آشوب چشم
تحریر:محمد شجاع الدین
Stay tuned with 24 News HD Android App
خون کا رنگ نیلا ، پیلا ، کالا نہیں ہوتا ، سرخ ہوتا ہے ، سرخ ہی رہتا ہے ۔ محاورہ ، خون سفید ہونا سے مراد رگوں میں دوڑتے لہو کی رنگت سے ہر گز نہیں ، اس سے مراد دل میں نرمی یا خلوص باقی نہ رہنا ، محبت، مروت یا اپنائیت کا ختم ہو جانا ، رشتوں اورتعلقات کا احترام یا پاس نہ رہنا اور اپنوں سے دوری یا بے توجہی اختیار کرنا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ معاشرتی و خاندانی اقدار کا دیوالیہ نکل جائے تو رنگ ، نسل ، ذات ، برادری کی پہچان عنقا ہو جاتی ہے ۔ آدمی وفا اور ایفائے وفا کے سب مطالب و معانی بھول کر جانوروں کی سی جبلت اختیار کر لیتا ہے ۔ ہفتہ عشرہ ہوتا ہے کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ سے میاں بیوی اور ان کی 3 بیٹیوں کی لاشیں ملنے کی خبر آئی ۔ صاحب خانہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے ، آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا ۔ ڈاکٹر عمر ، ان کی اہلیہ مہوش اور تینوں بیٹیوں کی بے گورو کفن لاشیں 4 پانچ دن تک گھر کے اندر پڑی رہیں ، کسی نے دروازے پر دستک دی نہ موت کے سائے میں لپٹے گھر کے مکینوں کی خبر لی ۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کو کافی عرصے بیروزگاری کے بعد حالیہ دنوں نجی ہسپتال میں ملازمت ملی تھی ، 9 ستمبر کو ہسپتال سے اپنی پہلی تنخواہ لے کر نکلے تو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا ۔
ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل خانہ کی موت خبر نہیں ہے ۔ خبر تو یہ ہے کہ کوئی ایک رشتے دار بھی مقدمہ درج کروانے کیلئے نہ آیا کیونکہ مہینوں کی بیروزگاری نے لمحہ لمحہ سسکتی زندگی کی آخری پھانک کا رس تک نچوڑ لیا تھا ۔ بھوک کے ہاتھوں مرنے پر مجبور اہل خانہ نے کچن کے کونوں کھدروں میں پڑے ، مٹی میں اٹے روٹی کے آخری ٹکڑے کو بھی پانی میں بھگو کر کھا لیا تھا ۔ ایسے میں مہینوں فاقوں کا شکار رہنے والے مجبور و مقہور ڈاکٹر صاحب کے پاس زمانہ جدید کے احساس سے عاری ، بے حس اور مردہ بہن بھائیوں ، عزیز و اقارب اور دوست احباب کو دینے کیلئے کچھ بھی تو نہیں بچا تھا ۔ ایک پڑوسی خاتون نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کیلئے گزشتہ ہفتہ گھر کا اوون فروخت کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن اوون تو کسی نے نہیں خریدا البتہ کچھ مالی مدد ضرور کی تھی ۔ آخری سانسیں لینے اور آنکھیں موندنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب ، ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچیوں کو ایک لمحے کیلئے یہ خیال تو ضرور گزرا ہو گا ۔
میں کس کے ہاتھ پے اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
المیہ یہ ہوا کہ آج کی نسل اپنے خول میں بند ہو کر رہ گئی ہے ۔ ان کی دنیا موبائل کے اندر سمٹ گئی ہے ۔ نظر اس حد تک سکڑ گئی کہ 6 انچ کی سکرین یا 10 بائی 10 کے کمرے سے باہر دیکھ ہی نہیں سکتی ۔ آڑھی ترچھی لکیریں کھینچنے کی عمر میں واٹس ایپ پرعجیب و غریب رسم الخط میں لکھتے ، مافوق الفطرت گیمز کھیلنے والے بچے ہوں ؟ تعلیم کا حصول پس پشت ڈال کر زیادہ سے زیادہ پیسے کی ہوس میں مبتلا ڈگریوں کا ڈھیر جمع کرنے کے شوقین جوان ہوں ؟ حقوق العباد پورے کرنے کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کیلئے عام الناس کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے والے طالع آزما حکمران ہوں یا پھرشعبہ ہائے زندگی کے کسی بھی پیشے یا سماجی اور معاشی درجے میں کام کرنے والے منظور نظر افراد ؟ زمانہ حال میں ان سے کسی خیر کی توقع بعید از قیاس ہے ۔ انسانی تخلیق کے اصل مقصد اور معاشرتی اقدار سے بے بہرہ ممی ڈیڈی نسل سے کیسا شکوہ ؟ کیسا گلہ ؟ کہ برقی آلات کی میکانکی دنیا نے جب انسانی احساسات ہی مردہ کر دیئے ہوں تو پھر چلتے پھرتے روبوٹ جذبات کی قدر و قضا کیا جانیں گے ؟
آشوب چشم کو عرف عام میں "گلابی آنکھ" کہا جاتا ہے ۔ یہ آنکھ کی بیرونی شفاف جھلی اور پپوٹوں کے اندرونی حصے کی سوزش یا انفیکشن ہے ، آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں ، پانی بہنے لگتا ہے ۔ آنکھوں کی سفیدی میں سرخی، شدید جلن ، خارش، چبھن کا احساس اور روشنی کے سامنے آنے پر تکلیف ہوتی ہے ۔ آنکھوں سے پیلا یا سفید چپچپا مادہ نکلتا ہے ، صبح اٹھنے پر آنکھیں بند یا چپکی ہوئی ہوتی ہیں ۔ سوجن کے باعث پپوٹے سوج جاتے ہیں جبکہ تیز روشنی میں آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔ عام زبان میں اسے اچھوت کی بیماری بھی کہا جاتا ہے ۔ ہوا ، پانی ، خوراک یا جراثیم کے ذریعے پھیلنے والی اس وبا سے بچاو کا طریقہ یہی ہے کہ ہاتھوں کو صابن اور پانی سے بار بار دھوئیں ۔ آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں، متاثرہ افراد کے کپڑے ، تولیے ، تکیے ، عینک استعمال نہ کریں ۔ عام طور پر ٹھنڈے پانی سے ٹکور کرنے یا پھر آنکھیں عرق گلاب یا عرق سونف کے دو چار قطروں سے دھونے کا نسخہ بھی مثبت رہتا ہے ۔ بزرگ کہتے ہیں عرقِ گلاب آنکھوں کی جلن دور کرنے اور انفیکشن کو صاف کرنے میں بہترین ہے ۔ صاف روئی کا پھاہا عرقِ گلاب یا عرقِ سونف میں بھگو کر کچھ دیر کے لیے بند آنکھوں پر رکھیں ، افاقہ ہو گا ۔ واضح رہے کہ اس بیماری میں اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں ، بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکے ہی اس موذی مرض سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
کچھ آج ہی کی خبر کا احوال جانیئے کہ رشتوں کی ناقدر شناسی نے ہماری نوجوان نسل کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ باپ اور بیٹے کے رشتے کے درمیان بھی بے اعتناعی کی ایک خوفناک خونیں لکیر کھینچ دی ہے ۔ ناخلف مگر ممی ڈیڈی کلاس کا نمائندہ بیٹا رشتوں کی تمام تر تقدیس بھول کر مادر پدر آزاد ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) سے پوچھ رہا ہے کہ بوڑھے باپ کو زہر دینے کا کیا طریقہ ہے ؟ بہاولپور کا 17 سالہ نوجوان گرفتار کیا گیا ہے جس نے امریکی ٹی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ ( Breaking Bed ) سے متاثر ہو کر اپنے گھر میں ایک لیبارٹری قائم کر رکھی تھی ۔ بیٹے نے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوایا اور زہر بھی تیار کر لیا تھا ۔ بریکنگ بیڈ ، امریکہ کے جنوبی علاقوں کی ایک مقامی اصطلاح سے ماخوذ ہے، جس کے معنی "جرم کی دنیا میں قدم رکھنا"، "بدکاری یا قانون شکنی کی راہ اختیار کرنا" یا پھر "ہنگامہ کھڑا کرنا" کے ہیں ۔
موجودہ دور کی اسی درفنطنی نے سیدھے سادھے یا قانون کے پابند نوجوانوں کو فانی دنیا کی ملمع کاری کے جال میں کچھ اس طرح پھنسا دیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی راہ پر چلنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں ۔ این سی سی آئی اے نے تفتیش کی تو ملزم بیٹے نے بتایا کہ وہ والد کی روک ٹوک سے ناراض تھا ۔ بد بخت نے پہلی ناکام کوشش کے بعد اے آئی سے دوبارہ زہر دینے کے طریقے پوچھے ۔ والد کو5 گرام زہریلی دوا بھی پلا دی، زہر دینے کے بعد اے آئی سے پوچھتا بھی رہا کہ کیا اس کا باپ مر جائے گا ؟ لسان العصر اکبر الہ آبادی نے کئی زمانے پہلے آنے والے اس وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا ۔ کیا خوب کہہ گئے تھے
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکوں کے ذکر پر یاد آیا کہ اپنی تو عمر بھر کی کمائی انہی ٹوٹکوں کی مرہون منت ہے ۔ بچپن ، لڑکپن ، جوانی اور اب بال سفید ہونے تک ولائتی یا بدیشی نسخہ ہائے زندگی سے پرہیز ہی کیا ۔ ماشااللہ سے اب تک سب دیسی ہی چل رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہمارے دل و دماغ میں برکی حرکیات اور لہروں کے بجائے جذبات کا جوار بھاٹا ہی اٹھتا ہے ۔ دل کی دھڑکن جذبات کے زیرو و بم پر چلتی ہے اور احساسات کا ارتعاش دماغی سوچ و فکر کو مہمیز کرتا ہے ۔ جذبات و محسوسات کا یہی عمل زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ افزائی کرتا ہے ، خیال کو عملی جامہ پہنانے کی تحریک دیتا ہے ، نیرنگی خیال کی یہی مستی شوق آوارگی کو بڑھانے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ خیر کا سبب یہ ہے کہ آج تک روح میکانکی ہوئی نہ جسم سنگ مرر کا مجسمہ بنا ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک جمع ایک کو 2 نہیں کہا ، ہمیشہ ایک جمع ایک کو 11 کہا بھی اور سمجھا بھی ۔
سال 1978 کا سن تھا ۔ آشوب چشم کی وبا نے لاہور شہر کو کچھ اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ ہر دوسرا گھر اس آسیب میں مبتلا ہو گیا ۔ میرے اپنے بھرے پرے گھر میں ابا جی اور میں بچ رہے تھے ۔ ماں جی ، بہنوں اور بھائی سب نے آنکھوں پر سیاہ چشمے لگا رکھے تھے ۔ ہر طرح کی احتیاط ملحوظ خاطر تھی ، مسئلہ یہ بنا کہ کچن کون سنبھالے ؟ سالن بھوننے کی خوشبو تیکھی اور اشتہا انگیز تو ہوتی ہے لیکن جب پیاز، ٹماٹر، لہسن، ادرک اور روایتی گرم مصالحے کھولتے تیل یا گھی میں پکتے ہیں تو بھناہٹ کے ساتھ اٹھنے والا دھواں نتھنوں سے گزرتا آنکھوں میں شدید جلن اور چبھن بھر دیتا ہے ۔ چولہے کی تپش بھی درد بڑھا دیتی ہے ۔
ایسے میں آشوب چشم میں مبتلا خاتون خانہ کا جلتی انگیٹھی کے روبرو ہونا از حد کہ ناممکن ٹھہرا ۔ میں اس وقت نویں جماعت طالبعلم تھا ۔ گھر میں چونکہ میں اور ابا جی ہی بچے تھے ، لہذا چولہا چوکا سنبھالنے کیلئے قرعہ فال میرے نام کا نکلا ۔ سو میں بھی اچھے بچوں کی طرح ماں جی کا ہاتھ بٹانے کیلئے تیار ہو گیا کہ گئے وقتوں کے بچے نخرے نہیں جانتے تھے ۔ بس بزرگوں کی ہاں میں ہاں ملانا ہی ان کا شیوہ تھا ۔ ماں جی کھلے میں بیٹھی ہدایات دیتی جاتیں اور میں کھانا بنانے میں مصروف رہتا ۔ ماں جی کا کہنا ماننے کا فائدہ یہ ہوا کہ انڈا ابالنے سے لے کر ہر قسم کا کھانا بنانے میں مشاق ہو گیا اور آج تک کچن کی محتاجی سے آزاد ہو گیا ۔ سبزی ، دال ، گوشت کی قسم قسم کی ڈش بآسانی تیار کر سکتا ہوں ۔ سادہ چپاتی سے لے کر گول ، چوکور ، پردے والے پراٹھے بنا سکتا ہوں ۔ ابلے چاول سے لے کر پلاو ، بریانی ، زردہ ، حلوہ ، کھیر ، فرنی الغرض کھچڑی کے سوا کچھ بھی تیار کرنے میں مشکل نہیں ۔ ہماری مشرقی روایات ایثار اور قربانی کی پاسداری کا سبق دیتی ہیں ۔ افسوس سب کچھ جذبات و احساسات سے عاری مادی ترقی کی نذر ہو گیا ۔
لکھتے لکھتے لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں رونما ہونے والا دلخراش واقعہ ذہن کی پردہ سکرین پر بجلی بن کر کوند گیا ۔ امریکی شہریت رکھنے والی ایک خاتون نے اپنے 3 بچوں کو آئس کریم میں چوہے مار زہر ملا کر پلا دیا اور بعد میں زہر کھا کر خودکشی کر لی تھی ۔ خاتون نے اپنے شوہرکو بھی زہر دینے کی کوشش کی تاہم وہ محفوظ رہے ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق امریکہ کی چکاچوند چھوڑ کر پاکستان آنے والی خاتون اس قدر شدید ذہنی مسائل کا شکار تھی کہ اعصابی دباؤ اور نفسیاتی عارضے نے رشتوں کی پہچان ہی ختم کر دی ۔ خاتون نے جنونی کیفیت کے تحت ہی یہ انتہائی قدم اٹھایا جس کے نتیجے میں وہ خود اور ان کے تینوں بچے جان بحق ہو گئے ۔ بلند و بالا عمارتوں کے بند کمروں میں مقید انسان جب کھلے آسمان کو دیکھنے اور کھلی زمین پر چلنے کے اثرات سے محروم ہو جائیں تو اعصابی کشمکش عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ رشتوں کے درمیان مکالمے کی جگہ موبائل کی چٹ چیٹ آ جائے ، ایک دوسرے کا لمس محسوس کرنے کے بجائے آدمی بے جان لفظوں کے مرکبات ترتیب دینا شروع کر دے تو جان لیجئے انسان مر گیا ہے ، روبوٹ زندگی کی بے جوڑ گاڑی چلا رہے ہیں ۔
تو صاحب ! آشوب چشم میں اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں ، بزرگوں کے آزمودہ اور مجرب ٹوٹکے ہی اس موذی مرض سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں کیونکہ بزرگوں کے ٹوٹکے نیچر کے قریب تر ہونے کے باعث انسانی زندگی کو حیوانی جبلت سے دور رکھتے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے ، آئیے ! زمانہ حال کی غلطیوں پراستغفار کرتے ہوئے قدرت کے آفاقی قواعد و ضوابط کو گلے لگا لیں ۔ آنے والی نسلوں کی عاقبت سنور جائے گی ۔ حضرت اقبال کہہ گئے
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لئے
قطرے گرے جو میرے عرق انفعال کے
رہے نام اللہ کا