عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مستحکم

Sep 22, 2026 | 10:01:AM
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مستحکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )امریکی شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں منگل کو خاصا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور قیمتی دھات کی قیمتوں کو مزید پیش قدمی میں مشکلات کا سامنا رہا۔

غیر ملکی خبر رساں  ادارے کے مطابق سپاٹ گولڈ کی قیمت 0.151 GMT پر تقریباً مستحکم رہتے ہوئے 4,344.29 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 4,381.80 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی فیڈرل ریزرو کے حکام کے آئندہ بیانات پر مرکوز ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مرکزی بینک اکتوبر میں شرح سود میں ایک اور اضافے پر غور کر رہا ہے یا نہیں۔

سونے کو عموماً مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کے ماحول میں اس کی کشش کم ہوسکتی ہے کیونکہ سرمایہ کار ایسے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں جو باقاعدہ منافع یا منافع بخش پیداوار فراہم کرتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں بڑی ہلچل،تیل پھر مہنگا ہو گیا

پیپر اسٹون کے سربراہ برائے تحقیق کرس ویسٹن کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتا ہے، جس سے شرح سود میں اضافے کی توقعات مزید مضبوط ہوں گی اور سونے کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے اپنی پالیسی شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کیا تھا اور آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا تھا۔

سینٹ لوئس فیڈ کے صدر البرٹو موسلیم نے بھی کہا ہے کہ مضبوط طلب اور تیل سے آگے بڑھنے والے اجناس کے قیمتوں کے جھٹکے سے پیدا ہونے والی مہنگائی کو کم کرنے کے لیے مرکزی بینک کو شرح سود میں مزید اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق فیڈ کے لیے انتظار کرنے کے بجائے بروقت اقدام کرنا بہتر ہوگا۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی صورتحال بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یمن میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ممکنہ امریکی ایران مذاکرات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 66.19 ڈالر، پلاٹینم 0.3 فیصد بڑھ کر 1,792.76 ڈالر اور پیلیڈیم 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 1,305.10 ڈالر فی اونس ہوگیا۔