پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کومذہبی تعلیم اور سزاؤں میں رعایت کیلئےقرارداد متفقہ طور پر منظور

Sep 01, 2026 | 20:48:PM
پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کومذہبی تعلیم اور سزاؤں میں رعایت کیلئےقرارداد متفقہ طور پر منظور
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راودلشاد)  پنجاب اسمبلی نے اقلیتی قیدیوں کو مذہبی عقائد کے متعلق تدریسی کتب اور اساتذہ کی فراہمی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

 یہ قرارداد حکومتی رکن راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں پیش کی،قرارداد کے متن کے مطابق پنجاب پریزن رولز 1978ء کے رول 215 کے تحت مذہبی تعلیم کی بنیاد پر قیدیوں کو سزاؤں میں رعایت اور قید کی مدت میں قانون کے مطابق کمی دی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2020ء سے 2025ء کے دوران تقریباً 2,558 مسلم قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کر کے اس سہولت سے استفادہ حاصل کیا ہے، متن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی اس نظام پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوان یہ سمجھتا ہے کہ مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی اپنے مذہبی نصاب کی تعلیم حاصل کرنے، امتحانات میں شرکت اور کامیابی کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزاؤں میں رعایت حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

متن کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں موجود تقریباً 1,624 اقلیتی قیدیوں کے پیش نظر اس نظام کو عملی اور مؤثر بنانا نہایت ضروری ہے۔

ایوان حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ رول 215 پر بلا امتیاز فوری عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے اقلیتی قیدیوں کے لیے بھی مذہبی تعلیم اور امتحانات کا باقاعدہ انتظام کیا جائے اور کامیاب قیدیوں کو قانون کے مطابق ری مشن دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں :  نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات