آن لائن جوا ،بے تحاشا آمدن؟ رضوان کن تحقیقات سے بچنے کے لئے ہائی کورٹ گئے، پانچ صفحات کا سوالنامہ سامنے آگیا

Sep 17, 2026 | 16:57:PM
آن لائن جوا ،بے تحاشا آمدن؟ رضوان کن تحقیقات سے بچنے کے لئے ہائی کورٹ گئے، پانچ صفحات کا سوالنامہ سامنے آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  این سی سی آئی اے نے  رضوان سے ایسا کیا پوچھ لیا تھا کہ رضوان این سی سی آئی اے کے افروں کے روبرو پیش ہونے کی بجائے، اس پیشی سے بچنے کے لئے ہائی کورٹ چلے گئے۔ اب وہ سوالنامہ سامنے  آگیا ہے۔

سامنے آنے والے سوالنامہ میں رضون کی آمدن اور اخراجات کو کنگھالا گیا ہے، اور آن لائن جوئے وغیرہ سے تعلق کے متعلق خاص طور سے پوچھا گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو دیا گیا جو سوالنامہ سامنے آیا ہے  یہ پانچ صفحوں پر محیط ہے۔ اس میں لاتعداد باتیں پوچھی گئی ہیں۔ سب سے اہم معاملہ رضوان کی آمدن کا ہے؛  ان سے پانچ سال کے دوران تنخواہ اور دیگر  کے ذرائع اور کرائے کی مد میں آمدن کی تفصیلات  پوچھی گئیں۔  محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی جانب سے  بھیجا گیا نوٹس بھی سامنے آگیا ہے جس کے مطابق تحقیقاتی ایجنسی پاکستان کرکٹ میں آن لائن جوئے سے متعلق انکوائری کر رہی ہے۔انکوائری کے سلسلے میں رضوان کا بیان ریکارڈ کرنا مطلوب ہے۔

ان سے  پانچ سال کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت کی تفصیلات بھی مانگی گئیں جبکہ پانچ سال کے دوران کیے گئے بین الاقوامی دورے اور اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

محمد رضوان سے بینک میں موجود رقوم کی تفاصیل اور ان رقوم پر  مل چکے منافع کی تفصیل بھی طلب کی گئی ہے اور پانچ سال میں کیے گئے گھریلو اخراجات، تعلیمی اخراجات کی تفصیلات بھی مانگی گئیں جب کہ رضوان سے وراثتی جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

رضوان سے گزشتہ پانچ سال میں اندرون ملک سفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں 
اس کے ساتھ ان  سے گزشتہ پانچ سال میں اندرون ملک سفر کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سال کے دوران کسی سے کوئی قرض لیا ہو تو اس کی تفصیل بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
 
 نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کی جانب سے وکٹ کیپر  رضوان کو پہلے انکوائری کے لئے طلب کیا گیا تو سوالات پوچھے گئے اور انہیں واپس بھیج دیا گیا۔ پھر  انہیں سوالنامہ دیا گیا ور دوسری مرتبہ این سی سی اے کی انکوائری میں پیش ہونے کا وقت بتایا گیا۔ رضوان اس انکوائری سے اتنے خوفزدہ ہوئے کہ این سی سی آئی اے کے حکام کے روبرو پیش ہو کر سوالانہ میں پوچھے گئے جوابات  پیش کرنے اور  زبانی سوالات کے جواب دینے کی بجائے ہائی کورٹ چلے گئے اور ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ این سی سی آئی اے کو اس طلبی سے  روکا جائے۔

اآج ہائی کورٹ نے رضوان کی یہ درخواست خارج کر دی اور اسے حقائق چھپانے کے جرم میں جرمانہ کرنے کی وارننگ بھی دی۔ ہائی کورٹ میں آج کی سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کی جانب سے  اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کو پانچ صفحات پر محیط وہ سوالانامہ بھی پیش کر دیا جس ے خوفزدہ ہو کر رضوان عدالت کی جانب بھاگے تھے۔

اس سوالنامہ میں حتیٰ کہ ان کے  گزشتہ  10 سال میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات  بھی پوچھی گئی ہیں۔

 نوٹس میں آگاہ کیا گیا  تھا  کہ اگر آپ پیش نہ ہوئے تو سمجھا جائے گا کہ آپ کے پاس اپنے دفاع میں کچھ نہیں ہے۔