انگریز کا پولیس ایکٹ اور 2002 کے انتطامی یونٹ  

Sep 23, 2026 | 16:38:PM
انگریز کا پولیس ایکٹ اور 2002 کے انتطامی یونٹ  
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

انگریز کا سورج جب غروب نہیں ہوتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ انگریز 100 سالے آگے کی پلاننگ کرتا ہے ، ہندوستان میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے انگریز نے پرانے ضلع داری نظام کو تبدیل کرکے پنجاب میں 1861 میں پولیس کا نطام یا ایکٹ لاگو کیا۔ 

اس ایکٹ کے مطابق ایک ایس ایچ او یا انسپیکٹر ہی سارے نطام کی بنید اور ذمہ دار تھا اور آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ یہ نطام انگریز کے یہاں سے چلے جانے کے بعد بھی چلتا رہا جانتے ہیں کب تک 2002 تک یعنی 55 سال تک انگریز کا یہی نظام چلا لیکن پھر مشرف دور میں جب شہروں کی آبادیاں بڑھیں تو یہ احساس ہوا کہ اب اس نطام کو بدلا جائے تو تھانوں سے ہٹ کر سی آئی اے کرائم انویسٹی گیشن ونگ بنا دیا گیا تاکہ منظم کرائم کو کم کیا جاسکے سی آئی اے عام  طور پر کام کرتی تھی، جس کا بنیادی کام سنگین نوعیت کے جرائم پیشہ افراد ، چوروں اور ڈاکوؤں کے نیٹ ورک کو توڑنا اور تفتیش کرنا تھا۔ 
اس کے بعد اصلاحات کی بڑی لہر 2002 میں اُس وقت آئی جب اس ڈیپارٹمنٹ میں انقلابی تبدیلی لائی گئی, اس نئے انقلاب کے نتیجے میں پولیس کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کردیا گیا یعنی اپریشن اور انویسٹی گیشن ونگز بنا دئیے گئے اپریشن کا کام گشت کرنا ،امن و اماں کی صورتحال کو دیکھنا اور جرائم کو کنٹرول کرنا تھا جبکہ انویسٹی گیشن کا کام جُرم کے بعد شفاف تحقیقات اور مجرموں کا کھوج لگانا تھا اور پھر اسے او سی یو آرگنائزڈ کرائم یونٹ بنادیا گیا ۔
ایلیٹ فورس بنائی گئی اور یوں یہ پولیس کی کمانڈو فورس بن گئی، جو  نائن الیون اور دہشت گردی کی لہر کے ہائی پروفائل آپریشنز اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے متحرک تھی ،اس کے بعد سی ٹی ڈی کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بنایا گیا جسے اس کے بعد ڈولفن اور پیرو فورس بنی ، ایس پی یو اور سی پیک فورس بنائی گئی، سیف سٹی پراجیکٹ آیا اور اب سی سی ڈی بنائی گئی ہے ۔ 

اس ساری کہانی بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اعتراض اٹھاتے ہی کہ چھوٹے یونٹس بنا کر کیسے بہتری آئے گی، وہ صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ہی پڑھ لیں تو سمجھ آئے گی کہ ایسا کیوں ضروری ہے، کیا آج بھی صرف ایک ایس ایچ او وہ سارے کام کر سکتا ہے جو یہ سب یونٹ مل کر اپنی اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کر رہے ہیں، زمانہ جدید ہوتا ہے تو اس کے تقاضے بھی جدیدیت مانگتے ہیں، اس کا مطلب پرانے نظام یا سسٹم کی بندش نہیں سسٹم کی اپ گریڈیشن ہوتی ہے ،اس سے کمپیوٹر کے ڈیش بورڈ کی فائلز کو آرگنائز کرنے جیسا کام کیا جاتا ہے،سسٹم کو ری فریش کیا جاتا ہے نئے سسٹم کو پرانے سسٹم کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے تو نطام اپنی آب و تاب کو برقرار رکھتا ہے وگرنہ سسٹم کوئی بھی ہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے ۔

Amir Raza Khan

عامر رضا خان سٹی نیوز نیٹ ورک میں 2008 سے بطور سینئر صحافی اپنی خدمات سرانجام دے رہے۔ 26 سالہ صحافتی کیریر مٰیں کھیل ،سیاست، اور سماجی شعبوں پر تجربہ کار صلاحیتوں سے عوامی راے کو اجاگر کررہے ہیں