کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک آئی جی آزاد کشمیر، ادیب، شاعر اور موٹیوشنل سپیکر
سید عارف نوناری
Stay tuned with 24 News HD Android App
آزاد کشمیر کے آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک پاکستان کے معروف شاعر ادیب 'موٹیوشینل سپیکراور رائٹر ہیں ان کا تعلق ضلع نارووال 'دھمتل کے قریب ایک چھوٹے سے گاوں سنگیال سے ہے،ان کے آباد اجداد ہجرت کرکے بھارت سے آئے تھے کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نارووال ضلع میں پیدا ہوٰئے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول جبال ضلع نارووال سے حاصل کی میٹرک اپنے گاوں کے ہائی سکول سنگیال سے کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی 8نومبر 1995 کو آرمی پی ایم اے کاکول جوائن کیا ۔
انھوں نے پاکستان آرمی میں رہتے ہوئے سیاچین میں خدمات سر انجام دیں اور آرمی کے کورسسز میں پوزیشز بھی لیں پھر انھوں نے دس سال پاکستان آرمی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد 22نومبر 2005 میں سول سروسز میں جوائن کیا، ملازمت کے دوران وہ اہم عہدوں پر فائز رہے اور اہم کارناموں کی وجہ سے مقبولیت حاصل کی وہ اسلام آباد میں اے ایس پی 'ایس پی صدر' ایس پی سول لائنز لاہور'ایس پی ماڈل ٹاون لاہور'ایس پی آپریشن لاہور'ڈی پی او بہاولنگر 'ڈی پی او جھنگ'ڈی آئی جی بلتستان 'ڈی جی انٹی کرپشن گلگت و بلتستان 'ڈی آئی جی سی آئی لاہور کے عہدوں پر تعینات رہے۔
سٹی ٹی او لاہور تعیناتی کے دوران ٹریفک کے مسائل اور ان کے حل پر انھوں نے ان کے کام کو انفرادیت حاصل رہی اب وہ ڈی آئی جی اسٹبلشمنٹ لاہور تعینات ہیں حال ہی میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ایم فل کیا ہے۔
گورنر پنجاب نے انھیں گولڈ میڈل سے نوازا سول سروسز میں ان شناخت ان کا کام ہے، اسی طر ح ادب کی دنیا میں بھی انھوں نے اپنا مقام بنایا ان کی پہلی کتابیں 1995اور 1997 کے دروان صحافت پر شائع ہوئیں، ان میں چوتھا ستون اور تاریخ صحافت شامل ہے 2014 میں حاصل محبت شائع ہوئی پھر حاصل لاحاصل اور قطرہ قطرہ زندگی منظر عام پر آئیں جن کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی حال ہی میں ان کی کتاب 2023 میں الف اللہ شائع ہوئی ہے۔
کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک اپنی ادبی خدمات اور کتابوں کے حوالہ سے جانے جاتے ہیں،وہ پولیسنگ کے ساتھ ساتھ شاعری اور نثر نگاری میں مہارت رکھتے ہیں اور ان کا اندازِ تحریر منفرد مانا جاتا ہے، حساس اور ادبی تحریروں کی وجہ سے وہ عوام میں مقبول ہیں ان کے موضوعات معاشرتی اور عوام کے مسائل سے جڑے ہوئے ہیں،سوشل میڈیا پر ان کی ویـڈیوز کو شوق سے سنا جاتا ہے ،وہ بات کو تحقیقی انداز میں بیان کرتے ہیں ان کی تحریروں میں انسانی جذبات کی عکاسی اور سادگی کو سراہا گیا ہے۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک جتنی خوبصورت نثر لکھتے ہیں،وہ شاعر بھی اتنے ہی خوبصورت ہیں، زندگی کے بارے میں اپنی ایک نظم میں انہوں نے کیا خوب کہا ہے ۔
زندگی کے پرچے کے
سب سوال الٹے تھے
سیاہ اس کے ورقے تھے
سب حروف ترچھے تھے
ہم نے جو گزاری تھی
رات وہ انوکھی
زندگی اکیلی تھی
تم نے بھی تو دیکھی تھی
ہاتھ میں زنجیریں اور
زبانوں پر جو تالے تھے
آزادیوں کے موسم میں
زندگی مقید تھی
کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کو اپنے قلم اور سوچ پر مکمل کنٹرول ہے۔ وہ کہیں بھی بے ربط نہیں ۔ انہیں علم ہے وہ کیا بات کہہ رہے ہیں۔ انہیں کتنی بات کہنی ہے،وہ ضمیر کی آواز کو بھی جانتے ہیں۔ دل کی آواز کو بھی جانتے ہیں۔ دماغ کی آواز کو بھی جانتے ہیں لیکن لکھتے وقت کوشش کرتے ہیں کہ ا ن تمام آوازوں کا اتفاق رائے پیدا کر لیں، یہ ایک مشکل کام ہے لیکن یہی ان کی تحریروں کا حسن ہے۔
لیاقت ملک وہ شخص ہیں جو صحافی بننے نکلے وکالت میں داخلہ لیا اور سب کچھ چھوڑ کر فوج میں آ گئے،سیاچن گلیشئر کی فلک پوش یخ بستہ چوٹیوں سے لیکر چولستان کی پگھلا دینے والی گرمی میں خاکی وردی کے کم و بیش دس سال مکمل کیے 2005ء میں پولیس سروس آف پاکستان میں آوارد ہوئے۔ ریمنڈ ڈیوس کیس‘ اغوا برائے تاوان‘ کرائے کے قاتلوں کی سرکوبی سے لیکر ایکسپو سنٹر سے انڈین تاجر کے ہیروں کا چوری شدہ ہار برآمد کرکے ملک کو بین الاقوامی سبکی سے بچایا 14اگست 2012ء کو بہترین پولیس آفیسر کا ایوارڈ دیا گیا۔
ٹریفک میں اصلاحات متعارف کروائیں‘ جن سے ہیڈ انجری میں 83فیصد کمی آئی لائسنسنگ کو جدید تقاضوں سے ہمکنار اور کرپشن سے پاک کیا۔ عوام اور خواص میں تفریق کو ختم کیا خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں سے مقابلہ ہو یا گلگت بلتستان کے نامساعد حالات ہوں وہ اپنے ارادے میں جمے رہے
اس وقت اُن کا شمار پنجاب پولیس کے بہترین آفیسرز میں ہوتا ہے۔مگر لیاقت علی ملک کی وجہ شہرت اُن کی شخصیت کی دیگر کئی خوبیاں بھی ہیں۔ وہ ایک بہترین رائٹر‘ اردو پنجابی کے شاعر‘ چار انتہائی کامیاب کتابوں کے مصنف‘ کمال کے موٹیویشنل سپیکر اور ان سب سے بڑھ کر جستجو راہ حق(تصوف) کے مسافر ہیں۔ انٹرنیٹ پر ان کی مختصر ویڈیوز نکال کر دیکھئے‘ تقریریں سُنیں‘ شاعرانہ کلام پر غور کریں یا کوئی تحریر پڑھنا شروع کردیں۔ ان کے الفاظ آپ کے دل میں اُترنا شروع ہوجائیں گے اور آپ کا دل چاہے گا کہ یہ سلسلہ کبھی نہ رُکے۔
ادب اور مطالعہ سے ان کا تعلق طالب علمی کے زمانے سے ہی چلا آرہا ہے اور ڈائری میں شعر نوٹ کرتے اور چھوٹے چھوٹے اقتباسات نقل کرتے اُن کی تحریر میں پختگی آتی چلی گئی، زمانہ طالب علمی میں لیاقت علی ملک کے دو ہی شوق و مشاغل تھے کتابیں خریدنا اور اُن کا مطالعہ کرنا‘ اور استاد محترم سرفراز احمد فاروقی صاحب کے سنائے شعر اپنی ڈائری میں نوٹ کرنا۔علاقے کی مٹی کا اثر ہے جیسے نارووال کے باسمتی کی خوشبو بتاتی ہے ایسے ہی لیاقت ملک کی خوشبو بتاتی ہے‘ جہاں بھی ہوں جس شہر میں ہوں ۔ جس محفل میں ہوں سنگیال کے چھوٹے سے گاؤں سے میلوں پیدل سکول جانے والا‘ رات گئے ننگے پاؤں شاہدرہ سے دو دہائیاں پہلے بھی پیدل داتا صاحبؒ کی زیارت کو نکل جاتا تھا بی بی پاکدامن کے دربار کی سیڑھیوں کا کیچڑ ماتھے پر ملتا ' اساتذہ کو پیر مانتے ہیں ان کی ۔ایسی بے مثال تحریریں ہیں جو انھوں نے ابھی شائع نہیں کروائیں اور محض اپنے پاس سنبھال رکھی ہیں۔ ان کی تحریریں انتہائی گہرے مشاہدے‘ عمیق مطالعہ اور جستجو ئے حق سے کشید کردہ الفاظ پر مبنی ہوتی ہیں۔ جس کا ہر لفظ پڑھنے (اور سُننے) والے کے دل میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ اُن کی تحریریں پڑھ کر شعور اور راہنمائی ملتی ہے۔یقین کرنا ناممکن سا لگتا ہے کہ آج کل کے دور میں کوئی اتنا مخلص بھی ہو سکتا ہے جو اپنے جذبوں کی شدت اور پاکیزگی سمیت خود کو سب کے سامنے لائے۔ یہ کسی عام آدمی کا خاصہ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر یہ ”جگ بیتی“ ہے تو اتنا گہرا مشاہدہ کوئی خاص اور حسیات والی ہستی ہی کر سکتی ہے۔
خاص طور پر لفظوں کا چناؤ اور ان کا خوبصورت استعمال مصنف کی قدر و قیمت کا پتہ دیتے ہیں لیاقت علی ملک کی قدر و قیمت ان کے لفظوں سے جھلکتی ہے۔ جناب واصف علی واصف ؒ کے بعد کسی کے لفظوں میں اتنی گہری تاثیر پہلی دفعہ نظر آئی ہے۔ کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک کی زندگی کے مشاہدات نے ان کو کندن بنا دیا ہے اور ان کی تحریروں میں جو درد و جذبہ ملتا ہے وہ مخلوق خدا کی آواز بن گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایم کیو ایم فتنہ و افراتفری،90 کی دہائی کی سیاست چاہتی ہے،ان کی سازش ناکام بنائیں گے؛شرجیل میمن