معروف اداکارہ شمیم آراء کوبچھڑے دس برس بیت گئے
100 کے قریب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، 21 فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)معروف اداکارہ اور ہدایتکارہ شمیم آرا کو مداحوں سے بچھڑے10برس بیت گئے،روشن چہرے،خوب صورت آواز اور دل کوموہ لینے والے انداز کی حامل اس اداکارہ نے برسوں پاکستان فلم انڈسٹری اورفلم بینوں کے دلوں پر راج کیا اورپھر اپنی پوری چَھب اورپوری آب وتاب دکھانے کے بعد یہ ستارہ بھی انجانی منزلوں کی جانب روانہ ہوگیا۔
شمیم آراء کے ذکرکے بغیرپاکستان کی فلمی صنعت ہمیشہ ادھوری رہے گی،انہوں نے اداکاری اورہدایت کاری کے ساتھ ساتھ کئی اداکارائوں کے لئے ’’گاڈمدر‘‘کا کردار بھی ادا کیا جنہوں نے آگے چل کر فلمی صنعت میں بہت زیادہ نام کمایا،وہ دماغ کی سرجری کے دوران کوما میں چلی گئی تھیں اور2010ء سے اس حالت میں لندن کے ہسپتال میں زیرعلاج تھیں،وہیں انہوں نے زندگی کی آخری سانسیں لیں جہاں ان کا بیٹا سلمان ان کی دیکھ بھال کرتا رہا۔

شمیم آراء کاشاندار فلمی کیریئر کئی برسوں پر محیط ہے، ’’کنواری بیوہ‘‘ ان کی پہلی فلم تھی جس نے اگرچہ باکس آفس پر زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی لیکن ان کے کردار کوبہت پذیرائی ملی جس نے آگے چل کر ان پر مزید فلموں کے در وا کئے،ان فلموں میں دیوداس، دوراہااورہم راز جیسی فلمیں شامل ہیں۔فلمی صنعت کے لئے اداکاری کے بعد بطور ہدایت کارہ اور بطور پروڈیوسر بھی ان کی خدمات گراں قدر ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،شمیم آراء کا حقیقی نام پُتلی بائی تھالیکن فلموں میں کام کیلئے شمیم آراء کا نام اپنایا اورپھر یہی نام ان کی شناخت رہا۔بطور اداکارہ ان کا فلمی کیریئر 1950ء کی دہائی سے شروع ہوکر1970ء کی دہائی تک محیط ہے، 1965ء میں مغربی پاکستان کی فلم ’’نائلہ‘‘ سے انکی شُہرت کا سفر شروع ہوا،اس سے قبل’’سنگم‘‘ان کی پہلی بھرپور فلم تھی جو 23 اپریل1964ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

پُتلی بائی سے شمیم آراء بننے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ 1956ء میں ان کی فیملی اپنے عزیزوں سے ملنے پاکستان آئی تو ان کی ملاقات مشہورفلم ڈائریکٹر نجم نقوی سے ہوئی جنہوں نے اگلی فلم کے لئے انہیں کاسٹ کر لیا کیونکہ وہ پہلے ہی اپنی فلم ’’کنواری بیوہ‘‘ کیلئے نئے چہرے کی تلاش میں تھے،نجم نقوی نے ہی انہیں پُتلی بائی سے شمیم آراء بنادیا۔اگرچہ’’کنواری بیوہ‘‘زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کوشمیم آراء کی شکل میں ایک نیا چہرہ ضرور مل گیا تھا،اس کے بعد شمیم آرا کو فلم’’انارکلی‘‘1958 میں ایک اہم کردار دیا گیاجس میں نورجہاں انارکلی کا مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں اورشمیم آراء انارکلی کی چھوٹی بہن کا کردار کر رہی تھیں،اگلے 2 برسوں میں شمیم آراء کی جو فلمیں ریلیز ہوئیں وہ خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہ کر سکیں لیکن1960ء میں فلم’’سہیلی‘‘ نے ان کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اس فلم کی ریلیز کے بعد وہ گھریلو نام بن گئیں۔

1962 میں فلم ’’قیدی‘‘میں نورجہاں کی آواز میں فیض احمد فیض کی لکھی ہوئی غزل’’مجھ سے پہلی سی محبّت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ شمیم آراء پر فلمائی گئی تو ہر طرف شمیم آراء کے چرچے ہوگئے بالخصوص خواتین نے شمیم آراء کے ہیئر سٹائل ، میک اَپ اور اندازگفتگو کی نقالی شروع کر دی،اسی شُہرت کی وجہ سے انہیں فلم ’’نائلہ‘‘1965ء میں ٹائٹل رول مل گیا جو مغربی پاکستان میں بننے والی پہلی رنگین فلم تھی ،اس کے بعدانہوں نے’’دیوداس، دوراہا‘‘ اور’’ہمزاد‘‘ جیسی فلمیں دیں۔
60ء کی دہائی میں ان کی کامیاب فلموں میں قیدی1962ء، چنگاری1964ء، فرنگی 1964ء، نائلہ 1965ء آگ کا دریا1966ء ، لاکھوں میں ایک1967ء صائقہ 1968ء ،سالگرہ1968ء شامل ہیں، ان فلموں نے شمیم آراء کو لالی وُڈ کی صف اوّل کی ہیروئنز کی صف میں لاکھڑا کیا یہی بطور اداکارہ ان کے عروج کادور تھاکیونکہ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں شمیم آراء نے لیڈنگ ایکٹریس کے طور پر ریٹائرمنٹ لے لی تھی،عام خیال یہ تھا کہ ان کا فلمی کیریئر ختم ہو گیالیکن انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کو نہیں چھوڑا بلکہ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کے طور پر نئے رول میں کام شروع کر دیا۔
شمیم آراء نے اُردو کے علاوہ دو پنجابی فلموں’’تیس مار خان‘‘1989ء اور ’’جائیداد‘‘1959 میں بھی اداکاری کی تھی لیکن ان کی شناخت اور پہچان اُردو فلمیں ہی تھیں،انہوں نے بطور پروڈیوسر پہلی فلم 1968 میں ’’صائقہ‘‘ پروڈیوس کی جو نامور ناول نگار رضیہ بٹ کے اسی نام سے مشہور ناول سے ماخوذ نھی۔’’جیو اور جینے دو‘‘ بطور ڈائریکٹر ان کی پہلی تھی جو1976ء میں ریلیز ہوئی،1995ء میں بطور ڈائریکٹران کی فلم’’منڈا بگڑا جائے‘‘ نے باکس آفس پر ڈائمنڈ جوبلی کی تھی۔ بطور ڈائریکٹر ان کی دیگر مشہور فلموں میں پلے بوائے ،مِس ہانگ کانگ، مِس سنگا پور، مِس کولمبو،لیڈی سمگلر، لیڈی کمانڈو، آخری مُجرا بیٹا،ہاتھی میرے ساتھی ،مُنڈا بگڑا جائے ، ہم تو چلے سُسرال،مِس استنبول ،ہم کسی سے کم نہیں اور لَو 95ء قابل ذکر ہیں۔

شمیم آراء نے کئی شادیاں کیں لیکن کامیاب نہ ہوسکیں،پہلی شادی بلوچستان کے ایک جاگیردار سے ہوئی تھی جو ایک کارحادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے،اس کے بعد اگفاکے مجید کریم سے دوسری شادی کی جس سے ان کا بیٹا سلمان پیدا ہوا ،پھرشمیم آراء نے نامور فلم ڈائریکٹر ڈبلیو زیڈ احمد کے بیٹے ہدایتکارفرید احمد سے شادی کی لیکن شادی کے دوسرے تیسرے روز ہی شمیم آراء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرید احمد سے طلاق حاصل کرلی،اس کے کافی عرصے بعد شمیم آراء نے دبیر الحسن سے شادی کی۔
شمیم آراء کی دیگر مشہور فلموں میں مِس56ء ، واہ رے زمانے ، عالم آراء، اپنا پرایا، فیصلہ،سویرا، جائیداد، مظلوم، راز ،بھابھی،دو اُستاد،عزّت،رات کے راہی،سہیلی،انسان بدلتاہے،زمانہ کیاکہے گا،زمین کا چاند، آنچل،محبوب، میرا کیا قصور،انقلاب، دُلہن، ایک تیرا سہارا،غزالہ، کالا پانی، سازش، سیماء، تانگے والا ، دیوداس، دل کے ٹکڑے، فیشن ، جلوہ، مجبور، میرے محبوب، پردہ،ہمراز، لاکھوں میں ایک ، دل میرا دھڑکن تیری، آنچ، دل بے تاب، سالگرہ،آنسو بن گئے موتی،بے وفا،پرائی آگ،سہاگ، وحشی،خاک اور خون،انگارے ،خواب اور زندگی اور بھول شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی وی کے نامورپروڈیوسروشاعرمحمد سلیم طاہرانتقال کرگئے
1960 میں انہیں بہترین سپورٹنگ ایکٹریس کا نگار ایوارڈ ملا جس کے بعد 1964، 1965، 1967 اور 1968ء میں مسلسل بہترین اداکارہ کا نگار ایوارڈ ان کے حصّے میں آیا، 1993ء اور 1994ء میں بہترین ڈائریکٹر کا نگار ایوارڈ بھی انہیں دیاگیا،1999ء میں انہیں نگارکی جانب سے الیاس رشیدی گولڈ میڈل سے نوازا گیا تھا۔
1938ء کو علی گڑھ میں آنکھ کھولنے والی شمیم آراء کے فلمی کیریئر کو آگے بڑھانے میں ان کی نانی اقبال بیگم کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ ان کی والدہ جلدی فوت ہوگئی تھیں،ان کی نانی ہی انہیں فلموں میں لائی تھیں بعد ازاں ماموں اپنی زندگی تک ان کے ساتھ رہے،شمیم آراء سے پہلے اگرچہ نور جہاں کے کریڈٹ پر بطور ڈائریکٹر ایک فلم تھی لیکن شمیم آراء پاکستان کی پہلی کامیاب ترین خاتون ڈائریکٹر تھیں،انہوں نے 100 کے قریب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، 21 فلمیں بطور ڈائریکٹر ان کے کریڈٹ پر ہیں۔