نائجیریا میں حراست کے دوران 37 افراد ہلاک، زندہ بچ جانے والوں نے چونکا دینے والی تفصیلات بتا دیں

Sep 22, 2026 | 11:51:AM
نائجیریا میں حراست کے دوران 37 افراد ہلاک، زندہ بچ جانے والوں نے چونکا دینے والی تفصیلات بتا دیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک )نائیجیریا کی ریاست نائجر میں حراست کے دوران 37 افراد کی ہلاکت کے واقعے نے ملک بھر میں تشویش اور احتجاج کو جنم دیا ہے، جبکہ زندہ بچ جانے والے افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک انتہائی تنگ کمرے میں قیدیوں کو بند رکھنے کے بعد ایک نامعلوم مادہ اسپرے کیا گیا اور مدد کے لیے پکارنے کے باوجود دروازے نہیں کھولے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی تھی جو غیر قانونی سونے کی کانوں میں کام کرتے تھے، نائیجیریا کی سکیورٹی ایجنسی نائجیریا سکیورٹی اینڈ سول ڈیفنس کور (NSCDC) نے مبینہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا۔

زندہ بچ جانے والے 22 سالہ ادمو عیسیٰ نے بتایا کہ تقریباً 17 افراد کو ایک چھوٹے سے سیل میں بند کیا گیا، جس کے بعد مزید تقریباً 50 زیرحراست افراد کو اسی جگہ منتقل کردیا گیا۔

 ان کے مطابق قیدیوں نے جگہ کم ہونے کی شکایت کی، تاہم کچھ دیر بعد اہلکاروں نے دروازے کے نیچے سے ایک نامعلوم مادہ اسپرے کیا۔

 یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی آمد  ، گزشتہ سال کے واقعے نے سب کو چوکس کردیا

عیسیٰ کے مطابق ابتدا میں قیدیوں کو لگا کہ شاید بدبو دور کرنے کے لیے کوئی خوشبودار چیز چھڑکی جارہی ہے، لیکن تقریباً ایک گھنٹے بعد لوگوں کے رویے غیر معمولی ہونے لگے اور متعدد افراد بے ہوش ہوکر گرنے لگے۔

ایک اور زندہ بچ جانے والے 29 سالہ داؤدا شیہو نے بھی اسی طرح کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسپرے کے بعد قیدیوں کو گلے میں خارش اور سانس لینے میں دشواری محسوس ہوئی اور پھر لوگ مرنے لگے۔

زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ قیدی مدد کے لیے چیختے رہے اور دروازہ پیٹتے رہے، لیکن دروازہ بند رہا۔ تاہم رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ مبینہ طور پر اسپرے کیا جانے والا مادہ کیا تھا۔

واقعے کے بعد ابتدائی طور پر NSCDC کی جانب سے ممکنہ بیماری کے پھیلاؤ کو اموات کی وجہ قرار دیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم بعد میں حکام نے کہا کہ موت کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں اور اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔

نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک NSCDC کے بعض سینئر اہلکاروں کو معطل بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب کی  پہلی الیکٹرک کاریں! دنیا بھر میں دھوم مچ گئی

واقعے کے بعد عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا اور احتجاج کے دوران جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ صورتحال کے پیش نظر نائجر ریاست کے حکام نے 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا۔

حکام کی جانب سے لاشیں میڈیا کو دکھائی گئیں، تاہم رائٹرز کے مطابق موت کی حتمی وجہ آزادانہ طور پر معلوم نہیں کی جاسکی۔ ہلاک ہونے والوں میں سے کئی افراد کو اسلامی روایات کے مطابق فوری طور پر دفن کردیا گیا، جبکہ چھ لاشیں جنرل اسپتال کے مردہ خانے میں موجود تھیں۔