جنرل اسمبلی کا اجلاس،امریکا کا ایک بار پھر فلسطینی صدر اور حکام کو ویزا جاری کرنے سے انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے وفد میں شامل درجنوں حکام کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
فلسطینی حکام کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی صدر کو امریکا آنے اور جنرل اسمبلی سے ذاتی طور پر خطاب کرنے سے روکا گیا ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے اس فیصلے کی وجہ قومی سلامتی، امن کوششوں کو نقصان پہنچانے اور بعض دیگر قانون سازیاں ہیں جس کے تحت فلسطینی قیادت کو جوابدہ بنایا جانا ہے۔
فلسطینی حکام نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے میزبان ملک کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے جس کے تحت امریکا پر لازم ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے آنے والے عالمی رہنماؤں کو سفری سہولیات فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی اضافی تیل ترسیل کی پیشکش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
اس پابندی کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر محمود عباس گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی نیویارک ہال میں ذاتی موجودگی کے بجائے ویڈیو لنک یا ریکارڈ شدہ بیان کے ذریعے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔