لاقانونیت کا اِک عجب جہاں، مسئلے کا حل مل گیا
تحریر: عامر رضا خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
آج صبح سویرے ہی جنوبی پنجاب کے رہنے والے گورچانی قبیلے کے انتہائی مہذب میرے دوست صحافی خرم گورچانی نے ایک ویڈیو ارسال کی جس میں جو منظر تھا اسے بیان کرنے والا کچھ اس انداز میں کمنٹری کر رہا تھا ’’کوئٹہ بھی عجیب شہر ہے جہاں کبھی کبھی ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو پورے پاکستان میں کہیں اور نہیں دیکھے جا سکتے، یہ سڑک کے بیچوں بیچ بنی گرین بیلٹ پر بیٹھے افراد بنک لوٹ کر نکلے ہیں لیکن لوٹی گئی رقم کی تقسیم یہی کی جا رہی ہے، رقم دیکھ کر کچھ راہگیر بھی جمع ہوئے جنہیں بھی تبرکاً کچھ نہ کچھ دے دیا گیا، رقم کی منصفانہ تقسیم کے بعد ہر ایک ڈاکو اپنے گھر کی طرف چل پرا، ایسے ہی جیسے نیاز بانٹنے والے نیاز ختم ہونے کے بعد جاتے ہی‘‘ منظر واقعی عجیب تھا اور یہ ایک ایسی کہانی بیان کر رہا تھا جو ناقابل یقین ہے۔ کیا صوبوں میں لاقانونیت اس حد تک بڑھ چکی ہے؟ شائد اسی لیے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جناب سرفراز بگٹی صاحب نے انتظامی یونٹس کی حمایت کی ہے۔
میں اس پر پہلے بھی لکھ اور بول چکا ہوں، اب دوبارہ لکھ رہا ہوں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ پنجاب جیسے بڑی آبادی والے، سندھ جیسے معاشی سمندری علاقوں کے حامل علاقوں، افغانستان کے ہمسایہ خیبر پختونخواہ میں اور وسیع و عریض بلوچستان میں ایک آئی جی پولیس ایک ہوم سیکرٹری، ایک وزیر اعلیٰ تمام معاملات کو بہتر انداز میں حل کر سکے، خاص کر ان حالات میں جب فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے سانپ ہمارے سینوں پر لوٹ رہے ہوں اور ہمیں ڈنک مارنے کو بے چین ہوں۔ کیا انتطامی یونٹس کی تقسیم کی کوئی وجہ امن و امان اور عوام کے تحفط سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے؟ کیا ہمارے جوانوں کے جنازے اسی طرح اٹھائے جاتے رہیں گے؟ کیا عوام کبھی کچے اور کبھی پکے کے ڈاکوؤں کا آسان شکار بنتے رہیں گے؟ لوگ بنک سے رقم لیکر نکلتے ہیں اور صرف لوٹے نہیں جاتے مار دیے جاتے ہیں۔ ذرا کراچی کے اعداد و شمار ہی نکال لیں اس سال 2026 میں یعنی 9 ماہ میں تقریبا پچاس افراد اپنی جان سے گئے، رقم بھی گئی، سہاگنوں کے سہاگ اور ماؤں کی گود اجاڑ دی گئی۔
ہم انتظامی یونٹس کی تقسیم کو اس دہشتگردی، غنڈہ گردی اور ڈاکو گردی کے خلاف طاقت بنا سکتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں سوچتے کہ ہم ہر آنے والے دن میں آبادی کے پھیلاؤ میں پھنستے چلے جارہے ہیں اور اس سے باہر نکلنے کا آسان حل صرف نئے انتطامی یونٹس اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اس کے علاوہ کوئی حل ہے تو بتائیں۔ کیا ہم پنجاب کے چوہدریوں، سندھ کے وڈیروں اور بلوچستان و خیبر پختونخواہ کے چند سرداروں کے ہاتھوں 25 کروڑ عوام کو یرغمال بنانے کے اس نظام کو بدلنا نہیں چاہتے؟ کیا ہم سب پاکستانیوں کا حق نہیں کہ انہیں امن و امان اور صحت و تعلیم کی بہتر سہولیات میسر نہ آئیں؟ کیا ہمارے نوجوانوں کو روزگار نہیں چاہیے؟ اور کیا ہمارے دکانداروں کو بہتر کاروبار نہیں چاہیے؟ جی سب کچھ چاہیے تو اُن کو جواب دیا جانا چاہیے جو انتظامی یونٹس کو بٹوارے کا نام دیکر عوام سے بہتر طرز زندگی کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ آئیے میرے ہم آواز ہوں تاکہ جلد از جلد منزل کو پالیا جائے۔