سرکاری ملازمین !پنشن 'گریجوایٹی کٹوتی '،لیوانکشیمنٹ بحالی کے امکانات
تحریر: سید عارف نوناری
Stay tuned with 24 News HD Android App
پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق کے بعد پنشن 'گریجوایٹی 'لیوانکیشمنٹ کے سابق نظام کی بحالی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں, سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں اس میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں حزب اقتدار کے ممبران اسمبلی بھی اپنی حکومت کو ملازمین کو ریلیف دینےکا مطالبہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے کر رہے ہیں اسمبلی نے لا تعداد سوالات سرکاری ملازمین کی پنشن 'گریجوایٹی اور لیوانکیشمنٹ کی بحالی پر کیے جس پر بتایا گیا کہ سرکاری خزانہ پر بوجھ کی وجہ سے یہ اصلاحات ہوئیں سپیکر کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کو وزیر اعلی ریلیف دینا چاہتی ہیں پنجاب میں 10 لاکھ کے قریب پنشنرز ہیں اگر حکومت پارلیمنٹ کے ممبران کو مراعات دیتی جارہی ہے تو سرکاری ملازمین کو ان کے جائز حقوق دینا ریاست کا فرض ہےسرکاری ملازمین کے حقوق کی بات کی جائے تو ان کے حقوق کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ۔
صوبائی ملازمین اور وفاق کے ملازمین میں قوانین اور حقوق میں واضع فرق ہے حالانکہ ایک ہی ریاست کے شہریوں کے ساتھ ایسا ہونا نہیں چاہیے چھوٹے ملازمین نے ہمیشہ مشکلات برادشت کی ہیں اور کرتے ہیں جبکہ سکیل 17تا سکیل 22تک کے ملازمین کے مسائل قدرے کم ہیں چھوٹے ملازمین کی پروموشن کا عمل بھی سست روی کا شکار رہتا ہے جس سکیل میں ملازم بھرتی ہوتا ہے اسی سکیل میں ریٹائر بھی ہو جاتا ہے جس سے اس کا معاشی قتل ہوتا ہے گورنمنٹ اور سیمی گورنمنٹ کے محمکموں میں سروس سٹریکچر ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی پوری سروس میں پرموشن ہوتی ہی نہیں ہے سرکاری ملازمین ریاست اور ملک کی ترقی اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں بیوروکریسی کی اگر بات کی جائے تو وہ چھوٹے ملازمین کے حقوق کے حصول میں سب سے بڑی رکارٹ ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ماتحت ملازمین اپنے مسائل اور حقوق کے لیے اپنی اتھارٹی کو درخواستیں دے کر تھک جاتے ہیں سول سروس رولز جو ریگولیشن محمکہ نے بنائے ہوتے ہیں ان کو بھرپور طریقہ سے وائلیشن ہوتی ہے ملازمین باحالت مجبوری عدالتوں کا رخ کرتے ہیں پھر عدالتیں بھی ان کو سول سروسز رولز پر حکم دیتی ہیں سرکاری ملازمین کے مسائل کے انبار ہیں اتھارٹیاں ان پر توجہ نہیں دیتی ہیں جس کی وجہ سے ملازمین مشکلات اور نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہوتے ہیں اور سرکاری ذمہ داریاں بھی بہتر طریقہ سے سرانجام نہیں دے پاتے ہیں جس سے حکومت اور ریاست دونوں کا نقصان ہوتا ہے اور ریلیشن شپ بہتر نہ ہونے کی وجہ سے گڈ گورننس میں بھی اسی وجہ سے بہتری نہیں آئی ملازمین ریفارمز پر بھی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
دوتین سال سے سرکاری ملازمین اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کے لیے سٹرکوں پر ہیں خواتین اور مردوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے حکومت نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا بھوک و ہڑتال میں پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات پیش کیے لیکن حکومت ٹھس سے مس نہ ہوئی پنجاب ملازمین کا مطالبہ ہےکہ پنشن اور گریجوایٹی میں جو اتنا بڑا کٹ لگایا گیا ہے دسمبر 2024 کے نوٹیفکیشن کو ختم کیا جائے کیونکہ پرانے ملازمین نے جب سرکاری نوکری جوائن کی تھی تو وہ دسمبر 2024 سے پہلے کے نوٹیفکیشن کے مطابق جوائن کی تھی لہذا ان کی پنشن اور گریجوایٹی پر 2024 کا آرڈ نافذ نہ کیا جائے بلکہ دسمبر 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے نئے ملازمین پر لاگو کیا جائے سرکاری ملازمین کا گلا کھونٹ دیا گیا ہے پنجاب اسمبلی میں بھی تحریک استحقاق کی کارروائی جاری ہےاور حکومتی ارکان اسمبلی ملازمین کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ملازمین ریٹائر ہوتے ہیں تو دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں پنشن اور گریجویٹی کو 2024 دسمبر کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت اتنا کم کر دیا گیا ہے کہ ریٹائر ملازم گھریلو اخراجات پورے نہیں کر سکتا اور نہ اس گریجوایٹی سے کسی بچے کو تعلیم دے سکتا ہے اور نہ اپنی جوان بیٹی کی شادی کر سکتا ہے 30 یا 35 سال حکومت کی خدمت اور اپنی زندگی کا ایک حصہ حکومت کو دینے کے بعد سوچتا ہے کہ اس نے ملازمت کیوں کی ؟اور یہ ظلم صرف صوبہ پنجاب میں ہو رہا ہے۔
پاکستان کے باقی تمام صوبوں میں گرایجویٹی اور پنشن سابق قوانین کے مطابق دی جا رہی ہے صرف صوبہ پنجاب کے سرکاری ملازمین پر یہ ظلم و ستم جاری ہے جس سے صوبہ پنجاب کے سرکاری ملازمین میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے ملک نے کیوں نہیں پیچھے رہنا کیونکہ حقوق کا تحفظ نہیں ' غریب اور لاچار پر ظلم ہوتے ہیں اور کو ئی پوچھنے والا نہیں سرکاری ملازمین کے حقوق کی طرف توجہ ہی نہیں ہے پنشن اصلاحات 2024 دسمبر میں کرکے ملازمین کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا۔ پنشن اصلاحات بظاہر ایک انتظامی حکم نامہ ہے، مگر اس کے پیچھے احساسات کی وہ گہری لہر چھپی ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی پوری جوانی ریاست کی خدمت کو دے دی ،سرکاری ملازم بڑھاپے کی دہلیز پر امن، تحفظ اور باوقارریٹائرمنٹ کا خواب لیے کھڑا تھا۔ یہ اصلاحات محض اعداد و شمار نہیں یہ ایک پوری نسل کے خوابوں، امیدوں اور اعتماد کی نئی تشریح ہیں۔حکومتی اعلامیے کے مطابق 2 دسمبر 2024 کے بعد ریٹائر ہونے والے تمام سرکاری ملازمین کے لیے پنشن کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں نافذ کر دی گئی۔
دو بنیادی نکات انتہائی اہم ہیں ماہانہ پنشن میں واضح کمی کر دی گئی پرانےنظام میں 30 سالہ سروس اور60 سال عمرتک ماہانہ پنشن 65% نئےنظام میں وہی سروس، وہی عمرماہانہ پنشن75% فارمولا کے ساتھ یہ مجموعی کمی تقریباً 40 فیصد بنتی ہے۔اس کی وجہ پنجاب میں یہ دی گئی کہ پنشنرز کی بڑھتی ہوئی تعدادریاست پر مالی دباؤہےاور بجٹ کے کمزور وسائل ہیں ان عوامل نے پنشن کے نظام کو ’’مستحکم‘‘ بنانے کے نام پر اس کٹوتی کو ’’ناگزیر‘‘ قرار دیا ہے۔مگر اس ’’استحکام‘‘ کی قیمت ان خاندانوں نے ادا کرنا ہے جو اپنی امیدوں کے سہارے بڑھاپا گزارنے والے تھے۔ پنشن کمپیوٹیشن (Lump Sum) میں شدید کمی کی گئی پرانے نظام میں 35% کمپیوٹیشن تھی نئے نظام میں 25% کمپیوٹیشن کر دی گئی لاکھوں روپے کی کمی ایک ایسے وقت میں ہوتی ہے جب ریٹائرڈ فرد کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں سب سے زیادہ مالی سہارا چاہیے ہوتا ہے۔
اصلاحات کا قانونی جواز یہ دیا گیا کہ آرٹیکل 240 کے تحت حکومت کو سروس اسٹرکچر اور پنشن پالیسی میں تبدیلی کا اختیار حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر ان اصلاحات کو ’’قانونی‘‘ قرار دیا گیا۔ریاست کا موقف ہے کہ پنشن غیر واجبی فلاحی سہولت ہےاسے بجٹ کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہےاورمعاشی بحران کے پیشِ نظر سخت فیصلے ضروری ہیں مگر عدالتی و سماجی ماہرین کے مطابق اصل سوالات کچھ اور ہیں کیا 30 سالہ سروس کے بعد یہ کمی انصاف ہے؟کیا پنشن کو محض ’’مالی بوجھ‘‘ کہنا انسانی ضروریات کا انکار نہیں؟کیا ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچے ہزاروں ملازمین کو ’’تدریجی تحفظ‘‘ نہیں دیا جا سکتا تھا؟یہ سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں، اور اسی تشنگی نے ملازمین کے دلوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ملازمین کے بڑھاپے کو تحفظ دیں - یہ بھی بنیادی حق ہے۔پنشن صرف ایک رقم نہیں ہوتی-یہ برسوں کی خدمات کا اعتراف 'بڑھاپے کی چھت اور عزت کی سانس ہوتی ہے۔جواز یہ ہے کہ جو ملازم 30 سال پہلے بھرتی ہوا اور اب ریٹائر ہوا تو اس پر یہ پنشن اصلاحات نافذ کرنا غلط اور ظلم ہے یہ پنشن اصلاحات صرف نئے بھرتی ہونے والے ملازمین پر لاگو کی جا سکتی ہیں حکومت پنجاب کو دسمبر 2024 کا پنشن اصلاحات کا قانون منسوخ کرنا چاہیے ورنہ ملازمین کی بددعائیں ان کا سانس روک دیں گی چھوٹے ملازمین کے نتخواہ کے علاوہ ریونیو کے دیگر وسائل نہیں ہوتے ہیں پھر لیوانگیشمنٹ بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے مالی طور پر ملازمین کو نقصان ہوا ہے عدالتیں اس بے انصافی پر خاموش ہیں کئی پٹیشن عدالتوں میں جمع ہیں لیکن لگ ہی نہیں رہی ایک ہی ریاست میں تمام شہریوں کے بنیادی حقوق ہونے چاہیں جو نہیں ہیں ملک کے باقی صوبوں میں ملازمین کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور پنجاب میں جب بھی شریف خاندان کی حکومت آتی ہے ملازمین کے ساتھ ظلم اور زیادتی شروع ہو جاتی ہے یہ ملازمین بھی اسی ملک کے باسی ہیں جس ملک کے صوبہ سندھ 'کے پی کے 'بلوچستان کے دوسرے سرکاری ملازمین باسی ہیں وفاق 'عدلیہ اور افواج پاکستان اور کچھ اور دیگر محکموں میں نہ تو پنشن میں کمی کی گئی ہے اور نہ ہی گرایجوئٹی میں کمی کی گئی ہے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کو پنجاب میں پنشن اصلاحات کے ایسے نظام کو ختم کرنا چاہیے جو ملازمین کے حقوق کو تلف کریں مریم نواز شریف اگر ملازمین کو ریلف دیتی ہیں تو لاکھوں سرکاری ملازمین کےخاندان کی ہمدریاں مسلم لیگ ن کے ساتھ ہو جائیں گی اور ووٹ بنک میں بھی اضافہ ممکن ہو گا سرکاری ملازمین پر ظلم اب بند ہو جانا چاہیے اصل میں سرکاری ملازمت کو ڈس کرج کرنے کے بھی یہ حربے ہیں۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر