میر رضا ظالمانہ قتل کیس؛ برطرف میڈیکولیگل آفیسر اسامہ کا پولیس سرجن کے متعلق نیا دعویٰ

Sep 17, 2026 | 17:40:PM
   میر رضا ظالمانہ قتل کیس؛ برطرف میڈیکولیگل آفیسر اسامہ کا پولیس سرجن کے متعلق نیا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  میر رضا ظالمانہ قتل کیس کی جوڈیشل تحقیقات میں مقتول نوجوان کا پوسٹمارٹم مین حقائق کو چھپانے اور مسخ کرنے میں ملوث برطرف میڈیکولیگل آفیسر ڈاکٹر اسامہ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کے متعلق نیا دعویٰ  کر دیا،   تفتیشی ٹیم نے اسامہ کے الزام کی تصدیق کرنے کے لئے  اس کے فون کا فورنزک ٹیسٹ کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی سے میر رضا ظالمانہ قتل کیس کی تحقیقات میں موصولہ اپ ڈیٹ  یہ ہے کہ  میر رضا کیس میں نیا موڑ سامنے آیا ہے جہاں غلط طریقہ سے پوسٹمارٹم رپورٹ لکھ کر حقائق کو چھپانے کے مجرم ڈاکٹر اسامہ نے تفتیشی ٹیم کے سامنے نیا مؤقف اپنایا ہے کہ انہوں نے پہلا پوسٹ مارٹم کرنے کے فوراً بعد ہی پولیس سرجن کو "اس سے آگاہ کر دیا تھا۔"

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے تفتیشی ٹیم کو پوسٹ مارٹم کے پہلے دن  ہونے والی ایک واٹس اپ چیٹ   دکھا ئی ہے، جس میں پوسٹ مارٹم کے حوالے سے  بات کی  گئی تھی۔

ڈاکٹر اسامہ نے الزام لگایا  کہ 29 تاریخ کو پوسٹ مارٹم والے دن سے ہی انہوں نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کو اس معاملے پر  حقیقت بتا دی تھی  واٹس اپ چیٹ میں بھی تمام تفصیلات موجود ہیں۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کو ’’اوکے‘‘ بھی کیا تھا، تاہم ایک دو روز بعد پولیس سرجن نے مبینہ طور پر میڈیا پر آ کر پوسٹ مارٹم کو غلط قرار دیا اور اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

ڈاکٹر اسامہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے پہلے پوسٹ مارٹم کے ایک صفحے پر دستخط بھی بعد میں کیے۔

دوسری جانب، پولیس نے واٹس اپ چیٹ اور شواہد کی صداقت اور تصدیق کے لیے ڈاکٹر اسامہ کا موبائل فون فرانزک کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر اسامہ کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے این سی سی آئی اے کو بھیجا جا رہا ہے تاکہ حقائق کا حتمی تعین کیا جا سکے۔

میر رضا ظالمانہ قتل کیس کی تحقیقات کو گمراہ کرنے مین ڈاکتر اسامہ کا کردار 

میر رضا ظالمانہ قتل کیس  کی تحقیقات کو گمراہ کرنے کی وجہ سے اب تک اس مظلوم مقتول کا قاتل گرفتار نہیں ہوا۔ پولیس کے تفتیش کے انچارج نے سنگین مجرمانہ اقدامات کئے اور  میڈیکولیگل آفیسر اسامہ نے پوسٹ مارٹم  کی رپورٹ میں گمراہ کیا۔ پولیس سرجن ڈٓکتر سمیعہ نے بعد میں اس پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سٹینڈ لیا اور مقتول کے والدین کی درخواست پر ڈاکتر سمیعہ کی مدد سے عدالت نے مقتول میر رضا کی قبر کو کھول کر دوبارہ ان کا پوسٹ مارٹم اور  دستیاب ایویڈنس کے کیمیائی تجزیہ کا حکم دیا۔ اس قبر کشائی سے ثابت ہو گیا کہ ڈاکٹر اسامہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دراصل خود ایک سنگین جرم ہے۔ اس کو عہدہ سے تعو ہٹا دیا گیا لیکن اب تک قرار واقعی سزا دینے کے لئے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھیئے: اب ہر شہری کے لیے ہزاروں روپے، حکومت کی عوام کو بڑی آفر