وزارت خارجہ کے افسروں نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لئے، تحقیقات میں انکشاف

Sep 16, 2026 | 21:02:PM
وزارت خارجہ کے افسروں نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لئے، تحقیقات میں انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  شہریوں کی دستاویزات  کی تصدیق کے عمل مین شہریوں سے اربوں روپے لوٹ لئے گئے۔ وزارتِ خارجہ مین بڑے کرپشن سکینڈل کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

 وزارت خارجہ کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا ہے جس سے پتہ چلا کہ  شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق  کے عمل میں غیر قانونی طور پر 12 ارب روپے اینٹھے  گئے ہیں۔

وزارت خارجہ میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ کی نقل  سامنے آ گئی ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ ڈی جی آڈٹ انسپیکشن ڈاکٹر احمد علی سروہی کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی نے تیار کی۔  اس رپورٹ میں کاغذات کی تصدیق میں عوام سے پیسے بٹورنے کے  مافیا کی نشاندہی کی گئی ہے۔  

اس رپورٹ مین تصدیق کی گئی ہے کہ شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیر قانونی چینل استعمال کرنے کے آٹھ لاکھ روپے لیے جاتے رہے۔  صرف ایک سال کے عرصہ میں 12 ارب روپے کی رقم غیر قانونی طور پر اکٹھی کی گئی۔ ہر ماہ شہریوں کے جیبوں سے ایک ارب روپے نکلے۔

ایک  کورئیر کمپنی کا وزارت خارجہ کے ایک افسر سے  خاص نوعیت کا تعلق تھا۔ وزارت خارجہ کے  حکام نے بتایا کہ  اس رپورٹ میں مافیا سے جڑ ے ان افسران اور اہلکاروں کے نام اور بیانات بھی شامل  ہیں جنہوں نے شہریوں کو لوٹنے میں کردار ادا کیا۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مافیا میں سیکرٹری خارجہ کے دفتر میں کام کرنے والا افسر بھی شامل تھا۔

 

وزارت خارجہ کے کئی  ونگز کے ڈائریکٹر جنرل، ایک  سابق ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق سفارتکار  کے نام بھی تحقیقاتی رپورٹ میں شامل پائے گئے ہیں۔ 

معلوم ہوا ہے کہ  جولائی میں سیکرٹری خارجہ کے دفتر کو بھیجی گئی رپورٹ نیب یا  کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو نہیں بھجوائی گئی۔

یہ بھی معلوم ہواہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ موصول ہو جانے کے بعد کمیٹی کی سفارشات سامنے آ جانے کے باوجود ملوث افسران میں سے کئی کو بیرون ملک تعینات کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:   حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جنگ خطرناک مرحلہ میں داخل ہو گئی، سعودی عرب کی حوثی ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس