حوثی کون اور تحریک کا آغاز کب ہوا؟
تحریر؛عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
حوثی تحریک کا آغاز تو 1990 کی دہائی میں ہوا لیکن حوثی قبائل کا دہائیوں پہلے اسرائیل سے ایک ایسا تعلق تھا جس میں باقاعدہ اسرائیل سے فوجی مدد بھی لی جاتی رہی۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے 1960 کی دہائی میں ہونے والی شمالی یمن کی خانہ جنگی سے ،،، جو دراصل بادشاہت پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان تھی ،،، اس جنگ میں یمن کے شمالی زیدی قبائل نے اپنے امام محمد البدر (جن کی بادشاہت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا) ان کا ساتھ دیا تھا ،،، چونکہ موجودہ حوثی بھی زیدی عقیدے سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی جغرافیائی خطے یعنی شمالی یمن کے قبائل کا حصہ ہیں ،،، اس لیے اکثر لوگ ان دونوں کے درمیان تفریق نہیں کر پاتے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ اس خانہ جنگی میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے جمہوریت پسندوں کی حمایت میں اپنی فوج یمن بھیجی تھی ،،، مصر اس وقت اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن تھا اسے یمن کی جنگ میں الجھانے کے لیے اسرائیل نے خفیہ طور پر زیدی بادشاہت پسند قبائل کی مدد کی تھی ،،، اسرائیلی فضائیہ نے شمالی یمن کے پہاڑوں میں برسرپیکار زیدی جنگجوؤں کے لیے ہتھیار، طبی امداد اور خوراک کے پیکیج فضا سے گرائے تھے ،،، اسرائیل چاہتا تھا کہ مصر کی فوج یمن کے اندرونی تنازع اور طویل خانہ جنگی میں بری طرح الجھی رہے ،،، تاکہ وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر محاذوں پر اسرائیل کے خلاف کھل کر کارروائی نہ کر سکے ،،، برطانوی انٹیلی جنس کی ترغیب پر اسرائیل نے خفیہ ہوائی جہاز کے ذریعے یمن کے شاہی حامی قبائل کو اسلحہ اور رقوم فراہم کیں جن میں حوثی قبیلے کے بزرگ بھی شامل تھے ،،، 1964 سے 1966 تک اسرائیل نے تقریبا 14 مرتبہ فضائی آپریشنز کے ذریعے حوثی قبائل کو ہتھیار، گولہ بارود اور طبی امداد فراہم کی۔
شاید موجودہ حوثی باغی ماضی میں اسرائیل کی جانب سے اپنے بڑوں کو دی جانے والی اُس عسکری امداد کو اب بھی نہیں بھول پائے جس وجہ سے انہوں نے اسرائیل اور امریکا کے بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے اور سعودیہ کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
یہ تصویر کا وہ دوسرا رُخ جس کے بارے میں شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ کس طرح ماضی میں حوثیوں کے بزرگ باقاعدہ اسرائیل سے عسکری امداد حاصل کرتے رہے اور وہ عسکری امداد مسلمان افواج کے خلاف ہی استعمال ہوتی رہی۔