پیٹرولیم ڈیلرز کا وزیراعظم فیول سبسڈی پروگرام پر عملدرآمد نہ کرنے کا اعلان

حکومت نے مشاورت کے بغیر اسکیم وضع کرلی،اعتماد میں نہیں لیاگیا،موجودہ طریقہ کار کے تحت اسکیم چلانا ناممکن ،پریس کانفرنس

Sep 16, 2026 | 15:39:PM
پیٹرولیم ڈیلرز کا وزیراعظم فیول سبسڈی پروگرام پر عملدرآمد نہ کرنے کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اشرف خان،کاوش میمن)پیٹرولیم ڈیلرزنے وزیراعظم فیول سبسڈی پروگرام پر عملدرآمد نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

پیٹرولیم ڈیلرز فیول سبسڈی ریلیف کی راہ میں رکاوٹ بن گئےاورانہوں نے وفاقی حکومت کے فیول سبسڈی پروگرام پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ملک خدا بخش نےعہدے داروں اور ڈیلرز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ڈیلرز سے مشاورت کے بغیر فیول ریلیف اسکیم وضع کرلی،ریلیف اسکیم کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم اس پر تحفظات ہیں، ریلیف اسکیم بناتے ہوئے اعتماد میں نہیں لیاگیا،موجودہ طریقہ کار کے تحت ریلیف اسکیم چلانا ناممکن ہے،اس پرنظرثانی کی جائے،ریلیف اسکیم سے اربوں روپے پھنسنے کا خدشہ ہے ،اس کاازالہ کون کرے گا؟
 چیئرمین پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ  ڈیلرزمارجن 8 فیصد کیا جائے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ کیا جائے۔

وائس چیئرمین انور کمال نے کہاکہ وزیراعظم کی ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہیں،لیکن طریقہ کار پر شدید تحفظات ہیں ،حکومت نے ریلیف اسکیم بناتے وقت پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا ، موجودہ طریقہ کار کے تحت ریلیف سکیم چلانا ناممکن ہے،اس پر نظرثانی کی جائے ،عوام کو ریلیف دینے کا طریقہ آسان بنایا جائے، ڈیلرز پر بوجھ نہ ڈالا جائے،مہنگائی سے ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے ،ریلیف اسکیم سے اربوں روپے پھنسنے کا خدشہ ہے ،اس کا ازالہ کون کرے گا؟آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں کے واجبات پہلے ہی التوا کا شکار ہیں - 
پی پی ڈی اے کامزیدکہناہے کہ موجودہ طریقہ کار سے ملک بھر کے 14 ہزار ڈیلرز مالی بحران کا شکار ہوں گے،وعدے کے مطابق ڈیلرز مارجن فوری 8 فیصد کیا جائے ،پیٹرولیم پالیسی سازی میں ڈیلرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی شامل کی جائے ،پیٹرولیم قیمتوں کے روزانہ اعلان پر نظرثانی کا وعدہ پورا نہیں ہوا،ریلیف اسکیم پر فوری مشاورت کی جائے، قابل عمل لائحہ عمل بنایا جائے ، ریلیف اسکیم کا بوجھ ڈیلرز پر نہ ڈالا جائے، سرمائے کا تحفظ یقینی بنایا جائے ،حکومت ریلیف اسکیم کے بارے میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کرے.

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مزید مہنگا ہوگالیکن حکومت پر اعتماد رکھیں: وزیر پیٹرولیم

چیئرمین پی پی ڈی اےملک خدا بخش کامزیدکہناتھاکہ ہم نے حکومت کا بہت ساتھ دیا، اس وقت جب حکومت بحران کا شکار تھی ہم نے حکومت کو سفارشات پیش کیں تو ان کو ملحوظِ خاطر رکھا،حکومت بھی اس بات کو سراہتی ہے کہ پی پی ڈی اے نے شائستگی سے اپنے مطالبات تسلیم کروائے،ہمیں تشویش ہے کہ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کو سستے فیول کی فراہمی کا معاوضہ کون دے گا؟اس حوالے سے حکومت نے کوئی طریقہ واضح نہیں کیا،روزانہ بنیادوں پر قیمتوں کے تعین نے پیٹرولیم ڈیلرز کا ورکنگ کیپیٹل شدید دباؤ کا شکار ہے،سمارٹ لاک ڈاؤن کاروبار کو بند کرنے کے مترادف ہے،ہم نے مارشل لاء اور عراق کویت جنگ بھی دیکھ رکھی ہے،حکومت ہم سے مشاورت کرے ہم اپنے طور پر بھی پیٹرول لا سکتے ہیں،آبنائے ہرمز سے 7 روز میں تیل آتا تھا، خلیج عدن سے 25 روز میں آتا ہے،بحری جہازوں کے فریٹ چارجز اور انشورنش پریمیئم بڑھ چکے ہیں،حکومت ڈیلرز کو اس حوالے سے اعتماد میں لے کر پالیسی مرتب کرے۔
انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان میں پی ایس او کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی اجازت ہے۔آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اجازت دینے سے فیول سپلائی میں بہتری آ سکتی ہے۔