میر رضا قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کیلئے حکومت کا عدالت عالیہ کو خط

Aug 23, 2026 | 17:44:PM
میر رضا قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کیلئے حکومت کا عدالت عالیہ کو خط
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) سندھ کی حکومت نے  نوجوان تاجر میر رضا کے الم ناک قتل کے  کیس  میں پولیس کی سینئیر ترین ارکان کی کمیٹی کے کوئی نتیجہ نہ لانے کے بعد والدین کے احتجاج پر جوڈیشل انکوائری کروانے کا ایک بار پھر فیصلہ کر لیا۔ 

سندھ کابینہ  کی  جانب سے  جوڈیشل انکوائری کروانے کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ 

حکومت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ سندھ کابینہ نے کیا ہے۔

میر رضا علی کے الم ناک قتل  کی تحقیقات سندھ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں ہوں گی۔

سندھ کابینہ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے۔ 

سندھ ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے سیکشن 3 کے تحت عدالتی تحقیقات کا کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ میر رضا علی کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس  منظور کر لئے گئے ہیں۔

میر رضا علی ولد میر حسین علی کے قتل کا مقدمہ تھانہ فیروز آباد کراچی میں درج ہے۔ اس قتل کی ناقاص تحقیقات کرنے پر ایک ایس ایچ او معطل کیا گیا، ناقص پوسٹ مارٹم رپورٹ لکھنے پر ایک میڈیکولیگل آفیسر کو برطرف کیا گیا، ڈی آئی جی کی سربراہی میں تین ایس پی افسروں اور ایک ڈی ایس پی سمیت سینئیر اہلکاروں کی تفتیشی ٹیم بنائی گئی۔ قبر کھوڈ کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کر کے قتل کی تصدیق کرنے والے شواہد حاصل کئے گئے۔ مقتول کے فون کا فورنزک اب تک نہیں کیا گیا۔ اس قتل کی تفتیش کی آج عدالت میں رپورٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ گزشتہ تاریخ پر عدالت نے میر رضا کے بزنس پارٹنر کی عبوری ضمانت منطور کی تھی حالانکہ اس کیس میں کوئی شخص ملزم نامزد نہیں اور پولیس نے اس بزنس پارٹنر کا "گواہ " کی حیثیت سے  بیان لیا۔

میر رضا علی کے قتل کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 795/2026 کے تحت درج کیا گیا۔ اس مقدمہ کو لے کر پولیس نے مقتول میر رضا کے والد پر سخت دباؤ ڈالا تھا کہ ان کے بیٹے نے دراصل خودکشی کی ہے حالانکہ مقتول کے جسم پر شدید تشدد کے نشانات تھے اور ان کو گولی کمر پر مارے جانے کے ٹھوس شواہد موجود تھے۔ یہ گولی سینے میں سے باہر نکل گئی تھی۔ قمیض پر پیچھے صرف بلٹ کے داخل ہونے کا چھید تھا اور آگے بہت بڑٓ چھید تھا۔ 

میر رضا علی کے قتل کے  مقدمے میں قتل عمد کی سیکشن 302 ، قتل کے شواہد چھپانے کی سیکشن 201 کے ساتھ اغوا  کی سیکشن  دفعہ 365 پی پی سی شامل ہے۔

اس مظلوم موت کی ناقص تحقیقات کرنے میں پولیس نے بنیادی کردار ادا کیا لیکن میڈیا میں بھی کالی بھیڑوں نے اس کیس کی ناقص تحقیقات کرنے والوں کی ساتھ ملی بھگت کر کے اس قتل کو "ہلاکت" شمار کروانے کی کوشش کی۔

عدالتی تحقیقات کرنے کا اصل حکم نو اگست کو  جاری ہوا

نو اگست کو یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ  سندھ حکومت نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا  اعلان کر دیا۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے  وزیراعلیٰ مراد علیشاہ کی ہدایت پر مقتول میر رضا کے والدین سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے مقتول کے والد کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے میررضا کے قتل کی تحقیقات کرنے کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا  حکم دے دیا ہے۔

 وزیرداخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار  اور  کراچی کے مئیر مرتضی وہاب آج  مقتول میرعلی رضاکےگھر گئے اور ان کے والدین سے ملاقات کی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور  میئر بیرسٹر مرتضی وہاب نے  میر رضا کے اہلخانہ سے اس المناک سانحہ پر تعزیت کی، مقتول کے ایسال ثواب کیلئے فاتحہ کہی اور اس کیس کی تفتیش میں  سنگین شکایات سامنے آنے پر مقتول کے اہل خانہ سے معذرت کی۔ ضیا لنجار اور مرتضیٰ وہاب نے میر رضا کے قتل کی تحقیقات منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقہ سے کروانے اور قاتلوں کو قانون کی گرفت اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ حکومت نے میر رضا کیس میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا  اعلان کر دیا 

یہ بھی پڑھیں:  میر رضا کے خون میں جسم کو سن کرنے والی دوا کیوں موجود تھی؟ نئے شواہد سامنے آ گئے 

یہ بھی پڑھیں: کراچی کا مشہور قتل کیس؛ علی رضا میر کا پوسٹمارٹم ہونےسےاہم حقائق سامنے آ گئے