بادشاہت ، آمریت اور جمہوریت کیا چاہیے ؟

تحریر؛ عامر رضا خان 

Sep 22, 2026 | 18:42:PM
بادشاہت ، آمریت اور جمہوریت کیا چاہیے ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

یونان کے فلسفی بہت دور اندیش تھے سقراط ، افلاطون ، ارشمیدس ، ارسطو یہ سوچ کا ہنر جانتے تھے یا یوں کہہ لیں کہ انہیں سوچنا آتا تھا اب آپ پوچھیں گے کہ سوچتے تو ہم بھی ہیں پھر اس میں ہنر والی کیا بات ہے تو جناب من ہم سوچتے ضرور ہیں صرف اپنی ضروریات کی حد تک یا زیادہ سے زیادہ اپنے اردگرد لوگوں کے بارے میں کسی کے بارے منفی اور کسی کے بارے میں مثبت لیکن یہ فلسفی جنہیں ہم حکیم کے ناموں سے پکارتے ہیں سوچ کے دائرے کو اس حد توسیع کرتے تھے کی دائرہ لہروں کی مانند سفر کرتا ہوا ایک زمانے سے دوسرے زمانے اور پھر انسانی تاریخ پر اثر انداز ہوتے ہیں اس کو آسان الفاظ میں سمجھایا جائے تو انسان صدیوں سے درختوں پر سے سیب گرتے دیکھ رہا تھا لیکن یہ خیال صرف نیوٹن کے دل و دماغ میں پیدا ہوا کہ یہ سیب نیچے کی جانب کیوں آیا اوپر کیوں نہیں گیا اور یوں کشش ثقل کا قانون دریافت ہوا جس کے باعث انسان آج چاند سے آگے سورج اور اس سے آگے ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے ، یوں ارسطو ، افلاطون اور سقراط جیسے مفکرین کی فکر نے انسان کی آزادی حقوق اور اس کی مرضی اُس کی حکومت جیسے خیالات کو جنم دیا  جن کے باعث انسان نے بادشاہی نظاموں اور آمریت کے بجائے جمہوری سوچ کو پروان چڑھایا اور آج دنیا میں مقبول ترین اور قابل قبول یہی طرز حکومت ہے ۔
یہ سوچ تھی کیا یہ سوچ تھی فرد واحد سے طاقت کے محور کو ہٹا کر لوگوں کے نمائندوں تک اختیارات اور فیصلوں کے اختیار کو تقسیم کرنا اور آج جو ہم دنیا کے گلوب پر جا لائنز دیکھ رہے ہیں ہر ایک ملک کے اندر بیسیوں یونٹس دیکھ رہے ہین یہ سب اسی سوچ کا نتیجہ ہے جس کے سوچنے پر فلسفیوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا رہا اور سزائیں دی جاتی رہیں کسی کو قتل کیا گیا اور کسی کو زہر کا پیالہ پینا پڑا لیکن اسی زہر نے انسان کو جینے کا ہنر سکھایا ۔
ہم آج جو پاکستان میں چھوٹے یونٹس اور علاقائی یونٹس کی بات کر رہے ہیں اس کے پیچھے بھی یہی بڑا فلسفہ کارفرما ہے کہ لوگوں کو ان کے فیصلے اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار دیا جائے وہ مسئلے جن کے حل کے لیے لوگوں کو کشمور سے کراچی ، راجن پور سے لاہور کرک سے پشاور اور حضدار سے کوئٹہ جانا پڑے وہ اپنا مسئلہ کسے بیان کریں اسے تو دو روز اور ہزاروں روپے درکار ہوں گے اس کے بعد وہ بادشاہ سلامت کے محل پر زنجیر عدل بجائے تو بادشاہ کی مرضی ہے کہ وہ جھروکے سے درشن کرائے یا نا کرائے اس پر ستم یہ بھی کہ مرد تو کسی نا کسی طور یہ لمبے فاصلے طے کرلیں گے خواتین کہاں جائیں کس کے در دولت سے سر ٹکرائیں اتنے بڑے انتطامی یونٹس کے باعث  انسانی چھوٹے چھوٹے مسائل بھی بڑے یا یوں کہیے پہاڑ معلوم ہوتے ہیں جنہیں سر کرنے کے لیے انسان کو دولت،  صحت اور سفارش درکار ہوتی ہے ، یہ وہ فلسفہ تھا جو یونانیوں کو پولٹ بیرور یعنی عمرانی طرز نظام کی جانب لے گیا عوامی نمائندے عوام کے ووٹوں سے ہوں گے تو سنانے والے آسانی سے سنیں گے اور مسائل کا حل بھی نکالیں گے ، انتطامی یونٹس کو بناتے ہوئے  اگر لوگوں کی سہولیات کو مد نظر رکھا جائے تو یہ ایک بڑی انتطامی تبدیلی ہو گی جو پاکستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگی ایک ایسے دور کا آغاز ہوگا جس میں غریب کی بھی سنی جائے گی اسے اپنے حقوق کے لیے کسی تحت لاہور ، کراچی ، کوئٹہ ، پشاور کے محلات مین عزت نفس کو گرانا نہیں پڑے گا وہ سر اٹھا کر جینے کا ہنر سیکھ جائے گا ، اور یہ سب جاننے کے بعد مین آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو براے انتظامی یونٹس میں بادشاہوں جیسی بادشاہت آمرانہ سوچ چاہیے یا جمہوریت کیا چاہیے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: