نئے صوبے کیوں ضروری ہیں؟ایک کہانی کاشتکار کی زبانی
تحریر؛ عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
پنجاب کے جنوبی سِرے پر موجود رحیم یار خان ،،، پنجاب کا آخری ضلع ہے ،،، تقریبا 11 880 مربع کلومیٹر اور 55 لاکھ 64 ہزار آبادی پر مشتمل یہ ضلع نقشے پر صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کا گھر ہے اور ایک بڑا زرعی خطہ بھی ہے ،،، اگر ایک کاشتکار رحیم یار خان سے لاہور کا سفر کرتا ہے تو اسے کتنا وقت اور پیسہ درکار ہوتا ہے؟ آئیے چند حقائق آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
ذرا تصور کریں رحیم یار خان کا ایک عام کاشتکار ،،، جس کی فصل کھیت میں کھڑی ہے ،،، فصل کو پانی کی ضرورت ہے ،،، لیکن پانی نہیں مل رہا اور مسئلہ مقامی سطح پر حل نہیں ہوتا تو کاشتکار کو کہا جاتا ہے کہ لاہور جائیں اور سیکریٹری اریگیشن سے ملیں ،،، پانی نہ ملنے پر رحیم یار خان کا ایک کاشتکار اپنی فریاد لے کر جب لاہور کا رخ کرتا ہے تو اس کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے ،،، بذریعہ موٹر وے رحیم یار خان سے لاہور کا فاصلہ تقریبا 588 کلومیٹر سے جسے طے کرنے میں کم از کم 7 گھنٹے درکار ہوتے ہیں ،،، اور آنے جانے میں پورا دن صرف سفر میں گزر سکتا ہے۔
رحیم یار خان سے لاہور کا ایک طرف کا سفری خرچ کم از کم 5 ہزار روپے آتا ہے ،،، اگر لاہور میں ایک رات رُکنا پڑ جائے تو ہوٹل کا کم از کم خرچ 3 ہزار سے 5 ہزار روپے آتا ہےجبکہ ایک دن کے کھانے کے لیے مزید 1500 روپے درکار ہوں گے ،،، یعنی صرف ایک ملاقات یا صرف ایک درخواست کے لیے ایک کاشتکار کو ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں ،،، اور اگر کام ایک دن میں نہ ہو؟ اور دو دن لگ جائیں؟ تو رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات بھی تقریباً دگنے ہو جائیں گے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک چکر پر کتنے پیسے خرچ ہوئے ،،، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف ایک چکر نہیں ہوتا ،،، کاشتکار ایک بار لاہور آتا ہے ،،، پھر دوسری بار ،،، پھر تیسری بار اور کبھی تو درجنوں بار ،،، کبھی سیکریٹری صاحب میٹنگ میں ہوتے ہیں تو کبھی چھٹی پر ،،، کبھی کسی ضروری کام میں مصروف ہوتے ہیں تو کبھی بیرونِ ملک دورے پر ،،، اور کاشتکار؟ ہر بار رحیم یار خان سے لاہور کا سفر کرتا ہے ،،، وہ اپنا وقت خرچ کرتا ہے ،،، اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے ،،، اپنی فصل کا وقت ضائع کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے خاندان سے دور رہتا ہے۔
ذرا سوچیے ،،، جس آدمی کا اصل کام کھیت میں کھڑے ہو کر فصل بچانا ہے وہ صرف اپنے پانی کے مسئلے کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرتا ہے اور ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے ،،، اس لیے اگر پنجاب کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو رحیم یار کے کسان کا وقت اور پیسہ بچ سکتا ہے کیونکہ اسے اپنے مسائل کا حل اپنے شہر کے قریب ہی مل سکتا ہے۔