پٹرول سستا کرنے کا نیا فارمولا، کیلیفورنیا نے 15 فیصد ایتھنول والے ایندھن کی منظوری دیدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے 15 فیصد ایتھنول پر مشتمل ایندھن E15 کی فروخت کی فوری اجازت دے دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے سینیٹ بل 795 پر دستخط کیے، جس کے بعد ریاست میں E15 کی فروخت کی آخری قانونی رکاوٹ بھی ختم ہوگئی۔ کیلیفورنیا امریکا کی واحد ریاست تھی جہاں اس زیادہ ایتھنول والے ایندھن کی فروخت کی اجازت نہیں تھی۔
گیون نیوزوم نے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ قانون غیر ضروری رکاوٹیں ختم کرتا ہے جبکہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیار برقرار رکھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے کیلیفورنیا کے ڈرائیوروں کے لیے E15 ایک قابلِ استعمال آپشن بن جائے گا۔
کیلیفورنیا میں پٹرول کی اوسط قیمت اتوار کو تقریباً 6.14 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جبکہ امریکا بھر میں اوسط قیمت 4.44 ڈالر فی گیلن تھی۔
قابلِ تجدید ایندھن بنانے والی کمپنی ایمیٹس کے چیف ایگزیکٹو ایرک میکافی کے اندازے کے مطابق E15 کی منظوری سے کیلیفورنیا میں سالانہ ایتھنول کی طلب میں تقریباً 650 ملین گیلن کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں بڑی ہلچل،تیل پھر مہنگا ہو گیا
انہوں نے کہا کہ ایتھنول کی ہول سیل قیمت تقریباً 2.30 ڈالر فی گیلن ہے، اس لیے اس کے استعمال سے کیلیفورنیا میں پٹرول کے مقابلے میں نمایاں لاگت کی بچت ہوسکتی ہے۔
رینیوایبل فیولز ایسوسی ایشن کے مطابق E15 کی فروخت سے پٹرول کی خوردہ قیمت میں تقریباً 20 سینٹ فی گیلن تک کمی آسکتی ہے اور کیلیفورنیا کے ڈرائیور سالانہ کم از کم 2.7 ارب ڈالر بچا سکتے ہیں۔ یہ اندازہ 2024 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے اور امریکی نیول اکیڈمی کے ماہرین اقتصادیات کی ایک تحقیق کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔
کیلیفورنیا کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس ملک بھر میں پورا سال E15 کی فروخت کی اجازت دینے سے متعلق الگ قانون سازی پر غور کر رہی ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ اور خام تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بھی دباؤ میں ہیں۔ کیلیفورنیا میں پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی سخت ماحولیاتی معیارات، نسبتاً زیادہ ٹیکسوں اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار سمیت مختلف عوامل کے باعث ملک کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہیں۔