حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد جنگ خطرناک مرحلہ میں داخل ہو گئی، سعودی عرب کی حوثی ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب دیسک) یمن کی سرکاری فوج (PLC) اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور اب سعودی عرب نے حوثیوں کے بار بار مین لینڈ سعودی عرب پر حملوں کے بعد حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر براہِ راست فضائی حملے (Airstrikes) شروع کر دیے ہیں۔
یمن کی خانہ جنگی میں کئی ماہ کے وقفہ کے بعد یمن کی سرکاری فوج نے حوثی باغیوں کے مقبوضہ علاقوں پر فوجی کارروائیاں شروع کین تو حوثی باغیوں نے ان کا جواب سعودی عرب پر براہ راست حملوں سے دیا۔ اور یہ دعویٰ کیا کہ حوثی باغیوں کے مقبوضہ علاوں پر فوجی کارروائی یمن کی حکومتی فوج نہیں کر رہی بلکہ یہ سعودی عرب کارروائی کر رہا ہے۔ اس صورتحال مین سعودی عرب کی طرف سے خاموشی رہی لیکن اب سعودی عرب مین اپنی اہم تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں، باب المندب کے علاقہ مین سعودی عرب کے تیل کی گزرگاہ کو حوثیوں کی جانب سے خطرات میں کئی گنا اضافہ اور ھال ہی مین مقدس شہر مکہ پر حوثیوں کے حملے کے بعد یمن کی جنگی صورتحال تشویش ناک رخ اختیار کر گئی ہے۔ انترنیشنل میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگی صورتحال کی تازہ ترین صورتحال پشویش ناک ہے۔
یمنی حکومت کی حوثیوں کے خلاف کارروائیاں
انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یمنی حکومت کی حامی فورسز (Presidential Leadership Council) نے حوثیوں کی حالیہ تیز رفتار پیش قدمی کو روکنے کے لیے کئی محاذوں پر جوابی حملے شروع کیے ہیں۔تعز اور مآرب میں شدید لڑائی
حوثی باغیوں کی جانب سے اب تک یمن کی حکومت کے کنٹرول میں رہنے والے اہم سٹریٹجک ساحلی شہر المخا (Mocha) اور باب المندب کے قریبی علاقوں پر قبضے کے بعد، یمنی سرکاری فوج نے مآرب، الجوف اور البیضاء کے علاقوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کی ہے۔ اب یمن کی فوج ان علاقوں میں حوثی باغیوں کا مضبوط محاصرہ کئے ہوئے ہے۔
فضائی اور زمینی دفاع
انٹرنیشنل میڈیا ک یرپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ یمنی فوج نے المخا بندرگاہ اور قریبی جزائر کو حوثیوں کے کنٹرول سے واپس لینے کے لیے زمینی پیش قدمی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس شدید لڑائی کے باعث حالیہ دنوں میں 1 لاکھ سے زائد یمنی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
کیا سعودی عرب نے براہِ راست حملہ کیا ہے؟
تازہ ترین میڈیا رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کے جواب میں سعودی عرب نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہروں (خمیس مشیط، ابہا، اور جازان) اور مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کے جواب میں سعودی عرب نے "سخت ردعمل" کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد حوثیوں کے اہم ٹھکانوں پر ائیر سٹرائیکس کی جا رہی ہیں۔
سعودی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبوں مآرب (صرواح)، الجوف، تعز (البرح) اور صعدہ کے سرحدی علاقوں میں حوثیوں کے کمانڈ سینٹرز اور ٹھکانوں پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔
حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ایف-15 اور ٹائفون جنگی طیاروں نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر 450 سے زائد فضائی حملے کیے
سعودی عرب کا ایف ففٹین طیارہ گرانے کا دعویٰ
آج ہی حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یمنی فضائی حدود میں ایک میزائل کے ذریعے سعودی عرب کا ایک F-15 جنگی طیارہ مار گرایا ہے، تاہم سعودی حکام کی طرف سے اس دعوے پر تاحال کوئی باقاعدہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
سعودی ولی عہد نے خطے کی سکیورٹی کے لیے مصر اور دیگر اتحادیوں سے رابطے کئے ہیں، جبکہ پاکستان نے بھی بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کو انتباہی پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے حوثی اتحادیوں کو قابو میں رکھے۔
یہ بھی پرھین: حوثیوں کا سعودی عرب میں آرامکو کی تنصیبات اور ائیر بیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ