حکومت شہری سے کتنی دور ہونی چاہیے؟

Sep 19, 2026 | 16:10:PM
حکومت شہری سے کتنی دور ہونی چاہیے؟
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ایک آدمی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لے کر زمین خریدنے نکلا ہے، اس کی سب سے بڑی خواہش کوئی بڑی چیز نہیں، وہ صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ جس زمین کے بدلے وہ اپنی جمع پونجی دے رہا ہے، وہ واقعی اسی شخص کی ہے جو اسے بیچ رہا ہے؟

برسوں تک ایسے سوال کا جواب اسے کاغذی رجسٹروں، سرکاری دفتروں اور بالآخر پٹواری کی میز تک لے جاتا رہا، زمین کس کی ہے، انتقال ہوا یا نہیں، نقشہ کیا کہتا ہے، کوئی دوسرا دعوے دار تو نہیں، ان سوالوں کے جواب ایک ایسے نظام میں تلاش کیے جاتے تھے جہاں عام شہری اور ریاست کے درمیان ایک اہلکار کھڑا ہوتا تھا،  اکثر تلخ، کھردرا اور کبھی کبھار ناشائستہ سرکاری اہلکار۔

اب منظر بدل رہا ہے، زمین کا ریکارڈ کمپیوٹر پر آرہا ہے، ملکیتی معلومات گھر بیٹھے دیکھی جاسکتی ہیں اور جائیداد کی منتقلی کے طریقہ کار کو بھی بتدریج ڈیجیٹل بنایا جارہا ہے،یہ صرف کاغذ کی جگہ کمپیوٹر آنے کی کہانی نہیں یہ اختیار کی منتقلی کی کہانی ہے۔اور شاید اسی لیے تین ہزار پٹواریوں کے ایک ہی دن میں تبادلوں کی خبر کو صرف تبادلوں کی خبر سمجھنا اس خبر کو بہت چھوٹا کردینا ہے، پنجاب حکومت کے مطابق تین ہزار پٹواریوں کے تبادلے کیے گئے اور ایک بھی حکم واپس نہیں لیا گیا، حکومت اسے انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت نہ ہونے کی اپنی پالیسی کی مثال قرار دے رہی ہے۔

لیکن سوال یہ نہیں کہ تین ہزار پٹواری کیوں بدلے گئے، سوال یہ ہے کہ کیا پٹواری بدلنے سے وہ نظام بھی بدل جائے گا جس نے ایک پٹواری کو اتنا طاقتور بنا رکھا ہے؟

پاکستان میں پٹواری محض ایک سرکاری اہلکار کا نام نہیں، زمین کے ریکارڈ، انتقال، ملکیت، حد بندی اور محصولات کے معاملات میں عام شہری کا واسطہ ریاست سے اکثر اسی سطح پر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک نسبتاً نچلے عہدے پر بیٹھا شخص بھی بعض علاقوں میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کرلیتا ہے۔

پٹواری کی میز سے موبائل کی سکرین تک کا یہ سفر اچانک نہیں ہوا، پنجاب میں وزیراعلٰی مریم نواز نے پہلی بار ایک مربوط پالیسی بنائی، بورڈ آف ریونیو میں نبیل جاوید کے دور میں زمین کے پرانے کاغذی نظام کو بدلنے کی سمت میں قدم اٹھے، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، جائیداد کی منتقلی کے نئے طریقے اور ریونیو خدمات کو شہری کے دروازے تک لانے کی کوشش نے ایک ایسے نظام کو بدلنا شروع کیا جو طویل عرصے سے فائلوں، رجسٹروں اور دفتری میزوں کے پیچھے بیٹھے ان اہلکاروں کے اختیار میں تھا جن تک عام شہری کی رسائی اکثر آسان نہیں ہوتی تھی، 1947 سے 2024 تک 2 کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ  دستاویزات رجسٹرڈ اور 30 کروڑ سے زائد صفحات ڈیجیٹل کیے جاچکے ہیں، 25 لاکھ سے زیادہ انتقالات بھی جدید نظام کے ذریعے نمٹائے گئے، 500 سے زیادہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کے نظام کا بھی اپنا ایک ذکر ہے، یہ تبدیلی صرف کاغذ سے کمپیوٹر تک کا سفر نہیں، یہ اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش بھی ہے جو برسوں سے شہری اور سرکاری دفتر کے درمیان قائم رہا ہے، جہاں ایک طرف اپنا کام کروانے کے لیے آنے والا عام آدمی تھا اور دوسری طرف ایسا دفتری نظام، جس میں افسر تک پہنچنا بھی بعض اوقات ایک الگ مرحلہ بن جاتا تھا، مریم نواز کو ایک ایسی ٹیم میسر آئی جس نے پالیسی کو عملی اقدامات سے جوڑا، اور یہی انتظامی تسلسل اس تبدیلی کو کاغذی اصلاحات سے نکال کر شہری کی روزمرہ ضرورت تک لے جانے میں اہم ثابت ہوا۔

یہ اعداد اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں اس سے کیا بدلا؟

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر زور

وہ کسان جو اپنی زمین کا ریکارڈ دیکھنا چاہتا ہے، وہ خاندان جو برسوں کی بچت سے ایک پلاٹ خرید رہا ہے، وہ بزرگ جو کسی دفتر کے چکر لگانے کی پوزیشن میں نہیں، اور وہ شخص جو صرف یہ جاننا چاہتا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں اس کی ملکیت کیا ہے، جس معلومات پر کسی ایک اہلکار کی اجارہ داری کم ہوتی ہے، وہاں اختیار کے غلط استعمال کی گنجائش بھی کم ہوسکتی ہے، ٹیکنالوجی ہر مسئلے کا علاج نہیں، لیکن یہ شہری اور ریاست کے درمیان ایک غیر ضروری فاصلہ ضرور کم کرسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پٹواری کلچر کے خاتمے کی اصل بنیاد صرف تبادلہ نہیں بلکہ اختیار کی غیر ضروری مرکزیت ختم کرنا ہے، اور یہاں ایک بڑا سوال بھی پیدا ہوتا ہے، اگر زمین کا وہ نظام، جو برسوں کاغذی فائلوں اور دفتری میزوں کا محتاج رہا، شہری کی انگلیوں تک پہنچ سکتا ہے تو پھر حکمرانی کا باقی نظام شہری کے اتنے قریب کیوں نہیں آسکتا؟

یہاں سے بحث ایک اور بڑے سوال کی طرف مڑتی ہے۔

اگر زمین کے کروڑوں صفحات کو ڈیجیٹل کیا جاسکتا ہے، لاکھوں انتقالات جدید نظام سے نمٹائے جاسکتے ہیں اور سینکڑوں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ایک مربوط نظام سے جوڑا جاسکتا ہے تو کیا ہمیں اپنے انتظامی ڈھانچے کو بھی اسی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے؟

لاہور ڈویژن میں لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب سمیت چار اضلاع ہیں، اس ڈویژن میں 22 تحصیلیں، 563 یونین کونسلیں اور 1,787 دیہات ہیں، یہ صرف اعداد نہیں، یہ انتظامی فاصلے کا سوال بھی ہے، ایک طرف شہری ہے، دوسری طرف حکومت، درمیان میں ضلع، ڈویژن اور صوبائی دارالحکومت سمیت سرکاری اداروں کی ایک پوری زنجیر، اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایک معمولی کام کے لیے شہری کو اتنے دفتروں کے چکر کیوں لگانے پڑتے ہیں، شاید حل نہ ہونے والا ہر مسئلہ کسی افسر کی وجہِ غفلت نہ ہوتا ہو، کبھی کبھی حکومت بھی شہری سے بہت دور ہوتی ہے! اتنا بڑا صوبہ اور دوردراز دربارلگائےبیٹھی حکومت، عام آدمی آخر کرے تو کیا کرے؟ 

پاکستان میں نئے صوبوں کی بات شروع ہوتے ہی بحث عموماً زبان، شناخت، علاقے اور سیاست کے گرد گھومنے لگتی ہے۔

یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک انتظامی سوال بھی ہے، کیا ایک بہت بڑے صوبے میں حکومت شہری کے اتنی ہی قریب رہ سکتی ہے جتنی ایک نسبتاً چھوٹی انتظامی اکائی میں؟

جنوبی پنجاب کے حوالے سے نئے صوبے کی تجاویز تو مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہیں، لیکن جب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پورے ملک میں نئے صوبوں کی بات چھیڑی تو جنوبی پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا، بلوچستان ہو یا سندھ، مختلف خطوں کے شہریوں کے دل میں برسوں سے دبی ایک آواز کو جیسے پھر سے زبان مل گئی  کہ شاید ان کے مسائل کے حل کی ایک صورت نئے صوبوں کے قیام میں پوشیدہ ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کی بحث کو نعرے کے بجائے انتظامی سوال بنانا ہوگا، نیا صوبہ بنانا ایک سیاسی فیصلہ ہوسکتا ہے، مگر نیا صوبہ چلانا انتظامی امتحان ہوگا، اس لیے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیا صوبہ بنے یا نہ بنے،اصل سوال ہونا چاہیے، اگر نیا صوبہ بنے تو عام شہری کی زندگی میں کیا بدلے گا؟

فرض کریں ایک بڑا صوبہ تقسیم ہو گیا، نیا دارالحکومت بن گیا، نئی اسمبلی وجود میں آگئی، نئے محکمے قائم ہو گئے، لیکن عام شہری کو اپنے ایک جائز کام کے لیے پھر بھی سفارش کا سہارا لینا پڑے، تو پھر اس تقسیم سے شہری کی زندگی میں کتنا فرق آیا؟ نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، جواب دہ اداروں اور اچھی بیوروکریسی کی بحث بھی ضروری ہے۔

اصل سوال کتنے صوبے نہیں، شاید ہمیں نئے صوبوں کی بحث کا سوال ہی بدل دینا چاہیے، یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہییں، بلکہ یہ کہ حکومت شہری سے کتنی دور ہونی چاہیے؟ زمین کاغذ سے نکل کر موبائل سکرین تک پہنچ رہی ہے، اب سوال صرف یہ ہے، حکومت شہری کے کتنے قریب پہنچ سکتی ہے؟

(سجاد پیرزادہ سینئر صحافی، لاہور پریس کلب فارن افیئرز کمیٹی کے سابق ممبر ہیں)