وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلئے حکمت عملی بنانے کا حکم

شہباز شریف نے 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت کر دی

Sep 16, 2026 | 15:43:PM
وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت اور عالمی منڈی تک رسائی کیلئے حکمت عملی بنانے کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری افراد کی مالی معاونت، فنی استعداد میں اضافے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے سمیڈا کو جامع حکمت عملی مکمل کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام میں بہتری لانے کیلئے قلیل مدتی اقدامات آئندہ تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور کاروباری افراد کو مالی معاونت اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سمیڈا کی حکمت عملی میں ملک کے تمام علاقوں میں کاروبار کے فروغ، مساوی سہولیات اور یکساں فنی معاونت کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، انہوں نے خواتین کی چھوٹے اور درمیانے کاروبار میں شمولیت کیلئے جاری پروگرام کو مزید وسعت دینے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے مقامی کاروباری افراد کو قومی و عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار کے فروغ کی حکمت عملی میں زیادہ سے زیادہ علاقوں اور شعبوں کو شامل کیا جائے، زرعی اجناس کے پیداواری اور تجارتی روابط کو منظم کرنے کیلئے بھی خصوصی اقدامات پر مشتمل حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی تقویت اور کاروباری افراد کی معاونت کیلئے مختلف سطحوں پر اقدامات جاری ہیں، جبکہ صنعتی پیداوار کی برآمدات بڑھانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے دنیا کے بہترین رائج طریقوں سے استفادہ کیا جارہا ہے، سمیڈا مختلف متعلقہ اداروں کے تعاون سے مربوط اور جامع حکمت عملی پر بھی کام کررہی ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت پمز ہسپتال کی بہتری سے متعلق اجلاس میں ہسپتال کی تحقیقاتی رپورٹ اور وزارت قومی صحت کے پرفارمنس آڈٹ کا جائزہ لیا گیا، وزیراعظم نے انکوائری رپورٹ میں تجویز کردہ قلیل مدتی اقدامات پر آئندہ تین ماہ میں عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں:پیدائش و اموات کے کمپیوٹرائزڈ سرٹیفکیٹس مزید 3 سال مفت جاری رکھنے کی منظوری

وزیراعظم نے پمز کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے، فائر سیفٹی نظام کی بہتری کیلئے پی کے ایل آئی سے معاونت اور تجاویز لینے جبکہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر بھی غور اور عملدرآمد کی ہدایت کی۔

انہوں نے ہسپتال میں ادویات اور دیگر سہولیات مفت فراہم کرنے کے اقدامات کو لائحہ عمل کا حصہ بنانے اور پمز کی بہتری کیلئے اچھی شہرت کی حامل افرادی قوت تعینات کرنے کی ہدایت کی، پمز کی بہتری کیلئے طویل مدتی اقدامات پر مشتمل جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

وزیراعظم نے پولی کلینک ہسپتال کا آڈٹ کرکے بے ضابطگیاں دور کرنے اور تنظیم نو کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی بھی ہدایت کی، انہوں نے سی ڈی اے کو اسلام آباد کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنانے اور سرکاری و نجی دفاتر و عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز ہسپتال کے پرفارمنس آڈٹ میں جانچے گئے انڈیکیٹرز میں 90 فیصد کے قابل قبول ہدف کے مقابلے میں صرف 39.7 فیصد کمپلائنس پائی گئی، جبکہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں 37 مجوزہ اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں:ایک ماہ کے دوران پیٹرول 59 روپے ، ڈیزل 32 روپے فی لیٹر مہنگا،عوام پریشان

اجلاسوں میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، جام کمال، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت ہارون اختر، معاون خصوصی مختار احمد بھرتھ، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔