100 سال بعد بلی کی نئی نسل دریافت

Sep 18, 2026 | 09:39:AM
100 سال بعد بلی کی نئی نسل دریافت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(  ویب ڈیسک )جنوبی امریکا کے ملک بولیویا میں سائنس دانوں نے بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک نئی نسل دریافت کی ہے، جو ایک صدی سے زائد عرصے بعد سامنے آنے والی بلی کی پہلی نئی سائنسی طور پر تسلیم شدہ نسل ہے۔ اس نئی نسل کا سائنسی نام ’لیوپارڈَس ٹِلکایو‘ رکھا گیا ہے۔مقامی آبادی اس بلی کو ”ٹِلکایو“ کے نام سے پکارتی ہے۔

یہ بلی جنوبی امریکا میں پائی جانے والی ”ٹائیگر کیٹس“ کے گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ چھوٹی جسامت کی بلی تقریباً پانچ پاؤنڈ یعنی دو سے ڈھائی کلوگرام کے قریب وزن رکھتی ہے۔ اس کا جسم دبلا پتلا ہے جبکہ ہلکے بھورے رنگ کی کھال پر گہرے رنگ کے گول اور پھول نما دھبے موجود ہیں۔ اپنی جسامت اور نشانات کی وجہ سے یہ بلی ایسی دکھائی دیتی ہے جیسے کسی تیندوے کو گھر میں پالی جانے والی بلی کے برابر کر دیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:پٹرول بحران کا توڑ مل گیا! قیمتیں کم کرنے کا نیا فارمولا تیار

نیشنل جیوگرافک کی ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس-اسکارانز کے مطابق جب بولیویا میں موجود اس بلی کا مشاہدہ کیا گیا تو اس کی خصوصیات پہلے سے موجود ٹائیگر کیٹس کی بیان کردہ خصوصیات سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ اس فرق نے محققین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا کہ بولیویا میں دراصل ٹائیگر کیٹ کی کون سی نسل موجود ہے۔

نئی نسل کی شناخت صرف ظاہری شکل کی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ اس کے لیے جینیاتی تحقیق بھی کی گئی۔ سائنس دانوں نے جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 38 ٹائیگر کیٹس کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ آٹھ نمونے بھی شامل تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن جانوروں کو پہلے ایک ہی قسم کی ٹائیگر کیٹ سمجھا جاتا تھا، ان میں دراصل پانچ الگ جینیاتی نسلیں موجود ہیں۔