چین کا ایران سے حوثیوں کے حملے روکنے کا مطالبہ، تیل کی قیمتیں گر گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) چین کی جانب سے ایران سے حوثی باغیوں کو سعودی تیل تنصیبات پر حملے محدود کرنے کے لیے کہنے کے بعدعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین نے ایران سے کہا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو محدود کرنے میں مدد کرے۔ یہ حملے مشرق وسطیٰ میں تیل کی برآمدات کے ایک اہم راستے کے لیے اضافی خطرہ بن گئے ہیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 95 سینٹ یا 0.93 فیصد کمی کے ساتھ 104.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 1.61 ڈالر یا 1.58 فیصد کمی کے بعد 100.30 ڈالر فی بیرل رہی۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری حملوں، حوثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور دنیا بھر میں ریفائننگ کی صلاحیت سے متعلق مسائل کے باعث تیل اور اہم ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:چارجنگ کے دوران پاور بینک پھٹ گیا! طیارے کی ہنگامی لینڈنگ
صورتحال کے باوجود عالمی تیل منڈی کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت بھی معمول سے کافی کم رہی، جبکہ سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم پائپ لائن پر حملے کے بعد تیل کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی برآمدات کو متاثر کرنے والے حملوں کے بعد چین سے مدد طلب کی تھی، حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل اور باب المندب کے اطراف پیش قدمی نے سعودی تیل کی برآمدات اور بحری جہاز رانی کو مزید خطرات سے دوچار کیا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے کے بعد سعودی آرامکو نے بعض یورپی ریفائنری صارفین کو اکتوبر میں خام تیل کی ترسیل روکنے سے آگاہ کیا ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے خدشات مزید نمایاں ہوئے ہیں۔