پولیس والوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دماغ کام نہیں کررہے: چیف جسٹس عالیہ نیلم

Sep 22, 2026 | 11:02:AM
پولیس والوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دماغ کام نہیں کررہے: چیف جسٹس عالیہ نیلم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے لاہور پولیس کی کارکردگی اور عدالت میں جمع کروائی جانے والی رپورٹس پر سخت اظہارِ ناراضگی کیا ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری مومن خان کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے 2021 میں سی سی پی او فیاض احمد کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی، موجودہ سماعت کے دوران سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد نوید شیخ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر بھی پیش ہوئے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سی سی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا بات ہے آپ کو بلانا چھوڑ دیا تو آپ کا عدالتوں کے ساتھ ایسا رویہ ہوگیا، اگر آپ اس عدالت کے ساتھ ایسا کررہے ہیں تو باقی عدالتوں کے ساتھ کیا کرتے ہوں گے۔

چیف جسٹس نے پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹس پر بھی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس والوں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دماغ کام نہیں کررہے۔ پولیس والوں کو ٹھنڈے کمروں سے نکالیں تاکہ ان کے دماغ کام کریں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ چیف جسٹس کی عدالت میں الٹے اور بری حالت میں رپورٹس کے کاغذات جمع ہوتے ہیں۔ پولیس افسران باقی عدالتوں میں کیا کرتے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے، محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوسی آگئی

سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے عدالت کو بتایا کہ جن افسران نے گزشتہ روز رپورٹ جمع کروائی ان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے، ایس پی آپریشن کو ناپسندیدگی کا نوٹس جاری کیا ہے، جبکہ اے ایس پی سے وضاحت طلب کی ہے،ایس ایچ او کو شوکاز جاری کیا ہے، سوری میڈیم۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا یہ تو حل نہیں، یہاں تو ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرکے آتے ہیں جس کا کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیوں نہ آپ سے پچھلے پانچ سال کا پولیس افسران کے خلاف کورٹ آرڈر پر کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔

سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ پوری کوشش کرتے ہیں، عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہو،عدالت نے گزشتہ روز جن پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی، اسے مکمل کرکے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سی سی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے افسران کو اس ماحول میں رکھیں جہاں ان کا دماغ ٹھیک رہے۔ ٹھنڈے ماحول میں ان کا دماغ کام نہیں کرتا۔

مزید پڑھیں: نیا بحران ، بحری جہازوں کی قلت،آئل ٹینکرز کے کرائے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت آپ کو کچھ عرصہ پوچھا نہیں تو حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں،ہمارے ججز بتاتے ہیں کہ پولیس کی کیا پرفارمنس ہے، وہ کسی طرح رپورٹس جمع کرواتے ہیں، پولیس کے کنڈیکٹ کا سب پتہ ہے۔

سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ انشاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا،چیف جسٹس نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو آپ کی رپورٹ پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گزار کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔