آن لائن فراڈ، پاکستان بھی جعلسازوں کی جنت بن گیا، ایک بڑاجعلساز گرفتار

Aug 20, 2026 | 18:39:PM
آن لائن فراڈ، پاکستان بھی جعلسازوں کی جنت بن گیا، ایک بڑاجعلساز گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) آن لائن فراڈ،  دھوکے بازوں کے گروہوں کی جنت برما اور مشرقی ایشیا کے بعض دوسرے ملکوں کو کہا جاتا ہے لیکن فراڈ کا ایک گورو پاکستان کو ہی آن لائن فراڈ کی پناہ گاہ بنا کر یہاں بیٹھ کر دھندا کرتا پکڑا گیا۔ اسلام آباد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)  نے ایک  غیر ملکی جعلساز کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔  

اس انڈونیشین جعلساز  نے یہ لرزہ خیز انکشافات کئے ان میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کا گرو تو پاکستان سے باہر جعلسازیوں میں مصروف رہتا ہے لیکن وہ پاکستان مین بیٹھ کر اسی ہزار ڈالر ماہانہ سے زیادہ کما رہا ہے۔ 

اس جعلساز نے بتایا کہ اس کا  گینگ اان لائن سکیمز سے ماہانہ 80 ہزار ڈالر کماتا ہے،  اس گینگ کا ہدف انڈونیشیا کی 40 سال سے زائد عمر کی خواتین ہیں۔

انڈونیشین سکیمر نے بتایا کہ وہ 3 ماہ پہلے شیف کی حیثیت سے  پاکستان آیا اور سکیمز میں ملوث رہا۔اس کا  9 افراد کا گروہ ہے  جس میں 2 چینی، 7 انڈونیشین باشندے شامل  ہیں۔

غیر ملکی جعلسازوں کے خلاف جاری کارروائی کے لئے سائبر کرائم تحقیقات کرنے والے اس گروہ کی سرگرمیوں سے کئی ماہ تک لاعلم رہے۔ 

اب تحقیقات کا دائرہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ایف بی آر اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ امیگریشن، پاسپورٹس اور ویزا اتھارٹیز سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  آزاد کشمیر میں مخصوص نشستوں کے حتمی امیدوار سامنے آ گئے 

اسلام آباد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی کارروائی کے دوران پکڑے گئے انڈونیشین اسکیمر نے اعتراف کیا ہے کہ  ہمارا گینگ اسکیمز سے ماہانہ 80 ہزار ڈالر کماتا ہے، ہمارا ہدف انڈونیشیا کی 40 سال سے زائد عمر کے قریب خواتین ہیں۔

انڈونیشین اسکیمر نے بتایا کہ وہ 3 ماہ پہلے شیف کے طور پر پاکستان آیا اور اسکیمز میں ملوث رہا، ہم 9 افراد کا گروپ ہیں جس میں 2 چینی، 7 انڈونیشین ہیں۔

غیر ملکی جعلسازوں کے خلاف جاری کارروائی کے سلسلے میں سائبر کرائم تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، ایف بی آر اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ امیگریشن، پاسپورٹس اور ویزا اتھارٹیز سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  انڈوں سے پھیلنے والی بیکٹیریل انفیکشن آؤٹ بریک سے ایک موت، درجنوں افراد ہسپتال پہنچ گئے

 اس سے پہلے اسلام آباد  میں  غیر قانونی کال سینٹر چلانے، غیر اخلاقی مواد بنانیوالے 275 غیر ملکی گرفتار  ہو چکے ہیں۔
 ایف آئی اے کے ذرائع  نے بتایا کہ  غیرملکی شہریوں کے پاکستان میں داخلے، قیام، کاروباری سرگرمیوں اور مبینہ سائبر کرائم نیٹ ورک سے تعلق کی جانچ  کی جا رہی ہے۔

پاکستان بھی آن لائن فراڈ کی جنت؟

اب کی جا رہی تحقیقات کے دوران پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر میں  آن لائن سکیمز چلانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق  انڈونیشئین سکیمر کی فراہم کردہ معلومات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں موجود گروپ یہاں کسی کو نہیں لوٹتا بلکہ صرف بیرون ملک افراد کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ پاکستان میں بیٹھے سکیمر   مختلف ممالک میں موجود افراد کو  آن لائن فراڈ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ پاکستان سے باہر موجود ممکنہ متاثرین اور مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد تک بھی بڑھا دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اور پولیس کی مشترکہ تحقیقات میں مالی لین دین اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بھی جانچ جاری ہے۔ تحقیقات کے دوران پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر میں آن لائن سکیمز چلانے کے شواہد  سامنے آئے ہیں۔۔ پاکستان میں بیٹھے سکیمرزدنیا کے مختلف ممالک میں موجود افراد کو مبینہ طور پر آن لائن فراڈ کا نشانہ بنا رہے تھے۔

اب ایف آئی اے اپنی تحقیقات کا دائرہ پاکستان سے باہر موجود ممکنہ متاثرین اور مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد تک  بڑھا رہی ہے۔