ترک صدر کاسلامتی کونسل کے مستقل ارکان سے ویٹو اختیار واپس لینے پر زور
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک)ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو کا اختیار ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی نظام کو موجودہ دور کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں کی بہتر عکاسی کرنا چاہیے۔
بلومبرگ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ وبائی امراض، توانائی کے بحران، رسد کے نظام میں رکاوٹوں اور علاقائی تنازعات سمیت حالیہ بحرانوں نے ثابت کیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل چند ممالک کے دارالحکومتوں کے فیصلوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اب بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، اس لیے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ نظامِ نمائندگی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مسئلہ فلسطین اوآئی سی اور مسلم امہ کے اجتماعی شعور کیلئے مرکزی حیثیت رکھتاہے:اسحاق ڈار
ترک صدر نے کہا کہ انقرہ کا مؤقف ’دنیا 5 سے بڑی ہے‘ عالمی نظام میں ذمہ داریوں کی وسیع تر تقسیم کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں محض نئے مستقل ارکان کا اضافہ فیصلہ سازی کے اختیار کے ارتکاز کا مسئلہ حل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کو مستقل طور پر عالمی برادری کی اکثریت کی رائے روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کردار کو مضبوط بنانے اور سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا نظام ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے مقررہ مدت کے لیے منتخب کیے جائیں اور دوبارہ انتخاب کے خواہش مند ممالک کو جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن، معاشی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لیے مختلف خطوں کے ممالک کو مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔