سوا تین کروڑ موٹر سائیکلیں، آٹھ لاکھ کو فیول ریلیف ٹوکن ، باقی کتنے رہ گئے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک صرف 10لاکھ گاریوں کے مالکان پٹرول کی قیمت پر سو روپے فی لٹر رعایت حاصل کرنے کے لئے رجسٹریشن کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے آٹھ لاکھ کو پٹرول خریدنے میں سو روپے کی رعایت کے ٹوکن ملے ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی وزارت آئی ٹی کے حکام فخر کے ساتھ بتا رہے ہیں کہ فیول ریلیف سکیم کے تحت 10لاکھ سے زائد رجسٹریشنز مکمل ہوئی ہیں اور ملک بھر میں اب تک 8 لاکھ سے زائد ٹوکنز جنریٹ کیےگئے۔
وزارت آئی ٹی نے مزید بتایا کہ ٹوکن ریڈیمپشن کی فہرست میں پنجاب اور اسلام آباد سب سے آگے ہیں۔۔
آئی ٹی کی وزارت کے حکام اس سکیم کی رفتار سے مطمئین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 24گھنٹے کنٹرول روم سے ملک بھر میں اسکیم کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ جاری ہے۔
اب تک اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسی صورتحال
پاکستان میں تقریباً 32 ملین موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ فعال اور روزانہ سڑکوں پر آنے والی موٹر سائیکلوں کی قومی تعداد کا مستند سرکاری شمار دستیاب نہیں۔ مختلف وجوہاٹ خاص طور سے پرانی ہو جانے کے باعث بہت سی موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن نہیں ہے لیکن وہ بدستور استعمال مین ہیں۔ انڈسٹری کے لوگوں اور ماہرین کی جانب سے موٹر سائیکلوں کی زیر استعمال تعداد کے متعلق سرکاری اندازوں اور زمینی حقیقت میں بڑے فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
موٹر سائیکلیں تین کروڑ بیس لاکھ چھپن ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہیں۔
پاکستان میں “رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں” اور “فعال/سڑک پر چلنے والی موٹر سائیکلیں” کتنی ہیں، اس کا مستند قومی ڈیٹا سیٹ موجود نہیں۔ لیکن ان کی تعداد تین کروڑ سے بہرحال زیادہ ہے۔
رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2025 کے اختتام تک 30,456,102 دو پہیوں والی موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ تھیں۔ یہ قومی cumulative registration figure ہے۔
اس کے بعد مارچ 2026 تک سرکاری vehicle data ٹو وہیلر بائیکس کی تعداد 31.9 ملین بتاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار industry experts نے سرکاری ریکارڈ سے اخذ کئے ہیں۔
یعنی آج کے لیے تقریباً 32 ملین (تین کروڑ بیس لاکھ) رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب ہم شہیدوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، ایسے وقت کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دھرنے دیں، محسن نقوی
سرکاری سکیم میں پٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہونے والے موٹر سائیکل اور گاڑی کے مالکان کی تعداد دس لاکھ بتائی گئی ہے۔