500 روپےرشوت کی پیشکش!

تحریر: محمد شجاع الدین

Sep 17, 2026 | 16:06:PM
500 روپےرشوت کی پیشکش!
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جناب ایس ایچ او صاحب تھانہ  لاہور ، السلام علیکم بکار سرکار معروض ہوں کہ میں اے ایس آئی ، معہ کانسٹیبل ، معہ ۔۔۔۔۔ ، معہ ۔۔۔۔۔۔ ، سگیاں پر موجود تھا کہ 01 کس نامعلوم ہنڈا 125 پر سوار ناکے پر آ کر رکا اور اتر کر ناکہ پر موجود جوان کو کہا کہ آپ لوگ بڑی اچھی ڈیوٹی کرتے ہیں اور زبردستی 500 روپے بطور رشوت دینے کی کوشش کی ۔ جس کو باامداد ہمرائیاں قابو کر لیا گیا ۔ جس نے دریافت پر اپنا نام و پتہ  بتلایا ۔ جو کہ پوچھنے پر رشوت دینے کی معقول وجہ بیان نہ کر سکا ۔ ملزم کی پیش کردہ رقم مبلغ 500 جو ایک نوٹ نمبر ۔۔۔۔۔۔  بطور وجہ ثبوت بذریعہ قبضہ پولیس میں لیا گیا ۔ قبل ازیں افسران بالا کی طرف سے رشوت لینے دینے کے متعلق سخت احکامات جاری ہو چکے ہیں لہذا رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی کیلئے متذکرہ بالا کے خلاف زیر دفعہ ۔۔۔۔۔ استغاثہ مرتب کر کے بغرض اندراج مقدمہ بدست ۔۔۔۔۔ ارسال تھانہ ہے ۔
انگریز دور کی بات نہیں دو چار دن ہوئے ہیں ، میڈیا پر خبریں چلیں کہ حکومت نے کرپشن مکاؤ مہم تیز تر کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں اور رشوت ستانی چونکہ کرپشن کی اولین صف میں آتی ہے  ، بس پھر کیا تھا ، آج کل ہر سڑک ، ہرچوک پر بھائی لوگوں کی چستی دیدنی ہے ۔ روزانہ کی کارکردگی دکھانے کیلئے چھوٹی سی چھوٹی رشوت بھی قابل گرفت سمجھ لی گئی ۔ فراڈیئے بھرتی  بڑی ، بڑی لگژری گاڑیوں ، کلف لگی شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ پہننے والے صاحب لوگوں کی طرف نظر اٹھانا ہر چند کہ مشکل ٹھہرا ۔ اس لئے چھوٹی گاڑی والا یا کوئی موٹرسائیکل سوار جس بھی نکڑ پر نظر آیا ، دھر لیا گیا ۔ 
میڈیا میں آئی صرف ایک دن کی دو چار خبروں کی چند سطریں ملاحظہ کیجئے ۔ لاہور شہر میں مبینہ طور پر رشوت دینے پر تین تھانوں میں تین مقدمات درج ۔ شاہدرہ میں ناکے پر کھڑے 8  اہلکاروں کو 500 روپے رشوت کی پیشکش کرنے پر مقدمہ درج ۔ موٹرسائیکل سوار نوجوان گرفتار ۔ مصری شاہ میں ہیڈ کانسٹیبل کو ایک ہزار روپے رشوت کی پیشکش پر شہری گرفتار ۔ بے چارے شہری نے درخواست لکھوانے کے عوض ایک ہزار روپے رشوت کی پیشکش کی تھی ۔ نیو انار کلی میں 5 ہزار روپے رشوت دینے پر مقدمہ درج ، ملزم گرفتار کر لیا گیا ۔ اس ساری صورتحال میں طرفہ تماشا یہ ہے کہ چھوٹے موٹے عام عوام میں شامل پولیس اہلکار بھی رشوت ستانی کے قابل تعزیر جرم کے باعث گرفتار کئے جا رہے ہیں ۔ وہ الگ بات کہ ملٹی سٹار افسران تاحال بچے بیٹھے ہیں ۔ افسر تو بہر حال افسر ٹھہرے ، کسی بھی شعبے کے ہوں ، قابل دست اندازی پولیس نہیں ہوتے ۔
بات قانون یا قانون پرعملدرآمد کی نہیں ۔ بات تو یہ ہے کہ قانون ہو تو سب کیلئے یکساں ہو ۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کرنے سے کوئی بھی معاشرہ صحت مند روایات کا امین نہیں بن سکتا ۔ غریب مار کرنی ہو تو جس کے گلے میں پھندا فٹ آئے اسے سولی لٹکا دیں ۔ مہم انسداد کرپشن کی ہو یا انسداد رشوت ستانی کی ؟ اشرافیہ کے بھائی بند بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں اور سلاخوں کے پیچھے صرف عامیوں نے ہی جانا ہے تو پھر جگہ جگہ ناکوں کا تکلف کیوں کیا جائے ؟ نادرا جیسے فعال محکمے کی مدد سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے شہریوں کو پکڑیں اور اندر کرتے جائیں ۔ ہتھکڑیاں کم پڑ جائیں تو ہر شہری کی قمیض سے اس کا منہ ڈھانپیں ، ازار بند سے ہاتھ باندھیں ، شکست خوردہ اور زندگی سے ہارے ہوئے انسانوں کی زنجیر بنا کر کال کوٹھڑیوں میں بھیجتے جائیں ۔ بڑی بڑی توند والے بچ جائیں گے لیکن خمیدہ کمر والے سب کے سب اندر ہوں گے ، خس کم جہاں پاک ۔ 
جھٹ منگنی پٹ شادی کے بارے تو سن رکھا ہے لیکن ایک ہی لمحے میں ایف آئی آر کا درج ہو جانا ، گرفتاری بھی ڈال دینا اور جیل یاترا کیلئے سسرالی گھروں کو بھجوانے کا عمل ، جتنا آج تیز ہے پہلے سنا نہ دیکھا تھا ۔ ظلم تو یہ ہے کہ پابند سلاسل کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں دیکھا جاتا جیل بھجوائے جانے والے کی عمر کتنی ہے ؟ بدقسمتی سے ملزم نوجوان ہوا تو ایک بار ایف آئی آر کٹ جانے کے بعد اس کی زندگی تباہ ہو جائے گی ۔ وہ بے چارہ کسی کالج ، یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے قابل رہے گا نہ اندرون و بیرون ملک نوکری کر سکے گا ۔ کسی نے سوچا بھی ہے کہ اتنی پھرتیوں کے بعد کار سرکار کی فائلیں تو بھر جائیں گی لیکن ایک نوجوان کے خواب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے گمنامیوں کے اندھیروں میں کھو جائیں گے ۔ ہم جیسے بڈھے کھوسٹ تو ملک کو لوٹ کر اپنے گھر بھر چکے ، ہم میں سے کئی ایک نے تو  باہر کے ملکوں میں بھی اتنا کچھ جمع کر لیا کہ آئندہ کی نسلیں بھی ماشااللہ سے سب اچھا ہے کی گردان کریں گی لیکن حکمرانوں کی عیاشیوں کا شکار عوام کہاں جائیں گے ؟ کسے وکیل کریں گے ؟ کس سے منصفی چاہیں گے ؟ 

کیا واقعی ہمارے دیدوں کا پانی مر گیا ہے ؟ اردو زبان کا محاورہ ہے "دیدوں کا پانی مر جانا" جس کا مطلب کسی انسان میں سے لحاظ ، حیا اور ڈر کا بالکل ختم ہو جانا ہے ۔ واضح رہے 'دیدے' آنکھوں کو کہتے ہیں اور پانی سے مراد وہ شرم و حیا ہے جو آنکھوں میں جھلکتی ہے ۔   یہ محاورہ عام طور پر اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس پر کسی تنقید یا نصیحت کا کوئی اثر نہ ہو اور وہ بغیر کسی شرمندگی کے اپنی غلطی پر ڈٹا رہے ۔ تو کیا یہ گمان کر لیا جائے کہ من حیث القوم ہم سب کے دیدوں کا پانی مر گیا ہے ؟ کیا پورے نظام نے وہی بھیڑ چال اختیار کر رکھی ہے جس میں روزمرہ کی لکھت پڑھت کو ہی کافی سمجھ لیا جائے ؟ کیا آنے والی نسلوں کو خوفناک بیروزگاری کے تھپیڑوں کا سامنا کرنے کیلئے  بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے ؟ کیا ایقان و ایمان کے غازی ، عہد و پیمان کے شہہ سوار اور اقدار و کردار کے جوانمرد اسلاف کی تمام قربانیاں بھلا کر نونہالان قوم کو اغیار کی ریشہ دوانیوں کے سپرد کر دیا جائے ؟ نہیں ! ہر گز نہیں ! ہماری نسلوں کو تا ابد زندہ رہنا ہے ۔ ہمیں رائج الوقت سب اچھا کی رپورٹ تیار کرنے کی پالیسی ختم کر کے خود کو بدلنا ہو گا تاکہ ہماری شناخت تو باقی رہ جائے ۔ 
آج کے ملکی و بین الاقوامی حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں اس وقت ضرورت ہے تو فقط چشمِ بینا کی ، ایک بصیرت رکھنے والی ایسی آنکھ کی جو حقیقت کو پہچاننے اور گہرائی میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔ یہ اگرچہ ایک فکری اور روحانی تصور ہے جس کا مطلب معاملات کی ظاہری شکل سے ہٹ کر ان کے اصل نتائج و حقائق کو سمجھنا ہے تاہم اس کی بنیادی حقیقت اور اہمیت ظاہر سے باطن تک کا سفر ہے ۔ یہ آنکھ انسان کو صرف الفاظ یا مناظر دیکھنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی نیتوں اور صداقت کو پرکھنے کی قوت دیتی ہے ۔ نوجوان نسل میں بلند حوصلگی پیدا کرنے کیلئے آج حوصلے اور بیداری کا شعور بخشنے والی وہ بلندی چاہئیے جو سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکے اور انسان کو معاشرتی و اخلاقی برائیوں سے آگاہ رکھ سکے ۔ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے کا وقت گزر چکا ، ملکی باگ ڈور سنبھالنے والی افسر شاہی کیلئے بھی ضروری   ہے کہ صاحبِ بصیرت بنیں اور دانائی وعقل کی کسوٹی پر ہر حقیقت پرکھنے کی کوشش کریں ۔ صاحبان اقتدار کیلئے لازم ہے کہ بظاہر نظر آنے والی چیزوں کی گہرائی تک جائیں ، چھپے ہوئے حقائق تلاش کر کے ان کے نتائج سمجھنے کی کو شش کریں ۔ 
چشم بینا ہو تو ہر جا ترا جلوہ دیکھے
قطرے قطرے میں نہاں وسعت دریا دیکھے
ملک کے طول و عرض ، شہر شہر ، قریہ قریہ قانون کی حکمرانی بجا ، قانون کی عملداری کیلئے کئے جانے والے اقدامات بھی بجا لیکن صاحبان جزا و قضا کو اپنا انداز خسروانہ بدلنا ہو گا کیونکہ رشتے الگ الگ ضرور ہوتے ہیں ، خون کا رنگ تو ایک ہی ہے۔ انسداد کرپشن یا پھر انسداد رشوت ستانی کے نام پر کسی شہر میں کسی بھی نوجوان کا معاشی قتل ہو دل تو دکھاتا ہے ۔ مرنے والا اور اس کا پرسہ دینے والا دونوں کسی نہ کسی رشتے میں بندھے ہوتے ہیں ۔ خوشحال زندگی اور مفلسی کی موت کے درمیان حائل فرق صرف اتنا ہوتا یے کہ فطری موت رلاتی تو ضرور ہے مگر ایک نہ ایک دن پیاروں کو صبر آ جاتا ہے اور وہ موت ایک خوبصورت یاد بن کر امر ہو جاتی یے جبکہ لاٹھی ، گولی اور جبر کی موت مرنے والے کے بجائے دشمن کی یاد قیامت تک زندہ رکھتی ہے ۔ سرخ ہندسوں میں لکھے جانے والے پروانے کی آتشیں موت انتقام کی ایسی آگ پیدا کرتی ہے جو نسلوں تک سلگتی رہتی ہے اور سب کچھ خاکستر کر دیتی ہے ۔ کچھ نہیں بچتا ۔ کسی کا کچھ نہیں بچتا ۔’’رہے نام اللہ کا‘‘

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر 

دیگر کیٹیگریز: بلاگ