مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کیلئے بھی خطرہ قرار

Sep 14, 2026 | 15:10:PM
مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کیلئے بھی خطرہ قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)مصنوعی ذہانت انسانی حقوق کے لیے بھی خطرہ ثابت ہونے لگی ہے۔

 اے آئی سے انسانی حقوق کو لاحق خطرات کے پیش نظر برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈز نے نئے قانون کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی آن ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹ میں کہا  مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طور پر علاج کرنے  کیلئے موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔

انسانی حقوق کی کمیٹی (جے سی ایچ آر) نے رپورٹ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک نئے قانون کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان خطرات کی سنگینی اور وسعت سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

مزید پڑھیں:AI جوہری ہتھیاروں کے برابر خطرہ قرار 

 کمیٹی کے چیئرمین اور لیبر رکن پارلیمنٹ الیکس سوبل نے کہا کہ برطانیہ سمیت دنیا میں کہیں بھی مصنوعی ذہانت کے لیے موجودہ قوانین اور ضابطہ کار اس مقصد کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، جس سے مواقع کے ساتھ ساتھ خطرات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دنیا کے بہترین وسائل سے لیس سکیورٹی اداروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی جانچ اور اسے سمجھنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے۔

 یہ ادارہ لوگوں کے تحفظ  کیلئے ضروری معیارات اور حفاظتی اقدامات کی تیاری میں مدد دے گا۔

ادھر مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو اموڈی مصنوعی ذہانت کی عالمی سطح پر نگرانی، آزادانہ مانیٹرنگ اور اس کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

حریف کمپنیوں کے سربراہان اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایلون مسک نے بھی اتفاق کیا ہے۔