پی ٹی آئی احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر بھی متحرک ہو  سکتے ہیں

تحریر: عدیل احمد

Sep 23, 2026 | 18:37:PM
پی ٹی آئی احتجاج کی آڑ میں شرپسند عناصر بھی متحرک ہو  سکتے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ایک احتجاج، ایک سیاسی ریلی اور ہزاروں افراد کا ہجوم، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بڑے اجتماعات کے دوران صرف سیاسی سرگرمیاں ہی جاری رہتی ہیں؟ یا پھر اُسی ہجوم، اُسی افراتفری اور اسی نقل و حرکت کی آڑ میں کچھ ایسے عناصر بھی سرگرم ہو سکتے ہیں، جن کا مقصد احتجاج سے کہیں زیادہ خطرناک ہو؟ 

جی ہاں ،،، پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور خدشہ ہے کہ مارچ کے دوران غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث نان اسٹیٹ ایکٹرز بھی کہیں سرگرم نہ ہو جائیں۔

بڑے اجتماعات میں لوگوں کی مسلسل آمد و رفت، سڑکوں کی بندش، مختلف راستوں کا استعمال اور شناخت کے عمل پر بڑھتا ہوا دباؤ، یہ تمام عوامل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج کی آڑ کا سب سے بڑا فائدہ سمگلرز اٹھاتے ہیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، جن پر سیاسی جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں، بغیر کسی چیکنگ کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں داخل ہو جاتی ہیں۔ اُن گاڑیوں کے خفیہ خانوں میں بند کروڑوں روپے کا غیر قانونی اسلحہ اور منشیات خاموشی سے اپنی منزل مقصود تک پہنچا دی جاتی ہیں۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ،،، اس پورے کھیل کا سب سے خطرناک اور خوفناک پہلو کچھ اور ہے۔ 

جب ہزاروں لوگ راستوں پر مارچ کر رہے ہوتے ہیں تو سیکیورٹی فورسز کے لیے ہر ایک چہرے کو پہچاننا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر انتہائی مطلوب دہشت گرد اور شرپسند عناصر مظاہرین کا روپ دھار لیتے ہیں۔ وہ عام شہریوں کے درمیان گھس کر ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے ہیں اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر محفوظ ٹھکانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

ایک ہجوم، ہزاروں چہرے، سیکڑوں راستے اور سیکیورٹی کے لیے چند اہم سوالات کہ کون کہاں سے آیا؟ کس مقصد کے لیے آیا؟ اور کیا کوئی شخص اس ہجوم کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمی انجام دینے کی کوشش تو نہیں کر رہا؟ سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ صورتحال بہت مشکل ہوتی ہے۔ اگر وہ ہجوم کو سختی سے روکیں تو تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر وہ نرمی برتیں، تو ملک دشمن عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 

احتجاج کی یہ حفاظتی ڈھال مجرموں کو وہ آزادی فراہم کرتی ہے جو انہیں عام دنوں میں کبھی نہیں مل سکتی۔ اس لیے نان اسٹیٹ ایکٹرز ایسے احتاجوں اور ریلیوں کے درمیان اپنے مضموم مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: