گالی اور گولی کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل کاحل مذاکرات، مکالمے سے ہی ممکن ہے، مولانا فضل الرحمان

Sep 16, 2026 | 20:48:PM
 گالی اور گولی کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل کاحل مذاکرات، مکالمے سے ہی ممکن ہے، مولانا فضل الرحمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کی مجلس عاملہ کے وفد نے امیر جےیوآئی جموں و کشمیر مولانا سعید یوسف خان کی قیادت میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے  جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال، کشمیری عوام کو درپیش مسائل اور خطے میں جاری کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایکشن کمیٹی نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی ذمہ داری سونپی، جسے انہوں نے قبول کیا اور اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر بھی فریق بننے کے بجائے ثالثی اور مفاہمت کا کردار ادا کرے، تاکہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں مدد مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ وقت کو کشمیری عوام کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے کرنے چاہئیں اور موجودہ پریشان کن کیفیت کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئیں، تاکہ اہلِ کشمیر کو دوبارہ پرامن اور معمول کی زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  مکہ مکرمہ کی جانب آنے والاحوثی ڈرون تباہ 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گالی اور گولی کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل کا پائیدار حل مذاکرات، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم سے ہی ممکن ہے۔ حکومتِ پاکستان کو اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو جلد از جلد یکسو کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ راستوں کی بندش اور خوراک و دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں رکاوٹ کسی بھی صورت قیامِ امن کے لیے مناسب اقدام نہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا اور آمدورفت کے راستے کھلے رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔