حضرت عمر فاروقؓ کا نظام اور چھوٹے انتظامی یونٹس
Stay tuned with 24 News HD Android App
بحث کریں تو طویل ہو جایا کرتی ہے،دو روز کی چھٹی میں عزیز و اقارب کا آنا جانا لگا رہا انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں پر بات ہوئی، کیوں ضروری ہے بڑے صوبوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹنا؟ میں بحث نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن گفتگو کے دوران دل میں ایک خیال ضرور ابھرا کہ کیا اس کا کوئی ایسا پہلو بھی ہے جو ہم سے چھپایا جارہا ہے؟
کیا واقعی ترقی ایسے ہی ممکن ہے، کچھ تو اسلامی تاریخ میں ایسا ہو گا جس کو مثال بنائی جا سکے اسی خیال کے زیرِ اثر تحقیق شروع کی تو اسلامی دور کا سب سے شاندار طرزِ انتظامی حکومت حضرت عمرؓ کا نظر آیا جس میں انتظامی طور پر عام آدمی سے لیکر افواج، پولیس، ڈاک، شہری سہولیات اور نئے انتطامی یونٹس بنانے پر بات کی،یہ ایسا منظم اور مربوط نظام تھا کہ یہ تک بتایا گیا کہ سڑکیں گلیاں اور راستے کتنے کھلے ہوں گے، 100 سال کی پلاننگ تھی ۔
آپؓ نے حکم دے رکھا تھا کہ شہروں کی آبادیاں بڑھنے لگیں تو چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں کُوفہ، بصرہ اور فسطاط جیسے نئے انتظامی یونٹس بنائے۔ یہ تک بتایا کہ عام پیدل گزر گاہیں 7 ہاتھ، گلیاں 20 ہاتھ اور شاہراہیں 40 ہاتھ چوڑی ہوں۔ اب ذرا اندازہ کریں فہم و فراست کا، گزر گاہیں موجودہ کیلکولیشن کے مطابق 10 فٹ، گلیاں 30 فٹ اور شاہراہیں 60 فٹ کی ہوں گی۔
نہ اُس دور میں ٹرک اور نہ ہی کاریں لیکن آج بھی شہروں کی کیلکوکلیشن کم و بیش یہی ہے،کیسے فہم و فراست والے حکمران تھے لیکن ہم نے کیا کِیا؟ ہم نے یہ ساری تعلیمات بھلا دیں، شہروں کو پھیلنے دیا، جس کا نتیجہ آج ہم آلودگی، صحت، تعلیم اور شہری سہولیات کے فقدان کی صورت بھگت رہے ہیں۔
میں لاہور کا رہائشی ہوں آپ کو اسی کے حوالے سے سمجھاتا ہوں آج سے صرف 20 سے 30 سال پہلے لاہور کے رہنے والوں کو اجناس، دودھ اور سبزیاں شہر کے گرد موجود کھیتوں سے میسر آتے تھے لیکن پھر شہر پھیلنے لگا گرین علاقے کم ہونے لگے، درخت کٹنے لگے، گائے بھینسوں کا نکال دیا گیا، کھیتیاں اُجڑ گئیں اور آج صورتحال یہ ہے کہ ہم دور دراز سے سبزیاں، پھل، دودھ اور اجناس منگواتے ہیں،ڈیزل کی کھپت الگ، مہنگائی الگ اور معاشی طور پر بدحال وہ وسائل جو ہماری روز مرہ کے لیے ضروری تھے آبادی کے پھیلاؤ میں ہمارے مسائل میں دب گئے، وہ سبزی جو چند روپوں میں مل جایا کرتی تھی وہ سیکڑوں روپے میں ملنے لگی، لیکن دودھ والا اب محلے کا نہیں وہ دودھ دور دراز سے لاتا ہے لیکن ہم رکے نہیں۔
آج صورتحال ہر آنے والے دن کے ساتھ بد سے بدترین ہوتی چلی جا رہی ہے، وسائل کم اور مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، شہروں میں ہسپتال اور تعلیمی اداروں کی بہتات اورمسائل ہی مسائل، اس دو رنگی میں کسی نے نہ سوچا کہ ہم حضرت عمرؓ کی صرف انتطامی ہونٹس والی بات پر ہی عمل کر لیتے تو کامیاب ہو سکتے تھےلیکن ہمیں تو طاقت کو ایک جگہ جمع کرنے کا شوق تھا۔ نئے انتطامی یونٹس میں ہمیں اپنی کمزوری نظر آتی ہے، جمہوری بادشاہت کا خاتمہ نظر آتا ہے اور سیاسی عمل میں نئے لوگوں کی شمولیت نظر آتی ہے۔
عوام خوشحال ہو گئے تو ہم کس غریب کے نام پر ووٹ لیں گے۔ ہماری بڑی گاڑیوں کا ایندھن کون بنے گا؟ اگر نظامِ عمرؓ نافذ ہوا تو پھر کوئی بھی پوچھ لے گا ’’یہ دوسری چادر کہاں سے آئی‘‘؟ ہم تو حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں، عوام ہی حکمران ہوئے تو ہمارا اقتدار ختم۔ اس لیے تو مرسو مرسو کے نعرے لگتے ہیں، نئے یونٹس کی مخالفت کی جاتی ہے، ایسے بھونڈے دلائل دیے جا رہے ہیں کہ رہے اللہ کا نام، قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ کسی نے علم کی بات کی ہے کسی نے تو عوام کے دل کی بات کی ہے کسی نے تو کہا ہے کہ
اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو
سُلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کُہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دو
یہ بھی پڑھیں : انگلینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان، ای سی بی وفد کو سکیورٹی پر بریفنگ دی گئی