جنریشن میلینیل جنریشن ایکس سے زیادہ تیزی سے بوڑھے کیوں ہو رہے ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
( وسیم عظمت) سائنسدان آج کل جوان افراد میں کینسر تیزی سے پھیلنے کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس کوشش کے دوران یہ حیران اور بعض کو پریشان کر دینے والی حقیقت بھی دریافت ہو گئی کہ جنریشن میلینئیل کے لوگ جنریشن ایکس کے لوگوں کی نسبت تقریبا! دو گنا رفتار سے بوڑھے ہو رہے ہیں۔
اس ریسرچ کا اصل موضوع کم عمر میں یعنی پچاس سال سے کم عمر میں لوگوں کو کینسر لاحق ہو جانا تھا۔ اس ریسرچ کے دوران یہ سامنے آیا کہ جوان تو بوڑھوں سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ بوڑھے ہو رہے ہیں۔ جنریشن زی کے لئے تشویش یقیناً ذیادہ ہو سکتی ہے لیکن سر دست انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جس ریسرچ کی ابھی ہم بات کر رہے ہیں اس میں جین زی کے "بچوں" کو شامل نہیں کیا گیا۔ اب "زی بچوں" اس بات کو انا کا مسئلہ نہیں بنا لینا چاہئے اور یہ ضد نہیں کرنا چاہئے کہ "ہم بچے نہیں ہیں۔" دراصل یہ کینسر لاحق ہو جانے کے متعلق تحقیق تھی، اور طاہر ہے کہ جین زی کے لوگوں میں ابھی کینسر کا تناسب اتنا بلند نہیں دیکھا گیا کہ اس کی خاص وجوہات جاننے پر وقت اور وسائل برباد کئے جائیں۔
کینسر اب بھی بوڑھوں میں زیادہ ہوتا ہے، لیکن "بوڑھے" کون ہیں؟
کچھ سال قبل تک کینسر کو عموماً بوڑھے افراد کا مرض خیال کیا جاتا تھا۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پھر ی ہدیکھا گیا کہ حالیہ برسوں میں جوان افراد میں اس جان لیوا مرض کا پھیلاؤ بڑھ گیا ہے۔
ٹھوس سائنسی زبان میں بات کریں تو یہ اب تک واضح نہیں کہ آخر جوان افراد (50 سال سے کم عمر) میں کینسر کی مختلف اقسام تیزی سے کیوں پھیل رہی ہیں۔ البتہ کچھ سٹرونگ ایویڈنس یہ ضرور تجویز کر رہی ہیں کہ جین میلینئیل (جین وائی) کے لوگ، خدا اُن پر رحم کرے، بہت زیادہ تیزی سے بوڑھے ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی کی ریسرچ
قصہ کچھ یوں ہے کہ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ جن کے باعث جوان افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس تحقیق میں ایسے شواہد دریافت کیے گئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ موجودہ عہد کی نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کی حیاتیاتی عمر زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔
خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔
ہر انسان کے منفرد جینز، منفرد طرز زندگی اور زندگی مین پیش آئے واقعات، حادثات، عادات اور معروضی حالات جیسے کئی عناصر اس "حیاتیاتی عمر " (بایولوجیکل ایجنگ)پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور بایولوجیکل ایج جتنی زیادہ ہوگی، یعنی جسم کے اعضا کی عمر جتنی زیادہ ہو گی، ان اعضا کو امراض لگنے کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
جوان بوڑھے نکلے اور بوڑھے جوان نکلے
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوان افراد کی حیاتیاتی عمر ماضی کی نسلوں سے تعلق رکھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔
ماہرین ابھی بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر جوان افراد میں یہ تبدیلیاں کیوں آرہی ہیں۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے سے جوان افراد میں کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے سے خلیات، اعضا، میٹابولزم اور دیگر جسمانی سسٹمز میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
بایولوجیکل عمر اور معروف عمر میں فرق = کینسر کا خطرہ
محققین نے بتایا کہ حیاتیاتی اور معروف عمر (ہمارے پیدا ہونے کے دن سے اب تک گزرے سال اور مہینوں کا شمار) کے درمیان فرق بڑھنے سے کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ریسرچرز نے بتایا کہ اس تصور سے کسی حد تک وضاحت ہوتی ہے کہ جوان افراد میں کینسر کیسز کی شرح میں تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے۔ دراصل کینسر کا شکار ہونے والوں کی جوانی ویسی نہیں جیسی نطر آتی ہے۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عمر میں اضافے کے اثرات جسم کے ہر عضو پر یکساں انداز سے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیئے: قیامت کو بھول جائیں: AI ہیکنگ کرائسس موجود ہے
درحقیقت حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ ان اعضا میں زیادہ ہوتا ہے جن کو اکثر کینسر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اسی ٹیم نے ماضی میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا تھا کہ متعدد عناصر کسی فرد میں کینسر کے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔
غیر صحت مند طرز حیات بوڑھا کرتا ہے، یہی کینسر لگاتا ہے؟
کسی فرد کا جسمانی وزن، میٹابولک افعال میں تنزلی، الکحل کا استعمال، زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ، کم سونا، کم مشقت، تھوڑی یا نہ ہونے کے برابر ورزش کرنا اور نقصان دہ کھانوں کا استعمال کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
اس تحقیق میں ایک لاکھ 54 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور ان کا موازنہ 10 ہزار افراد کے ایک اور گروپ کے ڈیٹا سے کیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے گروپ میں شامل جوان افراد کی حیاتیاتی عمر معمر افراد کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھی۔
1990 سے 1999 Vs 1965 سے 1969
اسی طرح دوسرے گروپ میں یہ فرق زیادہ نمایاں نظر آیا، خاص طور پر 1990 سے 1999 کے دوران پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر میں اضافے کی شرح 1965 سے 1969 کے درمیان پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں 92 فیصد زیادہ تھی۔
مزید تجزیے سے علم ہوا کہ حیاتیاتی عمر میں اضافے سے جوانی میں کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر پھیپھڑوں اور نظام ہاضمہ سے جڑی کینسر کی اقسام کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔
(اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میڈیسن میں شائع ہوئے)
یہ بھی پڑھیئے: سعودی عر ب کو ایران کے اتحادی حوثیوں کے حملوں سے نجات دلوانے کے لئے چین حرکت میں آ گیا