کیا نئے صوبے ناگزیر ہیں؟

تحریر : سید نفیس جعفری

Sep 18, 2026 | 16:07:PM
کیا نئے صوبے ناگزیر ہیں؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ سے جہاں عوام کے مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے وہاں ان کی ضروریات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ مسائل کے حل لئے وسائل کا ہونا ضروری ہے کیونکہ مسائل تب ہی بڑھتے ہیں جب وسائل  نہ ہوں یا کم ہوں، بس نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے جوآج کل ہر گفتگو کا محور ہے۔ آبادی کا سائز وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے لیکن آمدن وہی محدود،،، ہرحکومت اپنے تئیں کوشش  تو کرتی ہے کہ عوام کے مسائل حل کئے جا سکیں لیکن افراد کے ہجوم کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ ترقی پذیرملکوں میں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے، وسائل ہیں نہیں اور مسائل کے انبار، لیکن جہاں  وسائل ہیں بھی انہیں ٹھیک طریقے سے استعمال ہی نہیں کیا جا رہا۔ وسائل کے غیرمنصفانہ استعمال سے عوام میں بے یقینی اور مایوسی  بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو ہی لے لیجئے جہاں عوام بے تحاشہ مسائل کا شکار ہیں اور ہر حکومت عوامی مسائل حل نہ کرنے کا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے جاری ہے، اورمتاثر ہیں تو صرف عوام ،،، ان کامسئلہ حل ہو بھی تو کیسے ہو؟ شہروں کے پھیلاؤ اور بڑے انتظامی یونٹس نے عوامی مسائل کا حل مسدود کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں لاہورکی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ لاہور پنجاب کا سب سے بڑا انتظامی یونٹ ہے۔ رائے ونڈ، شاہدرہ، واہگہ اورکاہنہ تک پھیلے اتنے بڑے شہر لاہور کے انتظامی معاملات صرف ایک ڈپٹی کمشنر دیکھ رہا ہے۔ لاہور میں ٹریفک کے بے ہنگم پھیلاؤ سے کون آگاہ نہیں، کاہنہ سے شاہدرہ اور شاہدرہ سے رائے ونڈ اور رائے ونڈ سے واہگہ تک پہنچنا جُوئے شِیرلانے سے کم نہیں، ۔خدانخواستہ کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جہاں ڈی سی کا پہنچنا بہت ضروری ہو اور وہ بھی جلدی، اس صورتحال میں لاہورکا ڈی سی  تو کجا متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر بھی بروقت نہیں پہنچ سکتا توسوچیں جب حکام عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے برقت ان کے پاس نہیں پہنچ سکتے تو عوام کیسے اپنے مسائل لے کر ان افسروں تک اور ان کے دفاترتک پہنچ سکتے ہیں؟ اسی طرح پنجاب کا ایک چیف سیکریٹری کچے کے علاقوں میں امن اومان کی صورتحال اور مری میں سیاحت دونوں کو کیسے کنٹرول کر سکتا ہے؟ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے  فاٹا کے عوام آج بھی پشاور کی طرف دیکھتے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کے لوگوں کے مسائل بھی کچھ مختلف نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔
مثال کے طور پر جب جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا تو اس کا سیکرٹریٹ ملتان یا بہاولپور میں ہو گا۔ ایک کسان یا کسی درخواست گزار کو اپنے کسی کام کیلئے لاہور نہیں جانا پڑے گا۔ ہزارہ صوبہ بننے سے ایبٹ آباد میں اپنا ہائی کورٹ بینچ، اپنا پبلک سروس کمیشن ہو گا۔ نیا صوبہ بنتے ہی اس کا اپنا این ایف سی شیئر، اپنا ترقیاتی بجٹ ہو گا۔ نئے صوبے بننے سے ہائی کورٹ، سول سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر سب قریب آجائیں گے۔ نئے صوبے بننے سے ان کا پیسہ  بڑے شہروں پر نہیں اسی صوبے پر خرچ ہو گا  اورلوگوں میں احساس محرومی ختم ہو گا۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے پاکستان کمزور ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ چار صوبوں والا نظام ملک کو مضبوط رکھ پایا ہے؟ مسئلہ صوبے نہیں، صوبوں کا حجم ہے۔ آخرمیں یہی کہنا چاہوں گا 25 کروڑ عوام کو چار صوبوں سے کنٹرول کرنا ایسے ہی ہے جیسے پورے لاہور کو ایک تھانے سے چلانا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم انتظامی بنیادوں پر اور لسانی تعصب سے بالاتر ہو کر نئے صوبوں کی بات کریں۔ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں، پورے پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔
نئے صوبے کسی لسانی یا سیاسی ضد کا نام نہیں، یہ خالصتاً انتظامی، آئینی اور عوامی ضرورت بن چکے ہیں۔ اور ملک کیلئے ناگزیر ہو چکے ہیں۔