کراچی کا مشہور قتل کیس؛ علی رضا میر کا پوسٹمارٹم ہونےسےاہم حقائق سامنے آ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) کراچی کے تاجر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کئی انکشافات سامنے آئے ہیں۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں قتل ہو جانے والے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، اس مشہور کیس کی تفتیش سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ مقتول میر رضا علی کو سینے میں صرف ایک گولی ماری گئی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سینے میں آتشیں اسلحے کا ایک ہی زخم پایا گیا ہے، جب کہ موت بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے لگنے والے شاک کے باعث ہوئی۔
پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم میں لاش کو جلائے جانے کے شواہد نہیں ملے ہیں، پولیس سرجن نے یہ بھی بتایا کہ لاش میں گلنے سڑنے کے آثار پائے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ان انکشافات سے تفتیش کرنے والے حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قتل کرنے والے نے پہلے تشدد کیا، پھر گولی مارنے کے بعد بھی دیر تک مقتول کے قریب رہ کر اسے زخمی حالت میں ایسے رکھا کہ کوئی اس کی مدد کے لئے نہ پہنچ سکے، اس دوران خون زیادہ بہہ جانے سے مقتول کی موت ہو گئی، تب بھی اس کی لاش لوگوں کی رسائی سے دور رہی، حتیٰ کہ اس میں گلنے سڑنے کا عمل شروع ہو گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں اب تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، اور تفتیشی ٹیم قتل کے تمام پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔
25 سالہ میر رضا علی کے قتل میں کون ملوث ؟ پولیس کو اہم سراغ مل گیا
اس سے پہلے کی تحقیقات میں پولیس نے 25 سالہ میر رضا علی کے قتل کی واردات میں قریبی شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا اور بتایا جس دن میر رضا کا قتل ہواوہ کچن پہنچا ہی نہیں تھا۔
ایس ایچ او فیروز آباد اور تفتیشی افسر نے ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ کے کچن کا باریک بینی سے معائنہ کیا، جہاں پولیس کے انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ اور آپریشنز کے حکام نے شواہد کا جائزہ لیا۔
پولیس حکام نے اہم انکشاف کیا کہ جس دن میر رضا کا قتل ہوا، وہ کچن میں گیا ہی نہیں تھا، کرائم سین کے معائنے کے دوران دیکھا گیا کہ کچن میں ویفلز بنانے کی مشینیں اور دیگر تمام سامان ویسے کا ویسے ہی اپنی جگہ پر موجود تھا۔
پولیس نےاس کچن کے اطراف کام کرنے والے تمام ملازمین کے بیانات قلمبند کئے لیکن کسی بھی مشکوک سرگرمی کا سراغ نہیں لگ سکا۔
تحقیقات کے دوران آن لائن ٹیکسی رائیڈر کے بتائے گئے گیسٹ ہاؤس پر بھی پولیس نے چھان بین کی تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اب یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقتول میر رضا اس گیسٹ ہاؤس کی جانب نہیں گیا تھا۔ اس سے کہانی میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، اب تک کے شواہد اور حالاتِ واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئےشبہ ہے کہ قتل کی واردات میں مقتول کا کوئی انتہائی قریبی شخص ملوث ہے۔
پولیس نے مقتول کا فون ریکارڈ اور رابطوں کا ڈیٹا بھی ٹیلی کام کمپنی سے طلب کر لیا ہے۔موبائل ڈیٹا کے انیلیسس سے اس اندھے قتل کے کیس کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ مقتول کا موبائل فون اس کی لاشش سے تقریباً 200 گز کے فاصلے پر ملا تھا، جائے وقوعہ سے پستول کا ہولسٹر بھی ملا۔
رپورٹ کے مطابق میر رضا علی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس پر ٹیکسی ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ، اس ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے مقتول علی رضا کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر اتارا تھا۔
میر رضا علی 28 جولائی کی رات کو پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے نکلا تھا، اور اس کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ اسے گولی مار کر قتل کیا گیا تھا اور لاش بری حالت میں تھی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتول کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے گئے تھ۔ میر رضا علی آئی بی اے کا سٹوڈنٹ تھا اور گزشتہ پانچ برس سے کاروبار کر رہا تھا، مقتول کے والد کے مطابق اگست میں اس کا نکاح ہونا تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ رشمیکا مندانا شوٹنگ کے دوران شدید زخمی ہو گئیں