سعودی عرب کی پہلی الیکٹرک گاڑیوں کی رونمائی، 2030 تک مزید 5 ماڈلز لانے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) سعودی عرب نے مقامی آٹو انڈسٹری کے قیام اور تیل پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کے تحت اپنی نئی الیکٹرک گاڑیوں کے پہلے دو ماڈلز دنیا کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی Ceer نے پیر کو اپنی پہلی مکمل الیکٹرک سیڈان اور ایس یو وی متعارف کرائی ہیں۔ کمپنی کے مطابق دونوں گاڑیوں کی سعودی عرب میں فروخت 2027 کے اوائل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
نئے ماڈلز کو Exobot کا نام دیا گیا ہے۔ ان کی ساخت مستقبل کی گاڑیوں سے مشابہت رکھتی ہے، جبکہ دونوں گاڑیوں میں ایسے دروازے نصب کیے گئے ہیں جو اوپر کی جانب کھلتے ہیں۔
Ceer کے چیف ایگزیکٹو جم ڈیلوکا کے مطابق گاڑیوں میں اگلی اور پچھلی نشستوں کے درمیان عام طور پر موجود ستون بھی ختم کیے گئے ہیں اور اس کی جگہ مضبوط میٹریل استعمال کیا گیا ہے تاکہ گاڑی کی ساخت کو مطلوبہ مضبوطی فراہم کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرول سستا کرنے کا بڑا فیصلہ، نئی قسم کے ایندھن کی فروخت شروع
ان کا کہنا تھا کہ کمپنی چاہتی تھی کہ دنیا دیکھے کہ سعودی عرب جدید گاڑیوں کی تیاری کے شعبے میں کیا صلاحیت رکھتا ہے۔
Ceer سعودی عرب کے خودمختار دولت فنڈ Public Investment Fund اور تائیوان کی الیکٹرانکس کمپنی Foxconn کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ کمپنی کو سعودی عرب کی مالی معاونت اور مقامی صنعتی پالیسی سے بھی فائدہ حاصل ہے۔
نئے ماڈلز کی تیاری میں عالمی کمپنیوں نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ Foxconn نے Exobot کی الیکٹریکل آرکیٹیکچر فراہم کی، جبکہ جرمن کمپنی BMW نے انجینئرنگ کے شعبے میں تعاون کیا۔
اس کے علاوہ امریکی کمپنی Lear، جنوبی کوریا کی Shin Young، جرمنی کی Benteler اور چین کی Fangxin سمیت آٹو پارٹس بنانے والی متعدد عالمی کمپنیوں نے بھی سعودی عرب میں فیکٹریاں قائم کی ہیں۔ ان کمپنیوں کو سعودی حکومت کی جانب سے مختلف مراعات فراہم کی گئی ہیں۔
Ceer کا کہنا ہے کہ وہ 2030 تک مزید پانچ ماڈلز متعارف کرائے گی۔ کمپنی نے ابتدائی طور پر مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ مرکوز کی تھی، تاہم مستقبل کی مکمل لائن اپ میں پلگ اِن ہائبرڈ اور روایتی انجن والی گاڑیاں بھی شامل ہوں گی تاکہ مارکیٹ کی بدلتی طلب کے مطابق حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔
کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2028 سے قریبی علاقائی منڈیوں میں توسیع شروع کی جائے اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک تک رسائی بڑھائی جائے۔
Ceer کے مطابق آنے والے مین اسٹریم ماڈلز کو عالمی ریگولیٹری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جائے گا، تاکہ انہیں مختلف عالمی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے تیار رکھا جاسکے۔
مزید پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں مستحکم
سعودی عرب ماضی میں بھی مقامی آٹو انڈسٹری قائم کرنے کی کوششیں کرچکا ہے، تاہم کئی منصوبے عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔ موجودہ منصوبے کو ایسے وقت میں آگے بڑھایا جارہا ہے جب عالمی آٹو انڈسٹری میں الیکٹرک گاڑیوں اور چینی کمپنیوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث روایتی کار سازوں کو بھی بڑی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔
Ceer کا کہنا ہے کہ وہ اپنی توسیع مرحلہ وار انداز میں کرے گی، کیونکہ نئی آٹو کمپنی کے لیے ایک بڑی غلطی بھی کاروبار پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔