سرکاری اداروں میں نیا سامان خریدنے پر پابندی، ڈنر لنچ تقریبات بند، بیرون ملک دورے بند، کفایت شعاری مہم کا نیا نوٹیفیکیشن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) حکومت نے پٹرول، ڈیزل اور دیگر پترولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے دوران سرکاری ملازموں اور سرکاری اداروں کو سخت کفایت شعاری اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام غیر ملکی دوروں، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی اور کئی دیگر سخت احکام جاری کر دیئے ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دوران آج یہ اہم حکم جاری کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں نئی گاڑیوں اور تمام "پائیدار اشیا" کی خریداری پر مکمل پابندی ہو گی۔ سرکاری ملازم غیر ملکی دوروں پر بھی نہیں جا سکیں گے۔
سرکاری ملازموں پر سخت پابندیاں
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اقسام کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ سرکاری اداروں میں آئی ٹی آلات کی خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے بیرون ملک سرکاری دوروں اور بیرونِ ملک سفر کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ از حد ناگزیر بیرون ملک مصروفیت کی صورت میں وزرا، مشیر، سرکاری افسر صرف اکانومی کلاس میں سفرکریں گے۔
اندرون ملک سفر محدود، ویڈیو کانفرنس سے کام چلائیں
تمام سرکاری اداروں میں معمول کے اہم اجلاس اب صرف ویڈیو لنک سے ہوں گے اور سرکاری ملازم ان اجلاسوں میں شرکت کے لئے سفر کرنے پر اخراجات نہیں کریں گے۔
سرکاری گاڑیوں کیلئے فیول کے کوٹہ میں کمی
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے لئے پٹرول، ڈیزل کا بھی کوٹہ کم کر دیا ہے۔
آرمڈ فورسز، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والےاداروں کی گاڑیاں ایندھن کے کوٹہ میں کی کمی کے حکم سے مستثنیٰ ہوں گی۔
سرکاری لنچ اور ڈنر کی تقریبات بند
تمام اداروں پر سرکاری ڈنر اور لنچ کروانے پر بھی پابندی لگادی گئی ہے، غیرملکی وفود کے اعزاز میں کئے جانے والے ڈنر اس پابندی سےمستثنیٰ ہیں۔
کانفرنس، سیمینار، ٹریننگ پروگرام بند
حکومت کے خرچ پر سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اورکانفرنسز پرپابندی ہوگی۔
ہوٹیل ، ریسٹورنٹ کے استعمال پر پابندی
از حد ناگزیرسرکاری تقریبات کے لیے کسی ہوٹیل یا ریسٹورنٹ میں انتظامات نہیں کئے جا سکیں گے۔ از حد ناگزیر سرکاری تقریبات کرنے کے لئے اب صرف سرکاری آڈیٹوریم اورکمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شادی سے متعلق تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔
استثنیٰ کیسے ملے گا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستیں کیس ٹوکیس زیر غورلائی جائیں گی۔ استثنیٰ کی منظوری کےلیے کمیٹی اپنی سفارش وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ صوبائی اور علاقائی حکومتیں وفاقی حکومت جیسےکفایت شعاری اقدامات اپنانے پر غورکرسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: اب ہر شہری کے لیے ہزاروں روپے، حکومت کی عوام کو بڑی آفر