندوستانی شہری چین سے بحفاظت نیپال پہنچ چکے ہیں۔  تبت سے 155 نیپالی شہریوں کو بھی بچایا گیا، جن میں 145 کا تعلق رسوا ضلع سے ہے۔

نیپال میں سیلاب اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور متعدد علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ حکام لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کارروائیاں تیز کر رہے ہیں۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر