گھر میں خوشحالی کا نسخہ کیمیا کیا ہے؟

Sep 17, 2026 | 16:29:PM
گھر میں خوشحالی کا نسخہ کیمیا کیا ہے؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ہمارے علاقے میں ایک کنال کا گھر خوشیوں کا گہوارہ ہے اس ایک گھر میں ماں باپ کے ساتھ 6بچے اُن کی بیویاں اور بچے رہائش پذیر ہیں, کبھی کوئی لڑائی کوئی تنازعہ کو خفگی ناراضگی نظر نہیں آئی حسن سلوک اتحاد و یکجہتی ایسی کے پوچھئیے نا سب بھائی اتفاق کی مثال ہیں ، اُن کی اولاد کچھ کی جوان کچھ کے چھوٹے بچے لیکن نا کوئی جھگڑا کے میرے بچے کو تمہارے بچے نے مارا ہے، تمام بہوئیں یک جان ہوکر رہتی ہیں اور ساس سسر کی خدمت سگے ماں باپ سے زیادہ کرتی ہیں خوشی غمی میں یہ ایک دوسرے کا کام کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں ۔

اسی محلے میں ایسا گھر بھی ہے جہاں تین بھائیوں نے شادی کے بعد مکان کا بٹوارہ کرلیا دیواریں کھڑی کردیں، ماں باپ کی خدمت کا بھی حصہ بانٹ لیا ایک دوسرے کو بلانا تو دور دیکھنا بھی چھوڑ دیا آئے روز کے لڑائی جھگڑے کے باعث کوئی اس گھر کے سامنے سے گزرتے بھی ڈرتا ہے اس نے میرا پانی ضائع کردیا اس نے اے سی چلا کر بجلی کا بل بڑھا دیا اور اس کی وجہ سے گیس کا پریشر نہیں آتا  میرے گڈو کو چنوں نے دھکا دیا غرض آنے جانے کھانے پینے بیٹھنے اٹھنے تک پر اور تو اور مہمانوں کے آنے پر بھی جھگڑا باجی آئی تو اُس کے گھر زیادہ دیر رکی ہمارے گھر کم اور میرے ماں باپ آئے تو مرمت کا کام شروع کردیا سر درد لگادی ۔
کیا بتاوں ان گھریلو جھگڑوں نے ناک میں دم کر رکھا تھا ایک دن خیال آیا کیوں نا یہ معلوم کیا جائے کہ سطور بالا میں لکھے گئے گھر کی خوشخالی ، اتفاق اور امن و سکون کی وجہ کیا ہے ،میرا وہاں آنا جانا پہلے سے ہی تھا اس لیے وہاں کے بزرگوار سے ملاقات کی اور اس اتحاد و خوش رنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا چھوٹے یونٹس اس کی بنیادی وجہ ہے ، میں حیران و پریشان ہوا کہ یہ کیا بات کی تو انہوں نے کہا ہم اندرون لاہور کے رہنے والے ہیں جہاں مرلہ ڈیڑھ مرلہ کے مکان پر بھی میں نے لوگوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا اس لیے فیصلہ کیا کہ زندگی میں ایسی پریشانیاں نہیں آنے دینی ۔
اللہ پاک نے توفیق دی اپنا ایک کنال کا گھر بنایا6 بیٹے تھے اس لیے جس جس کی بھی شادی کی دو باتوں کو مدنظر رکھا ایک جس کی شادی کی جائے وہ صاحب روزگار ہو یعنی اتنے وسائل ہوں کہ بیوی بچوں کا خیال رکھ سکے اور دوسرا شادی سے قبل میں نے اپنے ہر اُس بیٹے کا جس کی شادی کرنا تھا انتطامی یونٹ یعنی کچن الگ کردیا ، پانی کی ٹینکی الگ لگوادی اور بجلی کا میٹر الگ کردیا آج گھر میں 6 کچن ہیں چھت پر 6 ٹینکیاں پانی والی ہر ایک کی جگہ مختص ہے بجلی کے اپنے میٹرہیں جس  پر وہ ہیٹر جلائے یا اے سی چلائے اُس کی مرضی ،اِس سے بھائیوں میں کوئی اختلاف نہیں کوئی سارا دن پانی کا نل کُھلا رکھے تو دوسرا اعتراض نہیں کرتا کہ میرا پانی ضائع کردیا ہے اور کس نے کیا پکایا دال ، سبزی یا گوشت کسی کو کوئی غرض نہیں الٹا شام کو میرے سامنے کھانے کا بوفے لگ جاتا ہے میری ہر بہو کی خواہش ہوتی ہے کہ ایک دو نوالے اُس کے ہاتھ سے پکے کھانے کے ضرور کھاوں میری موج لگی ہوئی ہے ۔
میرے دل میں یکا یک یہ خیال آیا کہ اگر ہم پاکستان کو اپنا بزرگ اور صوبوں کو بیٹے سمجھیں تو میرا خیال ہے کہ چھوٹے یونٹس بنانے سے اتحاد و یگانگت ، خوشحالی اور مسائل کا حل نکل سکتا ہے سارے یونٹس اپنے اپنے وسائل کے مطابق جو کچھ بنائیں گے اُس میں سے بزرگوار پاکستان کو بھی چکھائیں گے موج لگ جائے گی پاکستانیوں کی ! میرا خیال ہے کہ چھوٹے یونٹس کے حوالے سے اس گھر کی مثال بہترین ہے جہاں سب ایک ساتھ ایک دوسرے کی مدد اور خوشیوں میں شریک ہوں گے کوئی تحت لاہور کا طعنہ نہیں دے گا اور کوئی کراچی کی آمدن پر سندھ پلنے کی بات نہیں کرئے گا ہزارہ والے پختونوں کو اور پختون پنجابیوں کو خوش دیکھ کر خوش ہوں گے ، یو وہ اتحاد و یگانگت اور قومی ہم آہنگی کی وہ فضا پیدا ہوگی جو آج کے حالات میں ہماری سب سے اولین ضرورت ہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر 

Amir Raza Khan

عامر رضا خان سٹی نیوز نیٹ ورک میں 2008 سے بطور سینئر صحافی اپنی خدمات سرانجام دے رہے۔ 26 سالہ صحافتی کیریر مٰیں کھیل ،سیاست، اور سماجی شعبوں پر تجربہ کار صلاحیتوں سے عوامی راے کو اجاگر کررہے ہیں