سابق صدر عارف علوی کو الاٹ گھر نہ ملنے کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

Sep 17, 2026 | 13:02:PM
سابق صدر عارف علوی کو الاٹ گھر نہ ملنے کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احسن عباسی)سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی کو الاٹ شدہ گھر نہ ملنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

درخواست گزار سابق صدر عارف علوی کا مؤقف ہے کہ باتھ آئی لینڈ میں انہیں الاٹ کیے گئے گھر پر سابق کسٹم ملازم کا قبضہ ہے اور سابق صدر کی حیثیت سے رہائش ان کا حق بنتا ہے، جو انہیں ملنا چاہیے۔

سابق صدر کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ عارف علوی کو صدارتی عہدہ ختم ہونے کے بعد یہ گھر الاٹ کیا گیا تھا، تاہم گھر انہیں دیے جانے کے باوجود اسے کوئی دوسرا شخص استعمال کررہا ہے۔

دوسری جانب سابق کسٹم ملازم شہاب امام نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ گھر انہیں قانونی طور پر الاٹ کیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت قانون کا خط موجود ہے، جس کے مطابق انہیں 60 برس بعد یہ گھر خالی کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے یورپ غیر قانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی، عالمی اداروں کا پاکستانی اقدامات کا اعتراف

شہاب امام نے کہا کہ سابق صدر کے پاس پہلے ہی کئی گھر ہیں، اس لیے انہیں اس گھر کی ضرورت نہیں،ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے معاملات کیبنٹ ڈویژن دیکھتا ہے اور اس کے پاس 200 گھر ہیں، اگر وہ چاہیں تو عارف علوی کو اسلام آباد میں گھر دیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سابق صدر عارف علوی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔