میر رضا ظالمانہ قتل کیس؛ چونکا دینے والی کال کا آڈیو ریکارڈ سامنے آ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) میر رضا ظالمانہ قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنی 15 ستمبر کی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکمنامے کے مطابق مقتول میر رضا کے ورثا کے وکیل جبران ناصر نے میر رضا کے والد کو موصول ہونے والی کال سے متعلق ریکارڈ پیش کیا۔ جبران ناصر کے مطابق کال کرنے والے نے خود کو سینیئر سرکاری افسر ظاہر کیا۔ آڈیو کے مطابق کال کرنے والے شخص نے ایس ایچ او عدیل افضال کی حمایت کی تھی۔ جج نے آج کی کارروائی کے تحریر آڑڈر مین یہ لکھا کہ (جبران ناصر کی فراہم کردہ اس) آڈیو میں موجود دیگر گفتگو آرڈر میں شامل کرنے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق کارروائی کے دوران انسپکٹر محمد علی، شہریار علی، اسد علی بٹ اور ہیڈ کانسٹیبل ذیشان حیدر کے بیانات ریکارڈ کیئے گئے۔
آسٹریلیا میں موجود حسن تنولی کا بیان وڈیو لنک پر ریکارڈ کیا گیا۔ احمد حسن نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کی واچ سے ملنے والی سرمایہ کاروں کی فہرست میں احمد عثمان کا نام درج ہے۔ احمد حسن کے مطابق احمد اور عثمان دو الگ الگ افراد ہیں۔
احمد حسن نے بتایا کہ انہوں نے بھی میر رضا کے بزنس میں سرمایہ کاری کی تھی۔ کمیشن نے سرکاری ملازم عثمان بوزئی کو بھی نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔
چونکا دینے والی کال کا آڈیو ریکارڈ سامنے آ گیا
آج کی سماعت کا اہم ترین حصہ جبران ناصر کے پیش کردہ شواہد پر مبنی ایک فون کال کا آڈیو ریکارڈ تھا۔
مقتول میر رضا کے ورثا کے وکیل جبران ناصر نے میر رضا کے والد کو موصول ہونے والی کال سے متعلق ریکارڈ پیش کیا۔ جبران ناصر کے مطابق کال کرنے والے نے خود کو سینیئر سرکاری افسر ظاہر کیا۔ آڈیو کے مطابق کال کرنے والے شخص نے ایس ایچ او عدیل افضال کی حمایت کی تھی۔ جج نے آج کی کارروائی کے تحریر آڑڈر مین یہ لکھا کہ (جبران ناصر کی فراہم کردہ اس) آڈیو میں موجود دیگر گفتگو آرڈر میں شامل کرنے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنے آج کے تحریری حکمنامہ میں لکھا، "ایس ایچ او عدیل افضال کو حمایت کے لئے مہم چلانے پر تنبیہ کی جاتی ہے۔"
تحریری حکمنامہ میں بتایا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کو تھانہ فیروز آباد اور گلستان جوہر کے روزنامچہ بھی فراہم کئے گئے۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے ہی اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں۔
تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے کمیشن کو بتایا کہ وہ اس معاملہ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی سے موبائل فون چھیننے والے فرد کو کمیشن میں پیش کریں گے۔
ڈاکٹر اسامہ کو صحافی کا موبائل فون چھیننے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اسامہ نے مزید بیان ریکارڈ کروانے کے لئے موقع فراہم کرنے کے درخواست کی۔ کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی۔
جوڈیشل کمیشن نے کیس کے پہلے تفتیشی افسر شبیر لغاری کو پیشی کے لئے نوٹس جاری کردیئے۔ کمیشن کا آئندہ اجلاس 17 ستمبر کو ہوگا۔